ہندوستان

قومی اقلیتی کمیشن کو آئینی درجہ دیا جائے: ایس ڈی پی آئی

چنئی10اگست ۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی قومی سکریٹریٹ اجلاس چنئی میں واقع پارٹی ریاستی دفتر میں پارٹی قومی صدر ایم کے فیضی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔جس میں ملک کے موجود ہ صورتحال اور ملک کے عوام کو درپیش مختلف مسائل پر بحث کیا گیا۔اجلاس کے اختتام میںمندرجہ ذیل 6اہم قرار داد منظور کئے گئے۔ 1)۔ ڈاکٹر ایم کروناندھی کی موت پر اظہار افسوس :ایس ڈی پی آئی نے اپنے قرارداد میں قد آور ڈراوڈین تحریک کے لیڈر ڈاکٹر ایم کروناندھی کی موت پر غم اور افسوس کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کروناندھی ملک کے ریاستی خودمختاری اور وفاقی نظام حکومت کیلئے ایک عظیم مثال قرار دیا۔ مساوات اور سماجی انصاف کیلئے انہوں نے جو لڑائیاں لڑی تھیں ان کے موت کے بعد جو نقصان ہوا ہے اسے ایس ڈی پی آئی محسوس کرتی ہے۔ڈاکٹر کروناندھی نے تمل ناڈو کے سیاسی میدان میں جتنے بھی انتخابات لڑے ہیں ان سب میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ پانچ مرتبہ تمل ناڈو وزیر اعلی رہ چکے ایم کروناندھی بلاشبہ ایک عوامی لیڈر رہے ہیں۔ 2)۔جسٹس جوسف کی سینئرٹی گھٹانا بی جے پی کی سازش : ایس ڈی پی آئی نے اپنے قرارداد میں جسٹس جوسف کی سینئرٹی گھٹائے جانے کو بی جے پی کی سیاسی مفاد پرستی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نے اپنے مفادا ت کے خاطرسپریم کورٹ کے تقدس کو پامال کیا ہے۔ کالجیم کے 10جنوری کے سفارشات اور11مئی ،16جولائی کو کالجیم کے فیصلے کے خلاف مرکزی حکومت نے جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس ونیت سرن کو جسٹس جوسف پر سینئرٹی دی ہے۔ جس سے سپریم کورٹ کے سٹنگ ججس کو گہری تشویش ہوئی ہے کیونکہ مرکزی حکومت نے عدالت کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ایسے ججوں کی حوصلہ شکنی کی ہے جو حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف احکامات جاری کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ 3)۔پٹنہ اور دیوریا جنسی تشدد : قرارداد میں ایس ڈی پی آئی نے ملک بھر میں خواتین کے خلاف ہورہے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں اب تک 900سے زائد خواتین کو جنسی تشدد کی شکار ہوئی ہیں۔ بی جے پی لیڈران نے نابالغ بچیوں کو بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ بہار کے پٹنہ شہر اور اتر پردیش کے دیوریا میں حکومت کے امداد سے چلائے جانے والی گرلز شیلٹر ہاسٹل میں لڑکیو ں کے ساتھ مبینہ عصمت دری کے واقعات کے انکشا ف کے بعدحکومت پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ چو نکہ مجرموں کا حکمران جماعتوں سے قریبی تعلق ہے لہذا انہیں حکومتیں بچانے کی کوشش کررہی ہیں۔ قرار د اد میں ایس ڈی پی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ مجرموں کو فا سٹ ٹراک عدالت کے ذریعے سخت سے سخت اور عبر تناک سزا دیا جانا چاہئے۔4)۔قومی اقلیتی کمیشن کو قانونی درجہ : ایس ڈی پی آئی نے اپنے قرارداد میں پرزورمطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت نے جس طرح انسانی حقوق کمیشن اور او بی سی کمیشن کو آئینی درجہ دیا ہے اسی طرح قومی اقلیتی کمیشن کو بھی آئینی درجہ دیا جائے۔مرکزی حکومتیں اقلیتی طبقات کے مطالبات کو طویل عرصے سے نظر انداز کرتی آرہی ہیں۔ قومی اقلیتی کمیشن کو موثر بنانے کے لیے کمیشن کو قانونی درجہ دینا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ 5)۔ UPSCا ختیا را ت :جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے ملک کے قومی اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ پلاننگ کمیشن،یوجی سی، آئی سی ایچ آرکے بعد اب یو پی ایس سی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔سرکاری ملازمین کو منتخب کرتے وقت مقرر کردہ معمولات پر پیرو ی کرنے کے بجائے مرکزی حکومت میں جوائنٹ سکر یٹریس کو براہ راست تقرر کرر ہی ہے ۔ جس سے ایس سی /ایس ٹی طبقات ،اوبی سی طبقات کو حاصل ریز رویشن سے محروم ہونا پڑے گااور آر ایس ایس کے نظر یات کے حامل افراد کو تقررکیا جائے گا۔ایس ڈی پی آئی نے اپنے قرارداد میں مرکزی حکومت سے مذکورہ اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ 6)۔ ملک کے وفاقی نظام حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش :ملک کے وفاقی ڈ ھانچے کو کمزور کرنے کے اقدامات کی ایس ڈی پی آئی نے قرارداد میں سخت مذمت کی ہے۔ایس ڈی پی آئی نے اپنے قرارداد میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آرٹیکل 35Aکے دفعات کو محفوظ رکھے جو جموںکشمیر کے عوام کو مخصوص حقوق اور خو د مختا ری فراہم کرتی ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک اور جموں کشمیر کے عوام کو یقین دلائے کہ وہ جموں کشمیر کی خودمختاری کی حفاظت کرے گی۔سپریم کور ٹ میں عرضی داخل کرنے کا مقصد عوام کو ان مسئلوں سے توجہ ہٹانا ہے جن کو مرکزی حکومت مکمل طور پر حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close