دہلیہندوستان

قتل نہیں حیوانیت اور درندگی کی انتہاہے :ارشد مدنی

نئی دہلی 21 ؍جولائی (پریس ریلیز ) الور میں ہوئے ماب لنچنگ واقعہ پر اپنی سخت برہمی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ یہ قتل نہیں حیوانیت اور درندگی کی انتہاہے کہ ہجوم کی شکل میں اکٹھا ہوکر کسی بے گناہ اور نہتے شخص کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتاردیا جائے انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات تویہ ہے کہ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے باوجود یہ درندگی رک نہیں رہی ہے جس روز سپریم کورٹ نے اس طرح کے واقعات پر شد ید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ کوئی شخص قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا او ر مرکزسے اسے روکنے کے لئے پار لیمنٹ میں الگ سے قانون بنا نے کی ہدایت بھی کی عین اسی روز پورے ملک میں امن واخو ت کے پیغام کو پھیلانے والے ایک مذ ہبی رہنما سوا می اگنی ویش پر ایک مخصوص سیا سی پارٹی سے تعلق رکھنے وا لے لوگ جاں لیوا حملہ کردیتے ہیں اور اب الور میں ایک بے گناہ کی جان لے لی گئی ہے انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے تو ماب لنچنگ کو روکنے کے لئے دوہفتہ قبل ہی تمام ریاستوں کو ہدایت جاری کرکے مو ثر اقدامات کر نے کا حکم دیا تھا اب اگر اس کے بعد بھی اس طرح کے واقعا ت نہیں رک رہے ہیں تو پھر اس کا صاف مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ ایسا کرر ہے ہیں انہیں سیاسی تحفظ اور پشت پناہی حا صل ہے ِ؟ اس لئے اس کے حوصلہ بلند ہیں ، مولانا مدنی نے کہا کہ جب ملک کی ایک ممتاز مذہبی شخصیت پر جان لیوا حملہ کے بعد سر کارخاموش رہتی ہے اور کسی کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی تو اخلاق ، جنید ، پہلوخاںاور اب اکبر جیسے لوگوں کی کیا بساط ، انہوں نے پر عزم لہجے میں کہاں کہ ماب لنچنگ کے نام پر حیوانیت اور درندگی اپنی حدیں توڑتی جارہی ہے ہمیں امید تھی کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ بار بارسخت تبصرے اور برہمی کے بعد سرکار سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے روکنے کے لئے موثر اقداما ت کرے گی ، لیکن ہرطرف مایوسی کے سواکچھ نظر نہیں آتا اس لئے ان حالات میں جمعیۃ علماء ہند خاموش نہیں رہ سکتی ۔مو لانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند روز اول سے خا موش رہ کر کام کر نے میں یقین رکھتی ہے اس لئے اس طرح کے معاملو ں پر بھی احتجاج اور مظاہرہ کی جگہ وہ خاموشی سے اپنا کام کرے گی اگر سپر یم کورٹ کے سخت ہدایت کے بعد بھی سرکار قا نون سازی نہیں کرتی اور بے گناہوں کی ہلاکت کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات سے پہلو تہی اختیار کرتی ہے تو جمعیۃ علماء ہند اس کے خلاف قانونی سطح پر جدوجہد کرے گی، الور سانحہ میں مارے گئے شخص کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کر تے ہوئے مولا نا مدنی نے اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند پسماند گان کو ہر طرح کی مالی اور قانونی امدادفراہم کرے گی ، قابل ذکرہے کہ مولا نا مدنی کی ہدایت پر جمعیۃعلماء ہریانہ، پنجاپ ہما چل پرد یش کے صدرمولانا محمد خالد قاسمی نے ایک پانچ رکنی وفد کے ساتھ مقتول کے گاؤ ں کول ضلع نوح ( ہریانہ) جاکر ا ن کے وا لد جناب محمد سلیما ن اور اہل خانہ سے ملاقا ت کی اور ہر طرح کی مالی اور قانونی امداد کی یقین دہانی کرائی اور یہ بھی یقین دلایا کہ جمعیۃعلماء ہند انہیں انصاف دلانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی اور ساتھ ہی مولانا مد نی نے یہ بھی اعلان کیا کہ مقتول اکبر کے تمام بچوں کے تعلیمی مصارف خواہ وہ مدرسے میں تعلیم حاصل کریں یا اسکول میں جمعیۃ علماء ہند اٹھائے گی۔ واضح ہوکہ پینتیس سالہ مقتو ل اکبر ایک غریب اور مزدور پیشہ انسان تھا اس کے سات بچے ہیں جن میں چار لڑکیا ںاور تین لڑکے ہیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close