بین الاقوامی

فلسطین کی ویران مسجد جہاں اذان ونماز پر پابندی ہے!

مقبوضہ بیت المقدس:فلسطین کی بیشتر بڑی اور تاریخی مساجد کو غاصب صہیونیوں کی شرانگیز ریشہ دوانیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ فلسطینی پرطرح طرح کے  مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں اور ان مظالم کا سلسلہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ فلسطینیوں کے قتل عام، جبری بے دخلی، ھجرت جیسے جرائم تو تھے ہی مگر فلسطینیوں کو اپنی مقدس عبادت گاہوں میں داخل ہونے اور عبادت کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ یہ وہ نسل پرست صہیونی ریاست ہے جو فلسطینی قوم کے وجود کو ختم کرنے کے ساتھ القدس پورے فلسطین کو یہودیانے کی مجرمانہ سازشوں میں سرگرم عمل ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کی 43 مساجد ایسی ہیں جنہیں صہیونی ریاست کی طرف سے تباہ کن خطرے کا سامنا ہے۔ کئی مساجد کو فلسطینیوں کے داخلے، اذان، نماز یا کسی بھی دوسری عبادت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ انہی میں مسجد العمری بھی بیت المقدس کا ایک خوبصورت اور تاریخی لینڈ مارک ہے مگر یہ مسجد بھی صہیونی غاصبوں کے تسلط میں ہونے کی وجہ سے بند ہے۔ پرانے بیت المقدس میں حارہ الشرف کے مقام پر واقع یہ مسجد القدس کی پرانی اور تاریخی مساجد میں سے ایک ہے۔بیت المقدس کے ایک تاریخی سیاحتی گائیڈ روبین ابو شمسیہ نے مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جامع مسجد العمری الکبیر حارۃ الشرف کے جنوب میں ’حارۃ الیہود‘ کے مقام پر واقع ہے۔ وہاں سے گزر کر حارہ المغاربہ مغرب کی سمت میں اہم مقام ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسجد کے اطراف میں دو یہودی کنیسے قائم ہیں۔ مسجد کی شمالی سمت میں واقع ایک کنیسہ اشکنزئی یہودیوں نے انیسویں صدی میں تعمیر کیا جب کہ دوسرا یہودی معبد 16 اپریل 2010ء کو اسلامی اوقاف کی اراضی غصب کرنے کے بعد تعمیر کیا کیا گیا۔ مشرق کی سمت میں یہ معبد صرف 50 میٹر کی دوری پر ہے۔ مسجد کے مغرب میں بھی دو یہودی مذہبی مرکز، ایک پولیس سینٹر اور چند ایک دکانیں ہیں جو مسجد اور یہودی معابد کے درمیان حد فاصل ہیں۔مسجد العمری الکبیر آٹھویں صدی ھجری اور پندرہویں صدی عیسوی کو تعمیر کی گئی مگر سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد یہ جگہ صہیونی حکومت نے غاصبانہ قبضہ کرکے وہاں پر غیرقانونی تعمیرات شروع کردی تھیں۔مسجد العمری الکبیر کی تاریخابو شمیسہ نے بتایا کہ مسجد العمری الکبیر کے بارے میں القدس کے مورخ مجئرالدین الحنبلی کا کہنا ہے کہ یہ مسجد سنہ 1473ء کو تعمیر کی گئی۔مسجد تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں چڑھ کر گزرنا پڑتا ہے۔ چھ میٹر سیڑھیوں کے بعد ایک آہنی گیٹ مسجد کا مرکزہ دروازہ آنے والے کا استقبال کرتا ہے۔مسجد کو روشن اور ہوادار رکھنے کے لیے تین بڑی کھڑکیاں بنائی گئی ہیں۔ ایک کھڑی مشرقی دیوار کے ساتھ، دوسری جنوبی دیوار کے ساتھ ہے۔ اس کا خوبصورت اور دیدہ زیب مینار ملوکیت کے زمانے کے فن تعمیر کا عکاس ہے۔ اس کی بلندی پندرہ میٹر ہے۔مسجد پر اب بھی چٹائیاں ہی بچھی ہیں۔ اس میں ایک حال  7×15 ہے۔ ٹوائلٹ اور وضوخانہ مسجد کی جنوب مغربی سمت میں ہے۔ اس میں 3×2 میٹر کا ایک کمرہ ہے جس میں نمازی اپنا ضروری سامان رکھتے تھے۔
عثمانی دور حکومت میں یہ مسجد بیت المقدس کی تاریخی مساجد میں سے ایک تھی اور مسجد اقصیٰ کے بعد القدس کی دوسری سب سے بڑی آباد مسجد تھی جہاں نمازیوں کی تعداد سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔مسجد کے کئی سرکردہ علماء اور دعاۃ نے شہرت حاصل کی جن میں الشیخ ابو السعواور ان کا بیٹا الحاج احمد شامل ہیں۔ مسجد کے قریب واقع تین دکانیں اوقاف کا حصہ ہیں۔ تاریخ کا یہ شاہکار اب ویران ہے اور اس میں اذان اور نمازوں کی ادائی پر پابندی عاید ہے۔ ( مرکز اطلاعات فلسطین کے شکریہ کے ساتھ)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close