اسلامیاتبلاگمضامین

قربانی کے فضائل ومقاصد

غریب وسادہ ورنگین ہے داستان حرم
انتہاہے جس کی حسینؓ توابتداء ہے اسمٰعیل ؑ
قربانی ایک ایسالفظ ہے جواپنے اندروسیع ترمفہوم رکھتاہے۔اگرقربانی کوایک اصطلاح کہاجائے توبے جانہ ہوگاکہ انفرادیت سے لے کراجتماعیت تک اوراس کائنات کوہنگاموں ،فتنہ وفسادات سے بچائے رکھنے کادارومدارصرف ایک لفظ قربانی پرہے۔مذہبی نقطۂ نظرسے دیکھاجائے تواسلام جودین فطرت ہے اس کی ابتداء اورانتہاعظیم قربانیوں کی اَن مٹ اورناقابل فراموش داستانوں پرمشتمل ہے۔عہدحاضرمیں دیکھاجائے توہم نے اپنے انفرادی واجتماعی زندگیوں سے ’’قربانی ‘‘کویکسرنکال دیاہے۔ہوس، بے بسی،ذہنی آلودگی،مایوسی، ڈیپریشن،لادینیت،افراتفری،ذات پسندی اورعصرحاضرکی دیگرذلت آمیزبرائیاںاسی لفظ کوفراموش کردینے کاثمرہ ہے۔انہیں برائیوں نے نہ صرف معاشرے کی جڑوں کوکھوکھلاکرکے رکھ دیابلکہ دین اسلام کی بنیادیں ہلادیں۔
قربانی ایک ایسے جذبے اورعمل کانام ہے جس کے ذریعے مؤمن روح کی پاکیزگی حاصل کرتاہے۔جبکہ نفسانی خواہشات سے آزادی اورجبلتوں سے چھٹکارابھی قربانی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔تاہم بدقسمتی سے آج کے نفس پرست اوراحکامات شرعیہ سے نابلد نام نہادمسلمانوںنے عیدقربانی جیسے عظیم مذہبی فریضے اورتہوارکودکھاوے ،نمودونمائش،نفسانی خواہشات کی تکمیل اورایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی بھینٹ چڑھادیا۔
عیدالاضحی (یعنی عیدقرباں)اللہ تبارک وتعالیٰ کے خلیل ،عظیم پیغمبرحضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مبارک سنت ہے۔قرآن کریم میں ارشادہوتاہے کہ:(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا)’ ’ائے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھامیں تجھے ذبح کرتاہوںاب تودیکھ تیری کیارائے ہے؟‘‘(ترجمہ:کنزالایمان،سورۃالصافات،102)
حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ نے بلاتأمل اپنے والدمحترم کو جواب دیا!’’کہاائے میرے باپ کیجئے جس بات کاآپ کوحکم ہوتاہے،خدانے چاہاتوقریب ہے کہ آپ مجھے صابرپائیںگے‘‘۔(ترجمہ:کنزالایمان،سورۃ الصافات،102)یعنی ائے میرے بزگ باپ! حکم الٰہی کی تعمیل فورا ًفرمائیے۔باقی رہامیں تومجھے آپ ؑ صابروں میں سے پائیںگے اوران شاء اللہ کے کلمات طیبات کااضافہ کرکے اپنے مقام عبدیت اورنیازکوچارچاندلگادیے ‘میں صبرکروں گالیکن تب جب میرے رب کومنظورہوایعنی اگرمیں نے مقام رضامیں کامیابی حاصل کرلی اوراس نازک امتحان میں سرخروہوا۔تواس میں میراکوئی کمال نہ ہوگا۔محض میرے رب کریم کااحسان اورفضل وکرم ہوگاکہ مجھے صابربننے کی توفیق عطافرمائی ۔جس اسلام کی دعوت حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام دیاکرتے تھے اس کاعملی مظاہرہ حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی اس اداسے زیادہ حسین اوردلکش کیونکرپیش کیاجاسکتاہے۔شاعرمشرق فیلسوف اسلام نے یوں ہی تونہیں کہا۔ ؎
یہ فیضان نظرتھایاکہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمٰعیل ؑکوآداب فرزندی!
اورپھراخلاص ووَفاکے پیکر نوجوان حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ علیہ السلام نے اپنی معصوم وشگفتہ گردن کوحکم الٰہی کی تکمیل اورایک عظیم پیغبراپنے والدمکرم حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خواب کی لاج رکھنے کے لئے زمین پرڈال دی۔جبکہ دوسری جانب حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اطاعت الٰہی کوپوراکرنے کے لئے شفقت پِدری کواپنے دل سے کھرچ ڈالتے ہیںاپنے محبوب لخت جگراوربڑھاپے کے سہارے کوقربان کرنے کے لئے اس کے سینے پرگھٹناٹیکے ہیںاوراُس کی نرم ونازک گردن پرچھری چلانے لگتے ہیںکہ ابن آدم کی وفاشعاراوراطاعت کایہ منظردیکھ کریکایک رحمت الٰہی جوش میں آتی ہے ایک فرشتہ فوراًحکم الٰہی کے مطابق حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی جگہ جنتی میڈھاحضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی چھری کے نیچے رکھ دیتاہے اوروہ مینڈھے کے گلے پرچھری پھیرکرجاں نثاری اوروفاداری کے جذبات کی تسکین کرتے ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:’’اورہم نے اسے ندافرمائی کہ ائے ابراہیم بے شک تونے خواب سچ کردکھایاہم ایساہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،بے شک یہ روشن جانچ تھی‘‘۔(ترجمہ: کنز الایمان،سورۃ الصافاۃ،آیت نمبر104,105,106)
اگرتاریخ کابغورجائزہ لیاجائے تویہ بات عیاں ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ قربانی یکایک نہیں لی گئی بلکہ ان کی پوری زندگی ہی عشق الٰہی کے جذبے سے سرشارہوکرقربانیاں دینے میں گزری۔حیات حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کواگرقربانی کی تفسیرکہاجائے تویہ بے جانہ ہوگا۔اللہ تبارک وتعالی کی خاطرآپ شفقت پِدری سے محروم ہوئے ،اسی کی خاطرہی آگ کوترجیح دی،بقول شاعرؔ
بے خطرکودپڑاآتش نمرودمیں عشق
عقل ہے محوتماشائے لب بام ابھی
خدائے وحدہ لاشریک کی خاطرہی اس محبوب نبی ؑاوراکلوتے لخت جگرونورِنظرکوبے آب وگیاہ ریگستان میں چھوڑااورجب یہی بچہ سِنِّ شعورکوپہنچاتواپنے ہی ہاتھوں سے اس کے نرم ونازک گلے پرچھری چلانے کے لئے آمادہ ہوگئے۔
اسلام کے معنی کامل اطاعت،مکمل سپردگی اورسچی وفاداری کے ہیں،اگرآپ خدائے وحدہٗ لاشریک کے سچے وفادارنہیں ہیںتومحض جانوروں کاخون بہاکرحضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی مبارک سنت کوتازہ نہیں کرسکتے۔اس واقعہ کودہرانے کااصل مقصدانہیںجذبات کودل ودماغ اورروح پرطاری کرناہے جوجذبات واحساسات حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے تھے۔اللہ تبارک وتعالیٰ کی کامل اطاعت اورسب کچھ اس کے حوالے کردینے کاعزم نہ ہوتومحض جانوروں کاخون بہانا،گوشت کھانایاتقسیم کرناقربانی نہیں ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ کاارشادہے :’’اللہ کوہرگزنہ ان کے گوشت پہنچتے ہیںنہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے‘‘(ترجمہ: کنز الایمان،سورۃ الحج،آیت نمبر37)اللہ تبارک وتعالیٰ کوصرف اخلاص،وفاداری،تقویٰ وپرہیزگاری کے وہ جذبات مطلوب ہیںجوآپ کے دل میں پیداہوتے ہیں،تقویٰ وپرہیزگاری کی ضمانت قرآن نے یوں کی ہے ’’اورانہیں پڑھ کرسناؤآدم کے دوبیٹوں(قابیل وہابیل) کی سچی خبرجب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی توایک کی قبول ہوئی اوردوسرے کی نہ قبول ہوئی بولاقسم ہے میں تجھے قتل کردونگا،کہااللہ اسی سے قبول کرتاہے جسے ڈرہے‘‘(ترجمہ: کنز الایمان،سورۃ المائدۃ،آیت نمبر27)
مذکورہ آیت کریمہ کاواقعہ کچھ یوں ہے جسے علماء سیرواخبارنے بیان کیاہے کہ حضرت حواکے حمل میں ایک لڑکاایک لڑکی پیداہوتے تھے اورایک حمل کے لڑکے کادوسرے حمل کی لڑکی کے ساتھ نکاح کیاجاتاتھااورجبکہ آدمی صرف حضر ت آدم علیہ السلام کی اولادمیں منحصرتھے تومنکاحت کی اورکوئی سبیل ہی نہ تھی اسی دستورکے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کانکاح ’’لیودا‘‘سے جوہابیل کے ساتھ پیداہوئی تھی اورہابیل کا’’اقلیما‘‘سے جوقابیل کے ساتھ پیداہوئی تھی کرناچاہاقابیل اس پرراضی نہ ہوااورچونکہ’’ اقلیما‘‘زیادہ خوبصورت تھی اس لئے (قابیل) اس کاطلبگارہواحضرت آدم علیہ السلام نے فرمایاکہ وہ تیرے ساتھ پیداہوئی لہٰذا تیری بہن ہے اس کے ساتھ تیرانکاح حلال نہیں ،(قابیل)کہنے لگایہ توآپ کی رائے ہے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا،آپ ؑ نے فرمایاتوتم دونوں قربانیاں لاؤ جس کی قربانی مقبول ہوجائے وہی ’’اقلیما‘‘کاحقدارہے۔اس زمانے میںجوقربانی مقبول ہوتی تھی آسمان سے ایک آگ اُترکراُ س کوکھالیاکرتی تھی قابیل نے ایک انبارگندم اورہابیل نے ایک بکری قربانی کے لئے پیش کی ،آسمانی آگ نے ہابیل کی قربانی کولے لیااورقابیل کے گیہوں چھوڑگئی اس پرقابیل کے دل میں بہت بغض وحسدپیداہوا،جب حضرت آدم علیہ السلام حج کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے توقابیل نے ہابیل سے کہاکہ میں تجھ کوقتل کردونگاہابیل نے کہاکیوں؟(قابیل )کہنے لگااس لئے کہ تیری قربانی مقبول ہوئی (خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں)میری نہ ہوئی اورتو’’اقلیما‘‘کامستحق ٹھہرااس میں میری ذلت ہے۔ہابیل کے اس مقولہ کایہ مطلب ہے کہ قربانی کاقبول کرنااللہ تبارک وتعالیٰ کاکام ہے وہ متقیوں کی قربانی قبول فرماتاہے تو(یعنی ائے قابیل اگر)متقی ہوتاتوتیری قربانی (ضرور)قبول ہوتی یہ خودتیرے افعال کانتیجہ ہے اس میں میراکیادخل۔(خزائن العرفان فی تفسیرالقرآن،پارہ 6،ص,1999,200مطبوعہ مدینہ بک ڈپودہلی)
اگرہم بغورجائزہ لیں توآج کے حالات دورجہالت سے کچھ مختلف نہیںہیں۔ہم اپنے لئے توبہترین چیز پسندکرتے ہیںاوراللہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میںدینے کے لئے گھٹیااورفالتوچیزپیش کرتے ہیں۔جب کہ دوسری جانب اگراللہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میں بہترین مال بھی خرچ کررہے ہیںتواس کامقصدتقویٰ وپرہیزگاری نہیں ہے بلکہ محض نمودونمائش ،جھوٹی شان وشوکت اوردوسروں پراپنی برتری قائم کرناہوتاہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ کے محبوب ،دانائے خفاء وغیوب،حضوراحمدمجتبیٰ ،محمدمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’اعمال کادارومدارنیتوں پرہے‘‘۔(بخاری شریف)اورہماری بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہماری نیتیں صراط مستقیم سے یکسرمختلف ہیں۔
آج قربانی محض نمودونمائش ،برتری قائم رکھنا،میل جول کے لوگوں اوراپنی کلاس میں نمایانظرآنااور’سٹیٹس سمبل‘بن چکی ہے ۔حقیقی روح سے خالی قربانی محض ہماری اَناکی تسکین بن کررہ گئی ہے،ہمارے نزدیک قربانی اونچے ٹریڈکے کیٹل فارم(cattle farm)سے مہنگے ترین جانورخریدنے تک محدودہے۔جبکہ اخلاص وروح سے خالی عبادات بارگاہ الٰہی میں قبول ہی نہیں کی جاتیں۔
قربانی ایک اہم مالی عبادت بھی ہے اورشِعارِاسلام سے ہے۔حضوراکرم،نورمجسم،سیدعالم،شاہ بنی آدم ،نبی محتشم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بعدہجرت دس سال تک مدینہ طیبہ میں قیام فرمایااورہرسال قربانی فرماتے رہے جس سے معلوم ہواکہ قربانی صرف مکہ معظمہ ہی کے لئے مخصوص نہیں بلکہ ہر اس شخص پرہے جوصاحب نصاب ہوچاہے کہیں بھی رہتاہواس پرقربانی واجب ہے۔منکرین حدیث کانام نہادمسلمان ٹولہ جواس مالی عبادت پراعتراض کرتاہے کہ اس پربے انتہاپیسہ خرچ ہوتاہے لہٰذااس کے بجائے ان پیسوں سے فلاحی امورمثلاًمحتاج خانے شفاخانے وغیرہ بنادیناچاہیے۔یہ اعتراض بالکل لغوہے۔پھرتوحج جیسی اہم مالی عبادت بھی جوشعائراسلام سے ہے اس کوبھی یہ کہہ کرختم کیاجاسکتاہے کہ لاکھوں روپے ہرسال حج پرخرچ ہوتے ہیں لہٰذابجائے حج کے فلاحی اموراوررفاہِ عامہ پرخرچ کردیاجائے توزیادہ بہترہوگااورصرف یہ کہناکہ قربانی حج کے موقع پرمکہ معظمہ ہی میں ہوسکتی ہے غلط ہے البتہ صرف حج کی قربانی بے شک مکہ معظمہ ہی کے ساتھ خاص ہے۔لیکن عیدالاضحی کی قربانی ہرمالک نصاب پرواجب ہے خواہ وہ کہیں بھی ہو……..!
قربانی احادیث مبارکہ کی روشنی میں: (۱)حضورپاک ﷺ نے ارشادفرمایاکہ یوم النحر(دسویں ذی الحجہ)میں ابن آدم کاکوئی عمل خدائے تعالیٰ کے نزیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے)سے زیادہ پیارانہیں اوروہ جانورقیامت کے دن اپنے سینگ ،بال اورکھروں کے ساتھ آئے گااورقربانی کاخون زمین پرگرنے سے قبل خدائے رب ذوالجلال کے نزدیک قبول ہوجاتاہے لہٰذااُسے خوش دلی سے کرو۔(ابوداؤد،جامع الترمذی،ابن ماجہ)
(۲)حضرت زیدابن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ ذکرکرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ !یہ قربانیاں کیاہیں؟ توحضورپاک ﷺ نے فرمایایہ تمہارے باپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔تولوگوں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ! ہمارے لئے اس میں کیاثواب ہے ؟ فرمایا! ہربال کے برابرنیکی ہے ،عرض کی اون کیاکیاحکم ہے؟ فرمایا ! اون کے ہربال کے بدلے میں بھی نیکی ہے۔(جامع الترمذ ی ،ابن ماجہ)
(۳)حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں کہ حضوراکرم ﷺ مدینہ شریف میں دس سال رہے اوراس عرصے میں آپ نے ہرسال قربانی فرمائی۔(مشکوٰۃ المصابیح،جامع الترمذی)
(۴)حضور پاک ﷺنے فرمایاکہ جس نے خوش دلی سے طالب ثواب ہوکرقربانی کی تواس کے لئے وہ آتش جہنم سے حجاب (روک)ہوجائے گا۔
(۵)اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قربانی کے اجروثواب کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ جوشخص قربانی کاجانورخریدنے کے لئے گھرسے نکلتاہے تواُسے ہرقدم کے بدلے دس نیکیاں عطاکی جاتی ہیں۔اوراس کے نامۂ اعمال سے اس کے دس گناہ مٹادیئے جاتے ہیں اوراس کے دس درجے بلندکیئے جاتے ہیں۔اورجب وہ اس کے خریدنے کے متعلق جانورکے مالک سے گفتگوکرتاہے تواس کاکلام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بن جاتی ہے۔ اورجب وہ اس کی قیمت نقد اداکرتاہے تواُسے ہردرہم کے بدلے سات سونیکیاں حاصل ہوجاتی ہیں۔ اورجب وہ اس کوذبح کرنے کے لئے زمین پرلٹاتاہے ۔توسطح زمین سے لے کرساتویں آسمان تک تمام مخلوقات اس کے لئے مغفرت طلب کرتی ہے۔اورجب اس کاخون زمین پرگرتاہے توخون کے ہرہرقطرہ سے اللہ تعالیٰ دس فرشتے پیداکرتاہے جواس کے لئے قیامت تک مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔اورجب وہ اس کاگوشت تقسیم کرتاہے توگوشت کی ہربوٹی کے بدلے حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی اولادمیں سے ایک غلام آزادکرنے کاثواب ملتاہے۔(جواہرزادہ،ضیاء الواعظین،حصہ دوم،ص465)
قربانی نہ کرنے کی سزا: وہ شخص جومالک نصاب ہواوروہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام اورحضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی مبارک سنت کواداکرنے کے لئے قربانی نہ دے تواس کوسخت وعیدسنائی گئی ہے۔جودرج ذیل ہے۔
حضورنبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے روایت کیاگیاہے کہ آپؐ نے فرمایاجوشخص خوشحال ہویعنی صاحب نصاب ہواوروہ قربانی نہ کرے تووہ خواہ یہودی ہوکرمرے یانصرانی ہوکرمرے(اللہ تبارک وتعالیٰ کواس کی پرواہ نہیں)اوردوسری روایت میں ہے کہ جوشخص صاحب استطاعت ہواوروہ قربانی ذبح نہ کرے توہماری جائے نمازکے نزدیک تک نہ آئے۔
ایک اوردوسری روایت میں ہے کہ’’ وہ شخص جو ہماری نماز(عید)کی طرح نماز پڑھے اورہماری قربانی کی طرح قربانی کاجانورذبح کرے تووہ ہم میں سے ہے۔اوروہ شخص جومالدارہواوروہ ہماری نمازکی طرح نمازنہ پڑھے اورنہ ہی ہماری قربانی کی طرح قربانی کرے تووہ ہم میں سے نہیں‘‘۔(درۃ الناصحین)
حضورعلیہ السلام نے ارشادفرمایاکہ میری امت کے بہترین لوگ ہی قربانی ذبح کرتے ہیںاورمیری امت کے شریرلوگ قربانی ذبح نہیں کرتے۔(درۃ الناصحین)
مذکورہ تمام احادیث طیبہ سے قربانی کرنے کی فضیلت اورنہ کرنے پروعیدیں واضح طورپرثابت ہوگئے اس لئے جن مسلمان بھائیوں کواللہ رب العزت جل شانہٗ نے(ساڑھے باون تولہ چاندی یاساڑھے سات تولہ سونایاان میں سے کسی ایک کی قیمت کاسامان تجارت یاسامان غیرتجارت یاان میں سے کسی ایک کی قیمت بھرکے روپے کامالک بنایاہواورمملوکہ چیزیں حاجت اصلیہ سے زائدہوں )تواس پرقربانی کرناقربانی کے دنوں میں واجب ہے اورنہ کرنے والاسخت گنہگارہے۔
قربانی کے سب شرکاء کی نیت تقرب (یعنی ثواب حاصل کرنا)ہو کسی کاارادہ گوشت حاصل کرنانہ ہولیکن یہ ضروری نہیںکہ وہ تقرب ایک ہی قسم کاہومثلاً سب قربانی کرناچاہتے ہوں بلکہ قربانی کے ساتھ عقیقہ کی بھی شرکت ہوسکتی ہے کہ عقیقہ بھی تقرب کی ایک صورت ہے۔شرکت میں قربانی ہوئی توضروری ہے کہ گوشت وزن کرکے صحیح سے تقسیم کیاجائے اندازہ سے تقسیم نہ ہوکیونکہ ہوسکتاہے کہ کسی کوزائدملے یاکم یہ ناجائزہے۔یہ خیال کرناکہ کم وبیش ہوگاتوایک دوسرے کومعاف کردیں گے۔یہ صحیح نہیں ہے۔البتہ تمام حصہ دارکسی ایک شریک کومالک بنادیں کہ وہ جسے چاہے گوشت دے اورجسے چاہے نہ دے اوراس کے نہ دینے سے کوئی شریک ناراض بھی نہ ہوتوجوازکی صورت ہوسکتی ہے۔اوراسے تقسیم کرنے کے لئے وزن کرناضروری نہیں ہوگا۔(وقارالفتاویٰ ،جلدچہارم،ص472)
آئیے آج ہم عہدکریںکہ عیدالاضحی کواس کی حقیقی روح کے مطابق منائیں گے اوران لوگوں کی باتوں پر ہرگزتوجہ نہیں دیں گے جوقربانی جیسے عظیم مالی عبادت سے روکنے کی ناپاک کوششیں کررہے ہیں۔قربانی کے مقصدومفہوم کوسمجھ کرزندگی کے ہرمعاملے میںشیوۂ وطریقۂ پیغمبری ؑکادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے اور’’جذبۂ قربانی‘‘کواپناشعاربنائیں گے۔آخرمیں بارگاہ رب العزت میں دعاء گوہوں کہ پورے خلوص وللٰہیت کے ساتھ ہرصاحب نصاب مسلمان کوقربانی کرنے کی توفیق عطافرمانام ونمود،نمائش اورجھوٹی شان وشوکت سے ہم تمام مسلمانوں کے دامن کوبچا۔آمین بجاہ النبی طٰہ ویٰسین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close