سیاستہندوستان

قریشی نے پاکستان کا اصلی چہرہ دکھا دیا: سشما سوراج

بیکانیر: وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ کرتارپور کوریڈور کے معاملے میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو بیان دیا ہے اس سے پاکستان کا اصلی چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ محترمہ سوراج آج یہاں صحافیوں کے سامنے پاکستان کے مسٹر قریشی کے اس بیان کا جواب دے رہی تھیں جس میں مسٹر قریشی نے کہا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایسی گگلی پھینکی جس سے کرتارپور کوریڈور کی تعمیر کے لیے پاکستان میں منعقدہ تقریب میں ہندوستان کو دو اپنے مرکزی وزراء بھیجنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے وزیر وہاں تقریب میں شرکت کرنے کے لیے نہیں بلکہ کرتارپور گرودوارہ میں ماتھا ٹیکنے گئے تھے، لیکن مسٹر قریشی نے اس پر جو ڈرامائی طور پر تبصرہ کیا ہے ، اس سے پاکستان کا اصلی چہرہ اجاگر ہو گیا ہے۔ پاکستان نے اسے جس ڈرامائی طور پر لیا ، اس سے واضح ہو گیا کہ وہ سکھوں کے جذبات کا احترام نہیں کرتا۔قابل ذکر ہے کہ سکھوں کے مذہبی عقیدے کے اہم مرکز کرتارپور اور ننکانہ صاحب کے لئے کوریڈور کی تعمیر کیلئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا ہے۔
اس موقع پر پاکستان کے کرتارپور میں تقریب منعقد کی گئی تھی، جس میں محترمہ سوراج کو مدعو کیا گیا تھا۔ محترمہ سوراج کی مصروفیت کی وجہ سے دو مرکزی وزراء کو وہاں بھیجا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں مسٹر قریشی نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایسی گگلی پھینکی جس سے ہندوستان پھنس گیا اور اسے اپنے دو وزیر بھیجنے پڑے۔
محترمہ سشما سوراج نے کہا کہ امن کی پہل کے لئے ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو مدعو کیا تھا۔ لیکن اس کے دو ہفتے بعد ہی پٹھان کوٹ پر حملہ ہو گیا۔ برہان وانی کو مجاہد آزادی بتایا گیا۔ پھر اڑي میں فوجی کیمپ پر حملہ کیا گیا۔ پاکستان نے دہشت گردوں کو حمایت دینا بند نہیں کیا۔ لہذا ان سے کسی طرح کی بات چیت ممکن نہیں ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا کاروبار بڑھا ہے۔محترمہ سوراج نے کہا نے قومی شہریت رجسٹریشن ( این آرسي) میں کسی طرح کا فرقہ وارانہ امتیاز نہیں کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کی ان اقلیتوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا التزام کیا گیا ہے جو وہاں مذہبی بنیاد پر امتیازی سلوک کا شکار ہیں اور انہیں ستایا جا رہا ہے۔ ان متاثرین میں ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ مت اور جین ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہندوستان کی شہریت دینے کی بات کہی گئی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close