بہارسیمانچل

قربانی ہر عاقل، بالغ صاحب نصاب مرد اور عورت پرواجب ہے:شبیراحمد

کٹیہار:صالح پور مہیش پور کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز سے قبل شبیر احمد قاسمی نے قربانی کی فضیلت پر بیان کرتے ہوئے کہاکہ رسول اللہ ؐنے ارشاد فرمایا کے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی عید الاضحی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ زندہ ہو کر آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے پس اے خدا کے بندو دل کی پوری خوشی سے قربانی کیا کرو،قرآن شریف کی آیت اور حدیث اور صحابہ کے اعمال سے یہ بات واضح ہے کہ قربانی تو عہد آدم علیہ السلام سے ثابت ہے۔مولانا نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خواب کے ذریعے حکم دیا تھا کہ آپ اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل کی قربانی پیش کرو، کیونکہ یہ حکم خداوندی تھا اس لیے آپ نے اپنے بیٹے کی محبت پر حکم خداوندی کو مقدم رکھتے ہوئے فرمان الہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔پس یہ بات معلوم ہوگئی کہ قربانی جوہر مسلمانوں پر لازم کی گئی ہے و حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی یادگار ہے۔موصوف نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ کہنے اور سننے میں یہ بات بری آسان معلوم ہوتی ہے کے ایک باپ نے رضائے الہی کیلئے اپنے بیٹے کے حلق پر چھری پھیر دی مگر اس کارنامے کو انجام دینا انتہائی مشکل کام ہے باپ کی محبت ضرب المثل ہیں ایک باپ کو اپنے بیٹے سے جو محبت اور الفت ہوتی ہے اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو صاحب اولاد ہو اور خصوصا جب بیٹا ہونہار ہو اطاعت گزار ہو اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بیٹا اکلوتا ہو کوئی دوسرا اولاد نہ ہو غور کریں ایسے باپ کو اس بیٹے سے کتنی الفت اور محبت ہو سکتی ہے مگر نہیں جس کا دل نور ایمان و یقین سے روشن ہو جس کوخدائے وحدہٗ لاشریک کی معرفت حاصل ہو ایساشخص حکم خداوندی پر محبوب سے محبوب چیز کو بھی نچھاور کر سکتاہے۔
مولانا موصوف نےفرمایا کہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ قربانی کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے پھر صحابہ کرام نے سوال کیا ہے یا رسول اللہ ہمیں اس سے کیا حاصل ہوتا ہے آپ صل وسلم نے فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی جانور کے بدن پر جتنے بھی بال ہوں گے اتنی ہی نیکیاں تمہارے نامہ اعمال میں لکھ دی جائیگی۔ ایک حدیث میں اللہ کے نبی صلعم نے میں فرمایا خون کا ایک قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے ہمارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں خوش نصیب ہے وہ لوگ جو اللہ کا یہ حکم پورا کرتے ہیں اور جانور کے ہر ہر بال کے عوض نیکی پاتے ہیں ایک جانور کے جسم پر بے شمار بال ہوتے ہیں اندازہ کیجئے کہ ان کے نامہ اعمال میں کتنی نیکیاں لکھ دی جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر کیا خوشخبری ہو سکتی ھے خون کا ایک قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے قربانی کرنے والے کی مغفرت ہوجاتی ہے۔اور بد نصیب ہیں وہ لوگ جو صاحب استطاعت ہو اور قربانی نہ کرے اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے لوگوں کے لئے بری سخت وعید ارشاد فرمائی ہے جو شخص وسعت اور قدرت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے اسیلئے میرے بھائیو قربانی اللہ کی رضا کے واسطے کرو۔
مولانا موصوف نے قربانی کرنا ہر ایسے شخص پر واجب ہے جو مسلمان عاقل بالغ مقیم ہو یعنی شرعی مسافر نہ ہو ضرورت اصلیہ سے زائد مال کا مالک ہو ایسے شخص پر قربانی واجب ھے قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ سے لیکر بارھویں ذی الحجہ کہ غروب آفتاب تک قربانی کا وقت ہے لیکن قربانی کرنے کا سب سے بہترین دن دسویں تاریخ ہے پھر گیارھویں پھر بارہویں۔قربانی کے جانور بکرا بکری دنبہ دنبی کیلئے ایک سال کا ہونا شرط ہے لیکن دنبہ د نبی اگر چھ مہینے کا موٹا فربہ ہو اور وہ دیکھنے میں سال بھر کا لگ رہا ہو تو قربانی جائز ھے کٹرا کٹری کے لیے دو سال کا ہونا شرط ہے اونٹ پانچ سال کا ہونا شرط ہےایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے جو عیب دار ہو جیسے اندھا ہو لنگڑا ہو ایسالنگڑا جو قربانی گاہ تک نہ جا سکتا ہو اسی طرح جس جانور کی پیدائشی طور پر کان نہ ہو بڑے جانور کے دو تھنوں سے دودھ یا چھوٹے جانور کے ایک تھن سے دودھ نہ نکلتا ہو یا جانور بھینگا ہو یا باولا ہو یا سینگ جڑ سے اکھڑ گیا ہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے لہذا قربانی کے جانور خریدنے میں ان عیب دار چیزوں کا کا خاص خیال رکھکر قربانی کی جانور خریدیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close