اسلامیاتبلاگ

فضیلت سورہ کہف اور دور حاضر میں پیغام اصحاب کہف

خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاںداروں کی
کلِمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ غار والوں اور کتبہ والوں کامعاملہ ہماری نشانیوں میں سے کوئی بڑاعجیب قصہ تھا۔(سورہ کہف۔آیت۔9)
ان حضرات کے واقعے کا خلاصہ قرآنِ کریم کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ یہ کچھ نوجوان تھے جو ایک مشرک بادشاہ کے عہد حکومت میں توحید کے قائل تھے۔ بادشاہ نے ان کو توحید پر ایمان رکھنے کی بنا پر پریشان کیا تو یہ حضرات شہر سے نکل کر ایک غار میں چھپ گئے تھے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر گہری نیند طاری فرمادی، اور یہ تین سو نو(۹۰۳) سال تک اُسی غار میں پڑے سوتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نیند کے دوران اپنی قدرت کاملہ سے ان کی زندگی کو بھی سلامت رکھا، اور اُن کے جسم بھی گلنے سڑنے سے محفوظ رہے۔ تین سو نو سال بعد اُن کی آنکھ کھلی تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی لمبی مدت تک سوتے رہے ہیں۔ لہٰذا ان کو بھوک محسوس ہوئی تو اپنے میں سے ایک صاحب کو کچھ کھانا خرید کر لانے کے لئے شہر بھیجا، اور یہ ہدایت کی کہ احتیاط کے ساتھ شہر میں جائیں، تاکہ ظالم بادشاہ کو پتہ نہ چل سکے۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا یسا ہوا کہ اس تین سو سال کے عرصے میں وہ ظالم بادشاہ مرکھپ گیا تھا، اور ایک نیک اور صحیح العقیدہ شخص بادشاہ بن چکا تھا۔ یہ صاحب جب شہر میں پہنچے تو کھانا خریدنے کے لئے وہی پُرانا سکہ پیش کیا جو تین سو سال پہلے اس ملک میں چلا کرتا تھا، دُکان دار نے وہ پرانا سکہ دیکھا تو اس طرح یہ بات سامنے آئی کہ یہ حضرات صدیوں تک سوتے رہے تھے۔ بادشاہ کو پتہ چلا تو اُس نے ان لوگوں کو بڑی عزّت اور اکرام کے ساتھ اپنے پاس بلایا، اور بالآخر جب اُن حضرات کی وفات ہوئی تو اُن کی یادگار میں ایک مسجد تعمیر کی۔ عیسائیوں کے یہاں یہ واقعہ ’’سات سونے والوں‘‘ (Seven Sleepers) کے نام سے مشہور ہے۔ معروف موئرخ ایڈورڈ گبن نے اپنی مشہور کتاب ’’زَوال و سقوطِ سلطنتِ رُوم‘‘ میں بیان کیا ہے کہ وہ ظالم بادشاہ ڈوسیس تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرووں پر ظلم ڈھانے میں بہت مشہور ہے۔ اور یہ واقعہ ترکی کے شہر افسس میں پیش آیا تھا۔ جس بادشاہ کے زمانے میں یہ حضرت بیدار ہوئے، گبن کے بیان کے مطابق وہ تھیوڈوسیس تھا۔ مسلمان موئرخین اور مفسرین نے بھی اس سے ملتی جلتی تفصیلات بیان فرمائی ہیں، اور ظالم بادشاہ کا نام دقیانوس ذکر کیا ہے۔ ان حضرات کو ’’اصحاب الکہف‘‘ (غار والے) کہنے کی وجہ تو ظاہر ہے کہ اُنہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ لیکن ان کو ’’رقیم‘‘ والے کیوں کہتے ہیں؟ اس کے بارے میں مفسرین کی رائیں مختلف ہیں۔ بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ ’’رقیم‘‘ اُس غار کے نیچے والی وادی کا نام ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ’’رقیم‘‘ تختی پر لکھے ہوئے کتبے کو کہتے ہیں، اور ان حضرات کے انتقال کے بعد اُن کے نام ایک تختی پر کتبے کی صورت میں لکھوا دئیے گئے تھے، اس لئے ان کو ’’اصحاب الرقیم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تیسرے بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ اُس پہاڑ کا نام ہے جس پر وہ غار واقع تھا۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی نے سورہ کہف کی تلاوت شروع کی ان کے گھر میں ایک جانور تھا اس نے اچھلنا بدکنا شروع کر دیا صحابی نے جو غور سے دیکھا تو انہیں سائبان کی طرح کا ایک بادل نظر پڑا جس نے ان پر سایہ کر رکھا تھا انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا پڑھتے رہو یہ ہے وہ سکینہ جو اللہ کی طرف سے قرآن کی تلاوت کی وجہ سے نازل ہوتا ہے۔ بخاری شریف میں تین آیتوں کا بیان ہے۔ مسلم شریف میں آخری دس آیتوں کا ذکر ہے نسائی شریف میں دس آیتوں کو مطلق بیان کیا گیا ہے۔ مسند احمد میں ہے جو شخص اس سورہ کہف کا اول آخر پڑھ لے اس کے لئے اس کے پاؤں سے سر تک نور ہو گا اور جو اس ساری سورت کو پڑھے اسے زمین سے آسمان تک کا نور ملے گا۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نے سورہ کہف جمعہ کے دن پڑھ لی اس کے پاس سے لے کر بیت اللہ شریف تک نورانیت ہو جاتی ہے۔ مستدرک حاکم میں مرفوعاََ مروی ہے کہ جس نے سورہ کہف جمعہ کے دن پڑھی اس کے لئے وہ جمعہ کے درمیان تک نور کی روشنی رہتی ہے۔ بیہقی میں ہے کہ جس نے سورہ کہف اسی طرح پڑھی جس طرح نازل ہوئی ہے اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا۔ حافظ ضیاء مقدسی کی کتاب المختارہ میں ہے جو شخص جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کر لے گا وہ آٹھ دن تک ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہے گا یہاں تک کہ اگر دجال بھی اس عرصہ میں نکلے تو وہ اس سے بھی بچا دیا جائے گا۔
سورۃ الکہف کے تعارف میں حافظ ابن جریر طبری نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس سورۃکا شان نزول نقل کیا ہے کہ مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے دو آدمی مدینہ منورہ کے یہودی علماء کے پاس یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجے کہ تورات اور انجیل کے یہ علماء آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوائے نبوت کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ یہودی علماء نے ان سے کہا کہ آپ حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین سوالات کیجیے۔ اگر وہ ان کا صحیح جواب دے دیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور اگر وہ صحیح جواب نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کا نبوت کا دعوی صحیح نہیں ہے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ ان نوجوانوںکا وہ عجیب واقعہ بیان کریں جو کسی زمانے میں شرک سے بچنے کے لیے اپنے شہر سے نکل کر کسی غار میں چھپ گئے تھے۔ دوسرے اس شخص کا حال بتائیں جس نے مشرق سے مغرب تک پوری دنیا کا سفر کیا تھا۔ تیسرے ان سے پوچھیں کہ روح کی حقیقت کیا ہے۔ چنانچہ یہ دونوں شخص مکہ مکرمہ واپس آئے، اور اپنی برادری کے لوگوں کو ساتھ لے کر انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ تین سوال پوچھے۔ تیسرے سوال کا جواب تو سورہ بنی اسرائیل۔(80: 17)میں آچکا ہے۔ اور پہلے دو سوالات کے جواب میں یہ سورۃ نازل ہوئی جس میں غار میں چھپنے والے نوجوانوں کا واقعہ تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے، انہی کو اصحاب کہف کہا جاتا ہے۔ کہف عربی میں غار کو کہتے ہیں، اصحاب کہف کے معنی ہوئے غار والے اور اسی غار کے نام پر سورت کو سورۃ الکہف کہا جاتا ہے۔ دوسرے سوال کے جواب میں سورت کے آخر میں ذوالقرنین کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جنہوں نے مشرق ومغرب کا سفر کیا تھا۔ اس کے علاوہ اسی سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ بھی بیان فرمایا گیا ہے جس میں وہ حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس تشریف لے گئے تھے، اور کچھ عرصہ ان کی معیت میں سفر کیا تھا۔ یہ تین واقعات تو اس سورت کا مرکزی موضوع ہیں۔ ان کے علاوہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جو خدا کا بیٹا قرار دے رکھا تھا، اس سورت میں بطور خاص اس کی تردید بھی ہے اور حق کا انکار کرنے والوں کو وعیدیں بھی سنائی گئی ہیں، اور حق کے ماننے والوں کو نیک انجام کی خوشخبری بھی دی گئی ہے۔ سورۃ کہف کی تلاوت کے فضائل احادیث میں آئے ہیں۔ خاص طور پر جمعہ کے دن اس کی تلاوت کی بڑی فضیلت آئی ہے، اور اسی لیے صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین اور بزرگان دین کا معمول رہا ہے کہ وہ جمعہ کے دن اس کی تلاوت کا خاص اہتمام کرتے تھے۔
کچھ لوگ تو کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا کچھ کہیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا غیب کی باتوں میں اٹکل (کے تیر تکے) چلاتے ہیں کچھ کہیں گے کہ وہ سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار ان کی تعداد کو بخوبی جاننے والا ہے، انہیں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں پس آپ ان کے مقدمے میں صرف سرسری گفتگو ہی کریں اور ان میں سے کسی سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ بھی نہ کریں۔(سورۃکہف۔آیت۔22)
طبری اور دیگر مفسرین کا بیان ہے کہ یہ لوگ توحید پرست تھے بت پرستی سے انکار کرتے تھے۔ ایشیائے کوچک کے کسی شہر افسوس یا اسبُوس (پریوز) کے رہنے والے تھے اور بادشاہ دکیوس (249ء تا 251ء) کے ظلم وستم اور کفر میں شامل جبرا شامل کیے جانے کے خوف سے شہر کے باہر ایک غار میں جا چھپے تھے۔ ان کا کتا بھی ان کے ساتھ تھا۔ عباس بن عبدالمطلب کی روایت کے مطابق اس کتے کا نام جو اصحاب کہف کے ساتھ غار میں گیا تھا قطمیر تھا۔
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اصحاب کہف کے یہ نام بتلائے ہیں۔ یملیخا، مکثلمینا، مثلینیا، بادشاہ کے دائیں طرف والوں میں سے تھے اور مرنوش، برنوش، شاذنوش بائیں طرف والوں میں سے اور ساتواں ایک چرواہا تھا جو راستہ میں ان کے ساتھ ہو لیا تھا اور ان کے کتے کا نام قطمیر تھا اور شہر کا افسوس۔ (بیضاوی)۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں انہیں کے نقش قدم پرہوں میں جانتا ہوں وہ سات تھے۔ حضرت عطا خراسانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے ۔ ان میں سے بعض تو بہت ہی کم عمر تھے۔ عنفوان شباب میں تھے یہ لوگ دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، روتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحیح روایت یہی ہے کہ یہ سات شخص تھے آیت کے ظاہری الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔اسلامی اسکالر اور محقق راشد اقبال شعبہ اسلامی تعلیمات، جامعہ گورنمنٹ کالج لاہور،پاکستان کے مطابق بحر میت کے مخطوطات روشنی میں یہ اصحاب کہف کا تعلق یہودیوں کے اسین طبقہ سے تھا جو اس وقت خالص مسلمان تھے۔ یہ یہودیوں کے گمراہ گمراہ طبقے کی مخالفت کر رہے تھے۔ یہ مروجہ روایت والے بت پرست رومیوں کی بجائے فاریسیوں اور صدوقیوں سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے۔ ان لوگوں کی اس قربانی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ لوگ عیسیٰ (یسوع) کے حواری تھے جنھوں نے اُسی بھری عدالت میں قاضیوں کے جرائم کو بے نقاب کیا جس عدالت نے یسوع کی مبینہ مصلوبیت کی حمایت کی تھی۔
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں۔اصل چیز ان کی تعداد نہیں ہے، بلکہ اصل چیز وہ سبق ہیں جو اس قصے سے ملتے ہیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک سچے مومن کو کسی حال میں حق سے منہ موڑنے اور باطل کے آگے سر جھکانے کے لیے تیار نہ ہونا چاہیے۔مومن کا اعتماد اسباب دنیا پر نہیں بلکہ اللہ پر ہونا چاہیے، اور حق پرستی کے لیے بظاہر ماحول میں کسی سازگاری کے آثار نظر نہ آتے ہوں تب بھی اللہ کے بھروسے پر راہ حق میں قدم اٹھا دینا چاہیے۔
اور تم انھیں جاگتا سمجھواور وہ سوتے ہیں اور ہم ان کی داہنی بائیں کروٹیں بدلتے ہیں اور ان کا کتا اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے غار کی چوکھٹ پر اے سننے! والے اگر تو انھیں جھانک کر دیکھے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور ان سے ہیبت میں بھر جائے۔(سورہ کہف آیت۔18)
جس عادت جاریہ کو لوگ قانون فطرت سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس قانون کے خلاف دنیا میں کچھ نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ درحقیقت اس کا پابند نہیں ہے، وہ جب اور جہاں چاہے اس عادت کو بدل کر غیر معمولی کام بھی کرنا چاہے، کر سکتا ہے۔ اس کے لیے یہ کوئی بڑا کام نہیں ہے کہ کسی کو تین سو برس تک اور نو سال زیادہ(سورہ کہف آیت۔25) سلا کر اس طرح اٹھا بٹھائے جیسے وہ چند گھنٹے سویا ہے، اور اس کی عمر، شکل، صورت، لباس، تندرستی، غرض کسی چیز پر بھی اس امتداد زمانہ کا کچھ اثر نہ ہو۔بنی نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی نسلوں کو بیک وقت زندہ کر کے اٹھا دینا، جس کی خبر انبیاء اور کتب آسمانی نے دی ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اور آپ کے واسطے سے اہل ایمان کو یہ تعلیم دی کہ اگر دوسرے لوگ اس طرح کی غیر متعلق بحثیں چھیڑیں بھی تو تم ان میں نہ الجھو، نہ ایسے سوالات کی تحقیق میں اپنا وقت ضائع کرو، بلکہ اپنی توجہ صرف کام کی بات پر مرکوز رکھو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کی صحیح تعداد بیان نہیں فرمائی تاکہ شوق فضول رکھنے والوں کو غذا نہ ملے۔اصحاب کہف کے متعلق بتایا کہ وہ اسی توحید کے قائل تھے جس کی دعوت یہ قرآن پیش کر رہا ہے، اور ان کا حال مکے کے مٹھی بھر مظلوم مسلمانوں کے حال سے اور ان کی قوم کا رویہ کفار قریش کے رویہ سے کچھ مختلف نہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی تحریک اور جماعت کو دبانے کے لیے زیادہ تر تضحیک، استہزاء، اعتراضات، الزامات، تخویف، اطماع اور مخالفانہ پروپیگنڈے پر اعتماد کر رکھا تھا، مگر اس تیسرے دور میں انہوں نے ظلم و ستم، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار پوری سختی کے ساتھ استعمال کیے، یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ملک چھوڑ کر حبش کی طرف نکل جانا پڑا اور باقی ماندہ مسلمانوں کو اور ان کے ساتھ خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے خاندان کو شعب ابی طالب میں محصور کر کے ان کا مکمل معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کر دیا گیا۔یہ چند نوجوان اللہ پرستی کے لیے اپنی شہوتوں کو ٹھکرا کر خالص ایمان و یقین کی خاطر اپنے کو فنا و بربادکردیا۔(صرف چند روز کی دنیاوی زندگی میں) یہ مرد مومن جنہوں نے جوانی کی تمام لذتوں کو ٹھکرا کر ایسے غار میں میں منتقل ہوئے جس میں زندگی کی کوء آرائش موجود نہ تھی۔زندگی کا سب سے حسین دور جوانی کا دور ہوتا ہے۔جوانی کی امنگ میں انسان زندگی کی آرائشوں سے مستفید ہونے کے لیے سب زیادہ تیاررہتاہے۔اس وقت میں زندگی کی بے شمار رنگیناں دامن پھیلائے کھڑی ہوتی ہے۔ شہوتوں اور خواہشات کا سیلاب نوجوانوں کو غرق کردینے کے لیے تیارہوتا ہے۔ جوانی کی دیوانگی انسان کو اس بات کی مہلت نہیں دیتی کہ وہ لذتوں کو ٹھکراکر صحیح اور غلط، حق اور باطل،سچ اور جھوٹ کی تفریق سمجھنے کی کوشش کرے۔اپنی زندگی کے اس حسین دور کو ان نوجوانوں نے اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے قربان کردیا۔ اپنے ایمان کی دولت بچانے کے لیے شہوتوں کو ٹھوکر ماردی۔ اور قیامت تک کے لیے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ بن گئے ۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل محوِ تماشائے لب بام ابھی
جب ان نوجوانوں نیغار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دیاور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہ یابی کے سامان کر(سورہ کہف۔آیت۔10)
اصحاب کہف عام لوگ تھے۔(اس وقت کے مطابق)نہ انبیاء علیہ السلام تھے،نہ رسول علیہ السلام،نہ ان کے درمیان کوئی بڑے عالم دین موجود تھے۔ کلام اللہ کے الفاظ سے یہی بات سمجھ میں آتی ہیکہ نے مومن نوجوان تھے۔ لیکن ان کے ایمان و یقین اور خلوص فی الدین کی وجہ سے اللہ نے ان کو ہدایت کے اس مقام پر پہنچا دیاکہ موحدین کی یہ مختصر سی جماعت اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پوری کافر و مشرک قوم کے سامنے توحید کی دعوت لے کر کھڑی ہوگئی۔ اصحاب کہف فرماتے تھے کہ جب آسمان و زمین کا اور ہمارا تمہارا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ہم اس کے سوا دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ ان کے اس اعلائے کلمۃالحق کا لوگوں کوپتہ چل گیا وہ ان سب کو پکڑ کر اس ظالم مشرک بادشاہ اور اہل دربار کے سامنے لائے۔وہاں بھی بے خوف خطر انہوں نے سب کو توحید کی دعوت دی۔اور بنا کسی مصلحت کہ کہہ دیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا مالک خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں اس لئے کہ شرک نہایت باطل چیز ہے ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت ہی بیجا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔

محفلِ کون و مکاں میں سحَر و شام پھرے
مئے توحید کو لے کر صفَتِ جام پھرے
کوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو، کبھی ناکام پھرے!

اصحاب کہف کے قصے سے اہل ایمان کو یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کفار کا غلبہ بے پناہ ہو اور ایک مومن کو ظالم معاشرے میں سانس لینے تک کی مہلت نہ دی جا رہی ہو، تب بھی اس کو باطل کے آگے سر نہ جھکانا چاہئے بلکہ اللہ کے بھروسے پر تن بتقدیر نکل جانا چاہیے۔

ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے اللہ کے حکم کے بغیر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزہ تمہیں لا دکھائیں اور ایمان والوں کو صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔(سورہ۔ابراہیم۔آیت۔11)
دور حاضر میںکفر نے ہماری مثال اس مرغے جیسی کردی ہے ، اور اس کے ذمے دار کافی حد تک ہم خود ہیں کہ مصلحت کے نام پردین کا بخوبی استعمال کیا ہے۔
ایک مرغا روزانہ فجر کے وقت اذان دیا کرتا تھا. ایک دن مرغے کے مالک نے اسے پکڑ کر کہا: آج کے بعد اگر تو نے پھر کبھی اذان دی تو میں نے تیرے سارے پر وغیرہ اکھاڑ دوں گا۔
مرغے نے سوچا کہ ضرورت پڑ جائے تو پسپائی میں بھی حرج نہیں ہوا کرتا اور پھر شرعی حکم بھی تو یہی ہے کہ اگر جان بچانے کیلئے اذان دینا موقوف کرنا پڑ رہا ہے تو جان بچانا مقدم ہے. اور پھر میرے علاوہ بھی تو کئی اور مرغے ہیں جو ہر حال میں اذان دے رہے ہیں، میرے ایک کے اذان نا دینے سے کیا فرق پڑے گا. اور مرغے نے اذان دینا بند کردی.
ہفتے بھر کے بعد مرغے کے مالک نے ایک بار پھر مرغے کو پکڑ کر کہا کہ آج سے تو نے دوسری مرغیوں کی طرح کٹکٹانا ہے، نہیں تو میں نے تیرے پر بھی نوچ لینے ہیں اور تجھے مارنا بھی ہے. اور مرتا کیا نا کرتا، مرغے نے اپنی وضعداری کو پس پشت ڈالا اور مرغیوں کی طرح کٹکٹانا بھی شروع کردیا.
مہینے بھر کے بعد مرغے کے مالک نے مرغے کو پکڑ کر کہا اگر تم نے کل سے دوسری مرغیوں کی طرح انڈہ دینا شروع نا کیا تو میں نے تجھے چھری پھیر دینی ہے.
اس بار مرغا رو پڑا اور روتے ہوئے اپنے اپ سے کہنے لگا: کاش میں اذانیں دیتا دیتا مر جاتا تو کتنا اچھا ہوتا، آج ایسا کوئی مطالبہ تو نا سننا پڑتا.
انتہائی معذرت کے ساتھ! اسلام کو چھوڑ کرجمہوریت کو گلے لگاتے لگاتے آج ہماری حالت اس مرغے جیسی ہوگئی ہے، اور آج اس مرغے کی طرح ہم سے انڈے دینے کے مطالبے کئے جارہے ہیں۔اے کاش ہم اسلام کی آذان دیتے دیتے قربان ہوجاتے مگر اس باطل نظام کو گلے نہ لگاتے؟
اور آخر ہم کیوں اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں، جبکہ اس نے ہمیں ان راستوں کی ہدایت دے دی ہے جن پر ہمیں چلنا ہے؟ اور تم نے ہمیں جو تکلیفیں پہنچائی ہیں، ان پر ہم یقینا صبر کریں گے، اور جن لوگوں کو بھروسہ رکھنا ہو، انہیں اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ (سورہ۔ابراہیم۔آیت۔12)
لا صلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب (اوکماقال صلی اللہ علیہ وسلم)کے لیے بحثیں تو بہت ہوتی ہے،(نہیں کوء نماز سورہ فاتحہ کے بغیر،الحدیث)لیکن لاصلاۃ الا بالخشوع والخضوع(نہیں کوئی نماز خشوع اور خضوع کے بغیر۔ اوکما قال صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے لیے محنت کب ہوگی؟
(حوالہ جات۔:تفسیر کبیر۔امام فخرالدین رازی ؒ۔جلالین۔تفسیر بیضاوی از۔ناصرالدین ابو سعید عبداللہ ابن عمر المعروف امام بیضاوی۔685ھ۔تفسیر ابن کثیر۔تفہیم القرآن۔تفسیر حقانی ابو محمد عبد الحق حقانی الکہف20۔ المعجم الأوسط مؤلف:سلیمان بن احمد ابو القاسم الطبرانی ناشر: دار الحرمین -قاہرہ۔تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی الکہف،17۔تفسیر فیوض الرحمان از۔مفتی فیض احمد رضوی صاحب۔معارف القرآن از۔مفتی شفیع صاحب۔ تخلیص علوم القرآن از۔مفتی تقی عثمانی صاحب۔کلیات اقبال۔۔اور دیگر مضامین سے ماخوذ

Show More

ریاض فردوسی

محمد ریاض الدین فردوسی ابن محمد شرف الدین قادری(ریٹائرڈ وائرلیس آپریٹر۔پٹنہ۔۔۔پولیس بہار)۔سکہ ٹولی عالم گنج ڈاکٹر ضیاء الہدى لین۔نزد سکہ ٹولی مسجد پٹنہ۔7۔بہار۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close