بہارسیمانچل

فرضی تحویل اراضی کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائیں:ممتاز احمد

مشرقی چمپارن: موتیہاری مہاتماگاندھی سنٹرل یونیورسٹی میں تحویل اراضی میں جس طرح سرکاری روپیوں کا بندر بانٹ ہوا ہے اگر اسکی صحیح جانچ کرائی جائیں تو بہت سارے لوگ اور بڑے افسران اس کی گرفت میں آئیں گے،یہ فرضی گھوٹالے میں چھوٹے ملازمین ہی نہیں بلکہ اعلی عہدوں پر فائز افسران بھی شامل ہیں.اس کی سی بی آئی جانچ کرائی جائیں جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکیں.مذکورہ باتیں سابق ریاستی کانگریس سکریٹری بہار ممتاز احمد نے شہر کے گانجہ چوک پر منعقد دھرنا سے  خطاب کرتے ہوئے کہیں.انہوں نے کہا کہ فرضی وارہ کے اس کھیل میں ضلع انتظامیہ پوری طرح گھیرچکی ہیں.جیے کشن تیواری نے جو بیان جانچ ٹیم افسران کو بتایا اس جانب کاروائی کرنے میں پولیس سستی کررہی ہیں.جس کاخلاصہ ہونے پر محصولات اراضی افسران نے آنا فانا میں نگر تھانہ میں 824/18 درج کرایا ہے،اسی سمت میِں 25نومبر کو ہرسدھی تھانہ کے مٹھیریا میں کار حادثے ایک کروڑ ایکتیس لاکھ بر آمد ہوئے ہیں.جیے کشن تیواری نے جو بیان دیا ہے اسی سمت میں تحویل اراضی ملازمین،افسران کے خلاف اعلی سطحی جانچ کرائی جائے.اس موقع پر انہوں نے گورنر کے نام ایک میمونڈرم ضلع کلکٹر کو سونپا،ساتھ ہی ایک کاپی وزیراعلی بہار،ہوم سکریٹری،ایس پی کو بھی ارسال کیا گیا.اس موقع پر کانگریس کے اوسیدعالم خان،کملیشور گپتا،نیاج خان،بٹویادو،انور عالم انصاری،عامرجاوید سمیت دیگر لیڈران موجود تھے.  

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close