کھیل

فادرس آف ریورس سوئنگ ہی نہیں بلکہ پاکستانی کرکٹ کے بھی فادر ہیں سرفراز نواز

پاکستان کے خطرناک گیند باز رہ چکے سرفراز نواز کو فادرآف ریورس سوئنگ کہا جاتا ہے ، لیکن اگر انہیں فادر آف پاکستانی کرکٹرس بھی کہا جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا ۔

پاکستان کے خطرناک گیند باز رہ چکے سرفراز نواز کو فادرآف ریورس سوئنگ کہا جاتا ہے ، لیکن اگر انہیں فادر آف پاکستانی کرکٹرس بھی کہا جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا ۔ دسمبر 1948 میں لاہور میں پیدا ہوئے سرفراز نواز کا کرکٹ میں آنے کا بھی دلچسپ قصہ ہے ۔ ان کے والد کنسٹرکشن کا کام کرتے تھے اور کنٹریکٹر تھے ۔ کنبہ کے کام میں ہاتھ بٹانا سرفراز نواز کیلئے بھی لازمی تھا ، اس لئے انہوں نے جب کنسٹرکشن کا کام شروع کیا تو انہیں پہلا پروجیکٹ ایک کرکٹ گراونڈ کی بلڈنگ بنانے کا ملا ۔
یہ بات 1965 کی ہے اور انہیں دونوں ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑ گئی ، جس کا کاروبار اور کام کاج پر بھی کافی اثر پڑا اور اسی وجہ سے سرفراز کا دھندہ بھی چوپٹ ہوگا ۔ وہ اپنے پروجیکٹ کے سلسلے میں اکثر کرکٹ میدان پر جاتے تھے۔ اسی دوران کچھ ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ سرفراز وہاں کھیلنے والے کچھ لڑکوں ساتھ شامل ہوگئے ۔ اس وقت کے یہ لڑکے بعد میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بڑے بڑے کھلاڑی بنے ۔ ان میں آفتاب گل ، وسیم راجا ، سلیم الطاف ، شفیق احمد اور نعیم الطاف جیسے نام شامل ہیں ۔
اس کے بعد سرفراز کرکٹ میں آگئے تو انہوں نے سب سے پہلے موجانگ لنک کرکٹ کلب میں شمولیت اختیار کی اور ساتھ ہی اپنے سرکاری کالج میں بھی کرکٹ کھیلنا شروع کردیا ۔ اپنی کارکردگی کے دم پر کالج اور پنجاب یونیورسٹی میں کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے ۔ سرفراز نواز نے 1967 میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبو کیا ۔ اس کے بعد سے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا ۔ 1968-69 میں میلبورن کرکٹ کلب پاکستان کے دورے پر آیا ، تو اس کے کپتان روجر پرائیڈیکس کو نیٹ پر پریکٹس کرانے سرفراز نواز گئے ، ان کی گیند بازی سے وہ کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے سرفراز کو نارتھمپٹن شائر کی جانب سے کھیلنے کی دعوت دی ، لیکن وہ نہیں گئے ۔
اس کے بعد انہوں نے 1968-69 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں ڈیبو کیا اور پہلی سیریز میں 34 وکٹ لے کر اپنی ٹیم کو پہلی مرتبہ کامیابی دلائی ۔ ان کی گیند بازی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے گیند کی ہر کنڈیشن میں ریورس سوئنگ کرانے کی تکنیک کی ایجاد کی تھی ، اس لئے انہیں فادر آف ریورس سوئنگ بھی کہا جاتا ہے ۔
سرفراز نواز نئی گیند ہو یا پھر پرانی گیند ، کسی سے بھی اتنی عمدہ ریورس سوئنگ کراتے تھے کہ اچھے اچھے بلے باز چکرکھا جاتے تھے ۔ انہوں نے اپنی اس تکنیک سے عمران خان کو بھی واقف کرایا ، جنہوں نے بعد میں کافی شہرت حاصل کی ۔ عمران خان نے اپنی تکنیک کو وسیم اکرم اور وقار یونس تک بھی منتقل کیا ۔ جس سے انہوں نے پاکستان کیلئے کافی شہرت حاصل کی ۔
یہی نہیں ریٹائرمنٹ کے بعد سرفراز نواز پاکستانی ٹیم کے کوچ بنے ، تو انہوں نے شعیب اختر ، اظہر محمود ، شبیر احمد اور عبد الرزاق جیسے کھلاڑیوں کو نکھارا ۔ ان کھلاڑیوں نے اپنے نام کا ڈنکا بجایا ۔ ان کی شادی اداکارہ رانی سے ہوئی تھی ۔ شادی کے بعد اہلیہ کے ساتھ فلموں میں بھی کام کرنے کا آفر ملا تھا ، لیکن انہوں نے منع کردیا ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close