دہلیہندوستان

فتح پوری سے لال قلعہ تک خواتین نے مارچ نکالا

نئی دہلی: مسلم راشٹریہ منچ دہلی پردیش رہنما جناب اندریش کمار ، گریش جویال ، محمد افضال اور شہناز افضال سمیت کئی سماجی کارکنان کی قیادت میں آج فتح پوری مسجد سے لال قلعہ تک ایک پرامن ترنگا یاترا ”میں آزاد ہوں“ کے نام سے نکالا گیا ۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے شرکت کرتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا اظہار منچ اور میڈیا برادران سے سامنے کیا۔ ان باتوں کی معلومات مسلم راشٹریہ منچ کے قومی تنظیمی کنوینر جناب گریش جویال نے اپنے جاری ایک بیان میں کیا ہے۔ جناب گریش جویال نے بتایا کہ اس پروگرام کو جناب اندریش کمار نے خطاب کیااور بتایا کہ آزاد رہنے کی انسانی فطرت شروع سے ہی ہے۔ کئی آزادیاں ہمیں بیشک بگاڑ اور فتنے کے راستے پر رکھ کر شیطان کے ہاتھوں کا کھلونا بنا دیتی ہیں، لیکن جن آزادیوں کا استعمال روحانی کتابوں کی روشنی میں محسوس کی جاتی ہے وہ آزادی انسان کو انسانیت کی منزل تک پہنچانے میں کارگر ثابت ہوتی ہیں۔
غلامی ایک ابھشاپ ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو زندہ قبر میں جانے سے آزادی دلائی، غلاموں کو خرید کر آزاد کرایا۔ نشے کی جکڑن سے پورے عرب کو شراب جوا اور تمام طرح کے نشے سے آزاد کرایا۔ اسی طریقے سے ہمارے ہندستانی بزرگوں نے جن کی تعداد دو کروڑ بہتر لاکھ کے لگ بھگ ہے جان دے آنے والی نسلوں کو آزادی کی سانس لینے کے لئے تا عمر غیر ملکی حکومتوں کا خاص کر انگریزوں کی مخالفت کی۔ اور اپنی جانوں کی قربانی دی۔ اسی طرح سے 1700 کے لگ بھگ سادھو اور فقیروں کی ٹولی نے بھی اپنے مادر وطن ہندستان کو غلط باتوں اور غلط فیصلوں کے لاگو ہونے سے آزاد کیا۔ کئی بار تو کچھ فقیر بنتے جو ہر غلط کام کی مخالفت کرنے کے لئے مستعد رہتے تھے۔
گوالیار میں کچھ مرزا ہوتے تھے جو کسی کے ساتھ بھی ظلم کر رہا ہو تو اسی کو سزا دیکر خود کو جیل جانے کے لئے تیار رکھتے تھے۔ آزادی کی چنگاری ہندستان میں ہمیشہ بھبکتی رہی ، اور وقت وقت پر جوالا کا روپ لے کر ظلم کو بھسم کرتی رہی ہے ۔ انسان اپنے بابا حضرت آدم سے جن خاصیتوں اور جن خوبیوں کے ساتھ اللہ نے بنا کر بھیجا تھا انسان میں ہمیشہ وہ ان کی رچنا کی خود بھی آزاد رہنا اور دوسروں کو بھی آزادی کا احساس کرانا۔ ساتھ ہی خدا کی باقی سب مخلوق کے لئے دعا اور دوا بن کر کام کرنا خود کو اچھائی اور نیکی سے جوڑ کر اپنے اخلاق اور کردار سے دوسروں کو راستہ دکھانا۔ یہ سب چیزیں جنم جات انسانوں میں موجود ہیں۔ پر ہم سب کو پتہ ہے کہ شیطان ہمارا امتحان لے رہا ہے اور حضرت آدم کے سنتانوں کو بہکانے کا عہد لیا ہوا ہے۔ ہمیں کچھ چیزوں سے بچنا ہوگا ، حضرت آدم کے اولاد کو ہرانے کا جس کو انسا ن بڑی خوشی سے لے کر ڈھوتا ہے اور اس کا نام ہے خود غرضی۔ ہم خود غرض نہ بنیں۔ جس دن ہم خود غرض بننا بند کردیں گے اس دن ہم شیطان کے غلامی سے آزادہو جائیں گے۔ صحیح معنوں میں ہماری زندگی میں آزادی آئے۔ اس کے لئے ہمیں جکڑن سے آزاد ہونا ہوگا ۔ تمام طرح کی غلامی سے آزاد ہونا ہوگا تاکہ ہمارے اندر کی آزادی نئی اونچائیوں کو چھو سکے ۔ کوئی جکڑن میں نہ رہے ، اپنی لاعلمی کے، کوئی غربت کی غلامی میں نہ رہے ہماری ناجائز فتنوں کے۔ اس کے لئے ہر ہندستانی کو جدوجہد کرنے اور ہر انسان کو آزاد رہنے کا عہد کرنا ہوگا۔ 15اگست کو ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے تو آزاد ہوگیا۔ پر ہم اپنی برائیوں اپنی لاعلمی ، خود غرضی سے کب آزاد ہونگے، اور کب دوسروں کو آزاد کرانے میں مدد کریں گے ، اسی پر سبھی بھارتیوں کو مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کرکے کام کرنا ضرور ی ہے۔ اور اس کے لئے بھارتیوں کو آزاد کرانا پڑے گا۔ نفرتوں سے آزاد کرنا پڑے گا اور بھرم سے۔ ڈر صرف دنیا میں خدا کا رہے اور اپنی غلط نظریوں کا ڈر رہے اس کے علاوہ کوئی اور ڈر نہ رہے۔ ڈر اور نفرت کی وجہ سے پرایا پن ہوتا ہے اس کے لئے جد وجہد بہت ضروری ہے۔ مسلم راشٹریہ منچ جیسی تنظیموں نے نفرت ڈر اور بھرم کو بھارتیوں میں ختم ہو اس کے لئے سولہ سالوں سے جدوجہد کی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close