پنجابسیاستہندوستان

قرض معافی کے نام پر کسانوں سے دھوکہ دہی کر رہی ہے کانگریس: مودی

گرداس پور (پنجاب): وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جس طرح کانگریس نے ماضی میں ‘غریبی ہٹاؤ’ کے نام پر لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی، اسی طرح کانگریس اب قرض معافی کے نام پر کسانوں کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔جمعرات کے روز یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پنجاب میں حکمراں کانگریس حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس نے کسانوں سے فارم بھرواکر ان کے دو لاکھ کروڑ روپے تمام بینکوں اور ساہوکاروں کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تقریبا ًدو سال کے اپنے دوراقتدار میں کانگریس نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے کسانوں کے 3400 کروڑ روپے معاف کئے ہیں۔ مرکز میں سال 2008-09 میں بھی کانگریس نے اقتدار میں آنے کے لئے کسانوں کے قرض، جو کہ اس وقت 6 لاکھ کروڑروپے تھے، معاف کرنے کا وعدہ کیا لیکن معاف کئے محض 60 ہزار روپے۔ اسی طرح اب بھی کانگریس قرض معافی کے نام پر کسانوں کوبیوقوف بنا رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ دنیا گرو بابا نانک دیو جی کی دھرتی ہے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ نئے سال میں گرداس پور آیا ہوں اور یہاں سے میر ے اند رنئی توانائی آئے گی۔ یہ بہت بڑی دھرتی ہے۔ گرداس پور نے ملک کو بہت کچھ دیا ہے۔ یہ ونود کھنہ اور دیوانند کی سرزمین ہے۔ ونود کھنہ نے جو ترقیاتی کام کئے تھے، وہ نظر آتے ہیں۔ موجودہ مرکزی حکومت پورے ملک کی ترقی کر رہی ہے۔ ہم پرکاش سنگھ بادل کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ملک کو مضبوط کرنے کے کام کر رہے ہیں۔
یہ دھرتی بابے نانک دی دھرتی ہے، ‘کیرت کرو ونڈ چھکو نام جپو’ یہ پیغام دنیا تک لے کر جایا جائے گا۔ پورے سال پروگرام کیا جائے گا۔ 550 سال کے پرکاش اتسو کو لے کر حکومت کام کر رہی ہے۔ملک کی تقسیم کے وقت ہمارے مقدسمقامات کو دور رکھا گیا۔ اس وقت کی حکومت نے صحیح کردار ادا نہیں کیا۔ اس کی وجہ سے ہم اپنے مقدس مقامات سے محروم ہو گئے۔ ہماری حکومت نے کرتارپور کوریڈور کھولنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ ہم نے پاکستان میں اپنے دو وزیر بھیجے ہیں لیکن کانگریس کے لیڈر نے پاکستان کو موقع دے دیا اور اس نے اپنے وزیر اعلیٰ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کر دیا۔انہوں نے کہا کہ آج بہت سے لوگ وندے ماترم کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان سے پنجاب کے ساتھ۔ ساتھ تمام کو آگاہ رہنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی سکھ قتل عام کے لوگوں کو وزیر اعلیٰ کی کرسی دی گئی۔ قصورواروں کو بچا لیا گیا اور فائلوں دبا کر رکھی گئیں لیکن این ڈی اے حکومت نے ان فائل کو باہر نکالا اور نتائج سب کے سامنے ہے۔ یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت تمام طبقوں کے لئے کام کر رہی ہے۔ اس حکومت نے کسانوں کو فصلوں کی قیمت سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو ملک میں ترقی ہوئی ہے، وہ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے وقت سے شروع ہوئی تھی۔ شاہ پور کنڈی ڈیم کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جا رہے پانی کو اب پنجاب اور جموں -کشمیر کی ہزاروں ایکڑ زمین کوسیراب کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا اور اسی پانی سے 200 میگا واٹ بجلی بھی پیدا کی جا سکے گی۔ راجستھان نہر اور سرہند فیڈر کے لئے 800 کروڑ روپے جاری ہو چکے ہیں۔ اس سے نہ صرف کسانوں کو آبپاشی کے لئے اضافی پانی ملے گا، بلکہ سیم (دلدل) سے ضائع ہو رہی 85000 ہیکٹیئر زمین بھی بچائی جا سکے گی۔ پنجاب کے لئے جاری دیگر منصوبوں کاذکربھی وزیر اعظم نے کیا۔
اس سے قبل اکالی دل سربراہ سکھبیر سنگھ بادل نے کرتارپور کوریڈور، 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی جانچ، پنجاب میں ہزاروں کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام کروانے کے لئے وزیر اعظم مودی کا شکریہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سکھوں کو اس وقت تک انصاف نہیں ملے گا، جب تک سکھ مخالف فسادات کے لئے راجیو گاندھی کا نام شامل نہیں کیا جاتا۔ سکھبیر نے گاندھی خاندان کے نام پر بنی سڑکوں، اسکولوں اور اداروں کا نام تبدیل کرنے کی بھی اپیل کی۔ اس موقع پر پنجاب بی جے پی کے صدر شویت ملک نے بھی لوگوں سے خطاب کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close