اسلامیات

فتنۂ ارتداد

(تنظیم ائمہ مساجد پٹنہ کے زیر اہتمام فتنہ ارتداد سے متعلق ۵،۶؍ نومبر کو ہونے والے اجلاس کے موقع سے خصوصی تحریر)


مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
اسلام مخالف طاقتیں روز اول سے اس کوشش میں رہی ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو دین سے بیزار کر کے راہ ہدایت سے ہٹا کر راہ ضلالت پر ڈال دیا جائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایمان قبول کرنے والوں پر ظلم وستم کے پہاڑ اسی لیے توڑے جاتے تھے کہ وہ کسی طرح کلمہ کا انکار کرکے پھر سے ضلالت وگمراہی اور شرک وبت پرستی کی راہ پر لگ جائیں، لیکن یہ کام اس دور میں ممکن نہیں ہو سکا؛ کیوں کہ جام وحدت پی کر جو ایمان ویقین ان کے سودائے قلب میں جاگزیں ہو گیا تھا اور معرفت الٰہی کی جو لذت انہیں ملی تھی، اس نے اس قدر انہیں سرشار کر دیا تھا کہ ایمان کاسرور کسی بھی ظلم وستم سے دور نہیں ہوسکا، بعد میں مسیلمہ کذاب کے زمانہ میں خود اس نے اورجھوٹے مدعیان نبوت ومہدیت نے ایک شیطانی نظام کے تحت مسلمانوں کو برگشتہ کرنے کا کام کیا ، فرقۂ باطنیہ کے عروج نے کتنے ایمان والوں کو موت کے گھاٹ اتارا، اور کتنوں کو مصنوعی جنت کا خواب دکھا کر ایمان واسلام سے دور کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
ہندوستان میں حزب الشیطان نے اس مہم کے ذریعہ بھولے بھالے اور سیدھے سادے مسلمانوں کو اپنا شکار بنایا، قلوب میں شکوک وشبہات پیدا کرکے مسلمانوں کو دین سے برگشتہ کرنے اور اسلامی احکام ومعتقدات پر اعترضات کرکے اس کی حقانیت پر سوالات کھڑے کیے ، کبھی نیچریت نے زور پکڑا، کبھی حدیث کا انکار کیا گیا اور کبھی اسلام کے سارے احکامات وجزئیات کو قرآن کریم تک محدود کر دیا گیا ، ہندوستان سے باہر متشرقین نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور بزعم خود علمی انداز میں اسلام کے مسلمات کو اعتراضات کا نشانہ بنایا، ہندوستان کا وہ طبقہ جو ہندوستان سے آکسفورڈ ، کیمرج اور دوسری یورپی درسگاہوں میں حصول تعلیم کو فخر ومباہات کا ذریعہ سمجھتا تھا اور مغرب سے آنے والی ہر ہوا ان کے دماغ کو تروتازہ رکھتی تھی، متشرقین کے احساسات وخیالات اوران کی غلط فہمیوں پر مبنی تخیلات وتحقیقات کو ہندوستان بر آمد کر لیا اور اپنی ہمہ دانی کے زُعم میں اسے ہندوستان میں تیزی سے پھیلانے کا کام کیا، اس طرح ہندوستان کی حد تک متشرقین یورپ کی ضرورت باقی نہیں رہی، وہاں کے بیش تر فضلاء اور فارغین نے مرعوبیت کے زیر اثر متشرقین کے شکوک وشبہات پھیلانے کے کام کو اپنے ذمہ لے لیا ، اب نقل (قرآن وحدیث) کے بجائے عقل میزان ہو گئی اور جو بھی چیز کھوپڑی میں نہیں سماسکی، اس کا انکار کیا گیا اور بڑی تعداد میں مسلمان اس سے متاثر ہوئے، روس کے انقلاب کے بعد ایک بڑا طبقہ مارکسزم اور لینن واد کے زیر اثر گیا، جس کی وجہ سے مارکسی اور ترقی پسند ادب نے یہاں فروغ پایا ، معاش کے حصول اور سرمایہ دارانہ نظام کو معطل اور کالعدم کرنے کے چکر میں مذہب بیزاری ، دین سے دوری ، اس قدر عام ہوگئی کہ دین ومذہب، خدا ورسول ، جنت وجہنم ، تقدیر خیر وشر کا تصور ذہن سے نکل گیا ، اس شجر خبیث سے جو سلسلہ چلا اس نے دہریت اور خدا کے تصور کے بغیر ساری کائنات کوعناصر میں ظہور ترتیب کا نتیجہ قراردیا ، اس لیے اس دور کے بہت سے ادبا، شعراء اور مفکرین نے مرنے کے بعد دفن ہونے کے بجائے، ’’پنج تنر میں ویلین‘‘ ہونے کے لیے اپنے کو آگ کے حوالہ کرنے کی وصیت کی اور دنیاہی میں ان کو آگ نے جلا کر نمونۂ عبرت بنا دیا ، فکری ارتداد کا یہ سلسلہ مختلف عنوانوں سے آج بھی جاری ہے، بقول حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، ’’ارتداد دبے پاؤں آتا ہے، غیر محسوس طریقہ پر داخل ہوتا ہے اور ایسا میٹھا زہر بن کر حلق سے اترتا ہے کہ زہر کھا کر بھی انسان تحسین وتعریف کے جملے کہتا ہے۔‘‘
ایک دوسرے طبقہ نے ارتداد کے جراثیم، مذہب کی چادر اوڑھ کر پھیلانا شروع کیا، مہدویت اور قادیانیت کی تحریک نے ختم نبوت کے عقیدے پر چوٹ کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے چیلوں نے ارتداد کی نئی مہم شروع کی، یہ مہم مذہب کی آڑ میں شروع کی گئی تھی؛ اس لیے زیادہ خطرناک تھی، چنانچہ مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ، حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ ، قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ وغیرہ نے اس کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری توانائی لگادی، حضرت مونگیری کا یہ جملہ ایک زمانہ میں زبان زد خلائق تھا کہ ’’قادیانیوں کے خلاف اتنا لکھو اور اتنا چھاپو اور اس قدر تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح اٹھے تو اس کے سرہانے قادیانیوں کے خلاف کوئی نہ کوئی رسالہ اور کتابچہ موجود ہو‘‘، علماء کی جد وجہد نے کام کیا، اس فتنہ کے سیلاب بلا خیزپر بند باندھا گیا، اس کی طغیانی میں کچھ کمی آئی ہے، پاکستان میں اسے پارلیامنٹ کے ذریعہ غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے باوجود اس فتنہ کا پورے طور پر قلع قمع اب بھی نہیں کیا جا سکاہے، اور انگریزوں کی یہ کاشت امریکہ ، برطانیہ ہی میں نہیں، ہمارے ملک میں بھی اپنے قدم جمانے میں لگی ہوئی ہے، اس کے عبادت خانے مختلف شہروں میں موجود ہیں، اس کے مکتبے اور رسائل اس کے معتقدات کو پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔
قادیانیت ہی کی ایک شاخ شکیل بن حنیف کا فتنہ ہے، جوان دنوں یونیورسٹی اور کالج کے طلبہ میں تیزی سے برگ وبار لا رہا ہے، شکیل بن حنیف (ولادت ۱۹۶۸) عثمان پور رتن پورہ دربھنگہ میں پیدا ہوا، تعلیم انجینئرنگ کی پائی، اس نے پہلے لکچھمی نگر دہلی میں ایک مکان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور اب ان دنوں اورنگ آباد شہر سے باہر ’’پڑے گاؤں‘‘ میں جا کر پڑگیا ہے، رحمت نگر کے نام سے پوری کالونی پولیس اکیڈمی کے قریب بنا لیا ہے اور جس طرح قادیانی جال میں پھانس کر قادیان لے جاتے ہیں اسی طرح یہ اپنے ماننے والوں کو اورنگ آباد بلاتا ہے، اور ذہنی تطہیر کے مرحلہ سے گذارتا ہے، یہ فتنہ اس قدر بڑھ رہا ہے کہ پورا ہندوستان اس کی لسٹ میں ہے ، جن صوبوں کی رپورٹیں ہمارے پاس دستیاب ہیں ان میں اتر پردیش کے لکھنؤ، کان پور، اناؤ ، بنارس، دیوریا، گورکھپور، مئو ، گھوسی، بہرائچ، اعظم گڈھ، جون پور، الٰہ آباد، فتح پور، سلیم پور، گریٹر نوئیڈا، آگرہ، سدھولی۔ بہار میں پٹنہ، پھلواری شریف، دانا پور، عثمان پور، سبزی باغ، مظفر پور، بیگو سرائے، گیا ، دربھنگہ ، سہرسہ، مدھوبنی، موتی ہاری، پورنیہ، ارریہ ، کٹیہار، کشن گنج، سیوان ، گوپال گنج، چھپرہ۔ جھارکھنڈ میں گریڈیہہ، رانچی، دیو گھر ، ہزاری باغ، دھنباد، مدھوپور اور بوکارو۔ مدھیہ پردیش میں بھوپال، ہردا، چندوہری گنہ اشوک نگر، گوالیار، جبل پور۔ راجستھان میں جے پور، کوٹہ، دھولی پور، رام گڈھ مور، جگت پورا، سیکر، فتح پور شیخا وائی۔ مہاراشٹر میں ممبئی، مالونی، جوگیشوری اورنگ آباد، احمد نگر جلگاؤں ، دھولیہ، پونہ، شولا پور، عثمان آباد۔ چھتیس گڈھ میں رائے پور۔ کرناٹک میں بنگلور، میسور، گجرات میں سورت، آنند ، احمد آباد۔ مغربی بنگال میں کولکاتا۔ اترا کھنڈ میں دہرادون، آندھرا پردیش میں نیلور، وجے واڑہ، انگول۔ تلنگانہ اسٹیٹ میں حیدر آباد ،ورنگل،کاماریڈی، نظام آباد، کھمم کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں، یہ کل تیرہ صوبے ہیں، جن کی رپورٹ اعداد وشمار کے ساتھ کل مشاورتی نشست میں پیش کی گئی تھی، اس رپورٹ کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے وہ حصے جو ہندی اور اردو بولتے ہیں،ان صوبوں میں اس فتنہ کا اثر زیادہ ہے، فتنہ کے شکار زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کی معلومات حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مہدیٔ موعود کے بارے میں کم ہے یا بالکل نہیں ہے ، اس کی سازش کے شکار نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ زیادہ ہو رہے ہیں، یہ لوگ مذہبی لبادے میں ملبوس ہوتے ہیں اس لیے انکے دام فریب میں پھنسنے والے ان کو مذہبی شخصیت سمجھ کر ان کے قریب ہوتے ہیں اور پھر وہ اپنے ایمان سے دستبردار ہوجاتے ہیں، قادیانیت کی طرح یہ فتنہ بھی دین وایمان سے دور کرنے کا سبب ہے اور شکیل بن حنیف اور خود ان کے ماننے والے مرتد ہیں،ملک کے بڑے اداروں کا یہی فتویٰ ہے ۔
ابھی دو سال قبل ایک مذہبی خانوادہ میں نکاح پڑھانے کے لیے جانا ہوا، ایک بڑے عالم بھی تشریف لے گیے تھے، نکاح سے قبل خبر ملی کہ یہ لڑکا شکیل بن حنیف کا مرید ہے، بلا کر حضرت نے بہت سمجھایا ، مہدی موعود کی علامت والی حدیثیں بھی سنائیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوا، مجبورا ہمیں اس نکاح کو روک دینا پڑا، حضرت مولانا جب کوئی حدیث سناتے تو وہ کہتا کہ یہ علامت شکیل بن حنیف میں پائی جا رہی ہے، بالآخر وہ گاؤں چھوڑ کر شکیل کے پاس چلا گیا ، یہ ایک واقعہ ہے، لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے، کہ اس کا فتنہ دیندارمسلم گھرانوں تک پہونچ رہا ہے، اس لیے اس کے تعاقب کی سخت ضرورت ہے، واقعہ یہ ہے کہ فتنوں کے اندھیرے ہماری دیواروں تک پہونچ گیے ہیں، اور ہمارے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔
اس لیے اس فتنہ کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہرسطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ہمت اور ثابت قدمی کے ساتھ اہل خانہ کی فکری وایمانی تربیت اس انداز میں کرنی چاہیے کہ وہ فتنوں سے با خبر رہیں، تاکہ وہ ان کے جال میں نہ پھنسیں، جن علاقوں میں فتنے پھیل رہے ہیں، اس کا جائزہ لے کر علماء، ائمہ مساجد ، مذہبی تنظیموں کو متوجہ کیا جائے، تاکہ اس فتنہ کے تدارک کے لیے وہ آگے آسکیں۔ بچوں کو فکری ارتداد سے بچانے کے لیے انہیں مشنری اسکولوں اور ایسے اداروں میں پڑھانے سے بھی گریز کرنا چاہیے، جہاں دیوی دیوتاؤں کی پوجا ، وندنا ، یوگا، پرارتھنا،ان کی روٹین کا حصہ ہو اور جہاں عیسائیت اور ہندوازم کو قومی ثقافت وکلچر ، تہذیب ووراثت کا حصہ بتاکر بچوں کے معصوم ذہنوں کو زہر آلود کیا جا رہا ہو۔اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے اکابر امارت شرعیہ کے مشورہ سے تنظیم ائمہ مساجد کے ذریعہ ۵،۶؍ نومبر کو پٹنہ اور پھلواری شریف میں پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے ، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھائیں اور فتنے سے محفوظ رہنے کے طریقے جانیں اور سکھیں۔
(کالم نگار نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ ہیں)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close