اسلامیات

قرآنی ہدایت؛ انسان کی اہم ضرورت

از افادات:حضرت مولانا پیر محمد رضا ثاقب مصطفائی نقشبندی (بانی ادارۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل)
حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اللہ سے کہا کہ مجھے اپنی محبت عطا کردے۔ تو اللہ نے مجھے اپنی اتنی محبت عطا کی کہ مجھے زوالِ عقل کا اندیشہ ہو گیا۔ پھر مَیں نے ایک دن کہا کہ مالک! مجھے اب اپنا قرب عطا کردے۔ تو آواز آئی کہ میرا قرب چاہتے تو قرآن پڑھا کرو۔ قرآن انسان کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت جو ہے وہ ’ہدایت‘ ہے۔ ہدایت؛ انسان کی وہ ضرورت ہے جس کو مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ سے رزق مانگنا چاہیے۔ لیکن کوئی نہیں مانگے گا؛ وہ پھر بھی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دولت مانگنی چا ہیے۔ لیکن کوئی نہیں مانگتا ؛ وہ پھر بھی دیتا ہے۔ صحت مانگنی چاہیے ۔ کوئی نہیں مانگتا؛ پھر بھی دیتا ہے۔ لیکن ہدایت کتنی اہم ضرورت ہے کہ جسے میسر ہے؛ اسے بھی کہا گیا کہ تُو بھی مانگ۔روزانہ ہر نماز میں، ہر نماز کی ہر رکعت میں؛وکالتاً یا اصالتاً پڑھتا ہے ”اھدنا الصراط المستقیم“؛ یہ روزانہ پڑھتا ہے۔ اور وہ بھی مصلے پہ کھڑا ہوکر قبلہ رو ہوتا ہے۔ اور پھر بھی یہ مانگ رہا ہوتا ہے۔ مجھے بتاو¿! کتنی ضرورت ہے انسان کو ہدایت کی !!
”ہدایت“ انسانی ضرورت ہے؛ اور ضرورت کے لیے ہمیں محنت کرنی چاہیے۔ اور محنت کریں گے تو جھولی خالی نہیں جائے گی۔ ہدایت کا بہت بڑا منبع اور بہت بڑا سرمایہ اور بہت بڑا چشمہ ہمارے پاس ”قرآن مجید“ کی صورت میں موجود ہے۔ مَیں ایک اور بات کروں۔…. کسی نبی کا کوئی معجزہ اس نبی کی امت کے پاس آج موجود نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات تھے؛ ساتھ لے کے چلے گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات تھے؛ ساتھ لے کے چلے گئے۔ چھوٹے معجزات نہیں؛ بڑے بڑے معجزات تھے۔یدِ بیضاءدیا گیا۔ اور کوڑھی کو ہاتھ پھیرتے شفا ملتی۔ نابینا کی آنکھوں پہ انگلی رکھتے روشنی اتر آتی۔ مُردے کو ٹھوکر مارتے؛ وہ اُٹھ کے باتیں کرنے لگ جاتا۔ کتنی بڑی بات تھی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھیے؛ عصاءہے کبھی سانپ بن جاتا ہے، کبھی اس سے جھاڑیاں توڑتے ہیں، کبھی پتے جھاڑتے ہیں، کبھی رات کو روشنی دیتا ہے۔ کیا کیا معجزات تھے۔ کبھی پتھر پہ مارتے ہیں تو وہ پھٹ جاتا ہے اور پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ لیکن آج عصائے موسوی بھی نہیں ہے۔ آج یدِ بیضاءبھی نہیں ہے۔ آج نبیوں کے معجزات ان کی امتوں کے پاس نہیں ہیں۔ اور میرے نبی علیہ السلام کا سب سے بڑا معجزہ ”قرآن“ آج بھی اصلی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔
یقین جانیں! قرآن کو چومنے کو جی چاہتا ہے۔ آنکھوں سے لگائیں۔ یہ وہ کتاب ہے جو میرے رسول کے سینے پہ نازل ہوئی ہے۔ اور اصلی صورت میں، اپنی اصلی زبان میں،انہیں حروف کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔ قرآن مجید کا فیض بھی ختم نہیں ہوا۔ اس کا اسی طرح فیض موجود ہے جس طرح پہلے موجود تھا۔ اور آج بھی وہ روشنی دیتا ہے۔ اور جب ہم اس کو تلاوت کرتے ہیں؛ اسی لیے فرمایا گیا کہ راتوں کی تنہائیوں میں اُٹھ کے قرآن پڑھو۔ اور قرآن پڑھتے ہوئے رویا کرو۔ فان لم تبکوا فتباکوا اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کیا کرو…. حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ الرحمة سے کسی مرید نے کہا : حضرت! اگر رونے کی کوشش کریں اور پھر بھی رونا نہ آئے؟ فرمایا: پھر مقدر پہ رویا کرو! اتنے سنگ دل ہوگئے ہو کہ قرآن پڑھنے سے تمہیں رونا نہیں آتا؟
اتنی بابرکت کتاب جو رَبّ کی مُنَزَّل ہے۔ جو جبریل لے آئے ہیں۔ جو رسول اللہ کے سینے پہ نازل ہوئی ہے۔ اور یہ کتاب وہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ اگر پتھروں پر نازل ہوتی تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ تھا؛ جس نے اس کتاب کو سہار لیا۔ ایک حدیث مَیں نے پڑھی؛ جب زندگی میں مَیں نے پہلے مرتبہ پڑھی تھی تو دیر تک اس کا نشہ نہیں اترا تھا۔ شاید جو پہلی مرتبہ سُنے اس کو یہ حظ محسوس ہو؛ فرمایا کہ قرآن اللہ کی وہ لٹکتی ہوئی رسّی ہے جس کا ایک سِرا تمہارے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سِرا تمہارے رب کے ہاتھ میں ہے۔ کیسے کرنٹ لگتا ہے جسم کے اندر کہ یہ وہ کتاب ہے جس کا ایک سرا تمہارے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے رب کے ہاتھ میں ہے…. یہ تاریں آرہی ہیں بجلی کی؛ اس میں کرنٹ ہے۔ ان کو ہاتھ میں پکڑ لیں تو ایک سرا آپ کے ہاتھ میں ہے لیکن دوسرا سرا پاور ہاو¿س سے نا جڑا ہو تو کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر دوسرا سِرا پاور ہاو¿س سے جُڑا ہو تو ہاتھ لگائیں گے تو کرنٹ پڑے گا۔ اللہ اکبر!
یہ قرآن یہ ایک ایسی رسی ہے جس کا سِرا تم نے پکڑا ہے۔ کہا اس کا دوسرا سِرا خالی نہیں ہے دوسرا سِرا تمہارے رب کے ہاتھ(دستِ قدرت) میں ہے۔ اور اب بھی برابر فیض آرہا ہے؛ اس کتاب کو کوئی تھام کے تو دیکھے۔ اس کتاب میں غور کرکے تو دیکھے کہ اس میں کیا ہے۔ اس کے عجائب کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے۔ حضرت مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حضور ﷺ سے پوچھا کہ حضور! اُس دور میں بچنے کی صورت کیا ہوگی؟ تو حضور نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب؛ اور آگے حضور ﷺ نے ایک لفظ ارشاد فرمایا : یہ وہ کتاب ہے جس کے عجائب کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے۔ اس کے عجائب اور اس کی روشنیاں اور اس کے دامن سے پھوٹتی ضیائیں، اُجالے کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے اور یہ ہمیشہ انسانی زندگی میں چراغاں کرتا رہے گا۔
اس کتاب کے ہوتے ہوئے بھی ہم اندھیرے میں رہیں تو اس سے بڑی افسوس ناک بات کوئی نہیں۔ اس کتاب سے اپنی زندگی کی روشنیاں، اپنی زندگی کے اجالے حاصل کرنے چاہیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close