بین الاقوامی

فلسطین: ’امریکہ کا فنڈنگ بند کرنا فلسطینی عوام پر ایک کھلا حملہ ہے‘

رام اللہ/واشنگٹن:امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے انروا کو دی جانے والے تمام فنڈنگ کو بند کر رہا ہے۔امریکہ نے اقوام متحدہ کے مختلف اقوام کے لیے امداد اور امور کے ادارے (Unrwa) کو امیدوں کے برعکس کمزور قرار دیا ہے۔امریکی ترجمان ہیتھر نوئرٹ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے کا احتیاط سے جائزہ لیا گیا ہے اور اب اسے مزید مدد نہیں دی جائے گی۔فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے اس اقدام کو ایک ’فلسطینی عوام کے خلاف ایک کھلا حملہ‘ کہا ہے۔تاہم ایک اسرائیلی اہلکار نے امریکی اقدام کی حمایت کی ہے۔فلسطین کے صدر کے ترجمان نے کہا کہ اس قسم کی سزا سے یہ حقیقت نہیں بدلے گی کہ امریکہ کا اب اس خطے میں کوئی کردار نہیں ہے اور یہ کسی حل کا حصہ بھی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے۔انروا کے ترجمان کرس گنس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس امریکی اقدام کے نتائج بہت تباہ کن ہوں گے۔انھبوں نے ایجنسی کی جانب سے اس حوالے سے کی جانے والی ٹوئٹس کا بھی دفاع کیا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے فلسطینی امداد سے متعلق ادارے پر ہونے والی تنقید کی تردید کرتے ہیں۔یہ حالیہ پیش رفت سامنے آنے سے پہلے رواں برس امریکہ نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے ادارے انروا کو دی جانے والی نصف امداد کو ختم کر دے گا۔1948 میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کی مدد کے لیے انروا کی بنیاد رکھی گئی تھی۔اس وقت یہ ادارہ غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں تعلیم، صحت اور دیگر سماجی کاموں میں مدد فراہم کر رہا ہے۔امریکہ اب تک اس ادارے کو امداد دینے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔ سنہ 2016 میں امریکہ نے اس خطے کے لیے ادارے کو 30 فیصد مدد فراہم کی جو کہ 368 ملین ڈالر تھی۔اب یہ امکان ہے کہ باقی ماندہ 65 ملین امداد بند کر دی جائے گی۔امریکہ بہت سے امور پر انروا اور فلسطینی حکام کے مخالف ہے۔اس سے قبل امریکہ کے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو اس خطے کے لیے اتنی امداد دینے پر کوئی پذیرائی نہیں ملتی۔رواں برس کے آغاز میں امریکہ نے فلسطین کی امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی اور وجہ اسرائیل کے ساتھ فلسطین کی جانب سے مذاکرات پر آمادہ نہ ہونا بتائی گئی تھی۔اس کے علاوہ امریکہ اور اسرائیل انروا کے اس موقف کے بھی خلاف ہیں جس میں ادارے کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی جنھوں نے سنہ 1948 میں اپنے گھر بار چھوڑے تھے وہ اپنے علاقوں میں واپس لوٹنے کا حق رکھتے ہیں۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ انروا نے فلسطینی مہاجرین کی تعداد کو بڑھا کر پیش کیا ہے اور اس کے اصلاحات کی ضرورت ہے۔جمعے کو فلسطین کے واشنگٹن میں سفیر حسام زوملوٹ نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اسرائیل کے انتہا پسندانہ نظریات کی ہر معاملے میں حمایت کر رہا ہے جس میں پانچ لاکھ فلسطینی عوام کے حقوق بھی شامل ہیں۔مئی میں امریکہ نے یروشلم میں اپنا سفارتخانہ بھی کھولا تھا۔ جسے فلسطینیوں نے صریح اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔
اسرائیل کا موقف:اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ انروا کی فنڈگ کو کم کیا جائے اور اس کی ذمہ داریاں مہاجرین کے عالمی ادارے یو این ایچ سی آر کے سپرد کی جائیں۔تاہم کچھ اسرائیلوں کا ماننا ہے کہ انروا کو کمزور کیے جانے سے علاقائی عدم استحکام اور انتہا پسندی بڑھ سکتی ہے۔اس سے قبل جمعے کو جرمن وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک انروا کو زیادہ فنڈ دے گا کیونکہ اس صورتحال سے عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوٹیرس نے اپنے ادارے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور دیگر ممبر ممالک سے کہا ہے کہ معاشی امداد کی کمی کو پورا کرنے میں مدد کریں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close