سیاست

قومی اقلیتی کمیشن کو آئینی درجہ دینے کے حق میں نہیں ہے مرکزی حکومت

دہلی :مرکزی حکومت نے ایس سی/ ایس ٹی کمیشن کے بعد اوبی سی کمیشن کو آئینی درجہ دے دیا ہے۔ تاہم قومی اقلیتی کمیشن کو آئینی درجہ دینے کا مطالبہ مرکزی حکومت کو مناسب نہیں لگ رہا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اقلیتی کمیشن پارلیمنٹ ایکٹ سے بنا ہے، اس لئے آئینی درجہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
یہ وہی اقلیتی کمیشن ہے،جس پر ملک میں اقلیتوں کی آواز پر لبیک کہنے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ ملک کے 25 کروڑ سے زیادہ مسلم، سکھ، عیسائی، بودھ، جین اور پارسی کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو وہ سب اسی کمیشن کا رخ کرتے ہیں، لیکن کمیشن چاہتے ہوئے بھی ان کی مدد نہیں کرپاتی ہے جوکمیشن کوکرنا چاہئے۔کمیشن افسران کو کسی معاملے میں نوٹس دینے کو کہتا ہے یا انہیں طلب کرتا ہے تو افسران ٹال مٹول کا رویہ اپناتے ہیں، اس لئے کمیشن کو آئینی درجہ دینے کا مطالبہ ہوتا رہا ہے۔ موجودہ چیئرمین غیورالحسن رضوی بھی وزارت اورمرکزی حکومت کو آئینی درجہ دینے کے مطالبے کا خط دے چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آئینی درجہ مل جائے تو اقلیتی کمیشن زیادہ بہترطریقے سے کام کرسکے گا۔
دراصل قومی اقلیتی کمیشن ایک ایڈوائزری باڈی ہے۔ اس کا اختیار ہے کہ اقلیتی طبقے سے متعلق کسی بھی معاملے میں کمیشن نوٹس لینے کی سفارش کرسکتا ہے۔ افسران سے رپورٹ طلب کرسکتا ہے، افسران کو طلب کرسکتا ہے اور معاملے کی سماعت کرسکتا ہے، لیکن کوئی کارروائی نہیں کرسکتا۔ کمیشن کو حکومت سے سفارش کرنی پڑتی ہے۔ ایس سی / ایس ٹی کمیشن اوراوبی سی کمیشن کے پاس کارروائی کا حق ہے۔
مرکزی وزارت برائے اقلیتی امورکے وزیر مختار عباس نقوی کو بھی کمیشن کا یہ مطالبہ واجب نہیں لگ رہا ہے۔ اس سلسلے میں مختارعباس نقوی نے کہا کہ قومی اقلیتی کمیشن پارلیمنٹ ایکٹ سے بنا ہے، اس کو اختیارات پہلے سے ہی ملے ہوئے ہیں، ابھی کوئی ایسی ضرورت نہیں محسوس ہورہی ہے کہ اسے آئینی درجہ دیاجائے۔ مختارعباس نقوی نے یہ بھی کہا کہ اوبی سی کمیشن کو ابھی تک یہ اختیارات بھی نہیں ملے ہوئے تھے ، اس لئے قومی اقلیتی کمیشن کو اسی پراکتفا کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی کمی یا دشواری ہے تواس کو ہم اپنے طور پر حل کریں گے۔
پورے ملک میں 36 ریاستوں میں سے صرف 18 ریاستوں میں ہی اقلیتی کمیشن ہے۔ ہریانہ میں اقلیتی کمیشن تھا، لیکن اس کو ختم کردیا گیا۔ گجرات، ہماچل پردیش، اڑیسہ، جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اروناچل پردیش جیسے بڑی ریاستوں میں بھی کمیشن نہیں ہے۔ میگھالیہ، میزورم، ناگا لینڈ، سکم، تریپورہ، انڈمان نکوبار، چنڈی گڑھ، لکشدیپ، پانڈوچیری میں بھی اقلیتی کمیشن نہیں ہے۔
قومی اقلیتی کمیشن کو آئینی درجہ دینے کے معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ 2004 سے 2013 تک آئینی درجہ کا بل یوپی اے حکومت میں زیرالتوا رہا۔ گزشتہ دنوں سماجی انصاف وزارت کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی کمیشن کو آئینی درجہ دینے کی بات کی تھی، جس کے بعد کمیشن نے بھی آئینی درجہ کا مطالبہ شروع کردیا تھا، لیکن ابھی بھی اس معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیاہے، جس کے باہرنکلنے کا کوئی آثارنظرنہیں آرہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close