اتر پردیش

لاپرواہی تباہی لائیگی سیاسی مصلحت سے کام لینا ہماری مجبوری

قو م کو غالب رہنے کیلئے ہر سطح پربیدار ی لانی ہوگی ! عرفان ملک راز

سہارنپور (احمد رضا) اہم سروے کی سرکاری اور غیر سرکاری تمام تجزیاتی رپورٹ آپکے سامنے نیٹ پر آن لائن موجود ہیں جسمیں ہماری قو م تعلیمی، سیاسی اور دینی محاذ پر کافی پچھڑی ہوئی ہے ہماری بہتری کے تمام راستہ اوجھل ہیں مگر ہمارے ٹھیکیدار پھر بھی مست ہیں سینئر سوشل رہنما اور یوتھ ملک ایسو سی ایشن کے قومی صدرنے کہاکہ ملک کی مسلم آبادی دلتوں سے بھی پست ہوچکی ہے آپنے کہاکہ اگلی بار بھی یوپی میں بھاجپا کے ساتھ ساتھ مفاد پرست پارٹیزکو ۲۰۱۹ میں بھی ٹھیک اسی طرح کی شکست سے دوچار ہونا پڑیگا جیسا کہ انکا حشرضمنی الیکشن میں سبھی کے سامنے آچکاہے، آپنے کہا کہ ریاست کاہی نہی بلکہ ملک کا ہندو مسلم عوام آپسی میل ملاپ کے ساتھ رہنا اور جینا پسند کر تاہے! افسوس کا مقام ہیکہ ہمارے چند موقع پرست قائدین اور ہماری مرکزی سرکار کی ٹیم کے چند مفاد پرست قائدین ایک سازش کے تحت ہماری مختلف ذات برادریوں اور ہمارے عوام کے دلوں میں زہر گھول کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اقتدار پر قابض رہنے کا جال بن رہے ہیں جو ملک کے آئین اور سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے! مفاد پرست اور اقتدار کی بھوکی سیاسی جماعتیں پچھلے ۷۰سالوں سے ووٹ کی خاطر مسلم قوم کا بیجا استحصال کرتی آئی ہیں آج تک کسی بھی جماعت نے ملنساری اور ایمانداری سے ہمارے بنیادی حقوق اور بنیادی ضرورتوںپر توجہ ہی نہی دی ہمیشہ ہمکو بہلایا گیا، ڈراگیا اور مختلف مصائب میں الجھائے رکھا گیا لیکن تعلیم حاصل کئے جانے کے نتیجہ میں اب نئی میں بیداری آنے لگی ہے! قوم کو درپیش مسائل کے مد نظر پریس کو آج ایک اہم بیان جاری کر ہوتے ہوئے یوتھ ملک ایسو سی ایشن کے قومی صدر عرفان ملک راز نیواضع کیاکہ موقع پرست سیاسی جماعتوں، بھگوا تنظیموں اور بھاجپا جیسی عیار تنظیم کے پاس آج ملک کے تیس کروڑ مسلمانوں کو برا بھلا کہنے ، مسلم کیخلاف زہر اگلنے اور ملک میں فرقہ پرستی کو ہوا دینے کے علاوہ دوسرا کوئی ایکشن پلان الیکشن جیت نے کیلئے ہے ہی نہی ! تعلیمی اور سماجی تنظیم یوتھ ملک ایسو سی ایشن کے قومی صدرنے کہاکہ ملک کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں کی نیت اپنے ہی سماج کو عزت اور احترام دینے والی ہے ملائم سنگھ جہاں یادو طبقہ کی بات کرتے ہیں وہیں بہوجن سماج پارٹی دلتوں کی سر پرستی میں لگاتار آگے ہی بڑھتی جارہی ہے جبکہ بھاجپائی اپنی سوچ والے طبقہ کی سرداری قائم رکھنے کی پلاننگ میں سرگرم ہیں سچائی یہ ہے کہ یہ سبھی جماعتیں آج تک مسلم ووٹ ہتھیاکر ہی گزشتہ ۱۹۹۰ سے لگاتار اقتدار پر قابض چلی آرہی ہیں ریاست میں یادو برادری سرکاری ملازمتوں میں جہاں سب سے مضبوط ہے وہیں مایاوتی نے دلتوں کو مسلم اقوام سے ۷۰ فیصد آگے لا کھڑا کیاہے اور ۷۰ سال قبل جو مسلم نمائندگی سرکاری ملازمتوں میں ۸ فیصد تھی آبادی بڑھنے کے باوجود وہ گھٹ کر کل ۲ فیصد پر واپس لوٹ گئی ہے مگر اسکے بعد بھی ہمارے قائدین کی آنکھوں پر پردہ پڑاہواہے خد قوم کیلئے کچھ کرنا نہی چاہتے صرف اپنے گھر اور کنبہ کو طاقتور بنانا چاہتے ہیں ۳۰ کروڑ مسلم اقوام کی انکو پرواہ ہی نہی ہے !
عام رائے ہیکہ یہ مسلم قوم کو کمزور اور پست بنانے کی محض ایک گھٹیا سوچ ہے اسکے سوائے کچھ بھی نہی مسلم قوم کو جان بوجھ کر مین اسٹریم سے دور رکھا جا رہاہے، سوشل رہنما عرفان ملک راز نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ملک کے عوام آجکل مرکزی اور ریاستی سرکار کی تمام مفاد پرستانہ پالیسیوں سے تنگ آگئے ہیں اور اس ریاستی اور مرکزی سرکار کے چند غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے والے غیر مہذب وزراء کی منڈلی سے چھٹکارہ چاہتی ہے ہمارے ملک کی کلعوام اسی عظیم ہندوستان کا حصہ ہے ملک کی عوام اور آبادی کو بانٹنے والی سوچ ملک دشمن افراد کی گھنونی سوچ ہے مسلم اقوام کی موجودہ تعلیمی پسماندگی کے اہم سوالات پر بولتے ہوئییوتھ ملک ایسو سی ایشن صدرنے کہاکہ ملک بھر میں پھیلی سبھی پسماندہ مسلم برادریوں کے سوشل اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی نیت سے ملک کے تقریباتین کروڑملک سماج کے لوگوںکے علاوہ دیگربرادری کے عوام کو بھی تعلیم کے تئیں بیدار کرنے کا ایک بہتر تعلیمی بیداری پروگرام انکی تعلیمی اور سوشل تنظیم یوتھ ملک ایسو سی ایشن کے ذریعہ چلایا جا رہا ہے جسکی بہتر شروعات گزشتہ دنوں مشرقی یوپی کے اعظم گڑھ ، گورکھپور، بلیا، سدھارتھ نگر، مین پوری، بستی بارہ بنکی اور بنارس کے دور دراز والے پسماندہ علاقوں خاص طور پر بارہ بنکی کے علاقہ رام پور کٹرہ سے کی گئی ہے جہاں دینی اور عصری تعلیمی کتب بڑی مقدار میں ہمارے سینئر قائدین کی جانب سے اپنے ذاتی خرچ پر تقسیم کی گئی ہیں اور اب یہ عمل دہلی سے میرٹھ اور مغل سرائے تک جاری ہیَ ملک سماج کے سینئر رہنمائوں نے یہاں موجود ملک اور دیگر برادریوں کے تما لوگوں سے یہ اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ہر حال میں پڑھائیں اور اس کے لئے ایک ایسا فنڈ بنایا جائے جس میں غریب بچوں کی مدد کی جائے تاکہ وہ ملک کے قومی دھارے میں جڑ کر اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں ملک سماج کے قائدین نے کہاکہ مشرقی یوپی کے لوگ سہی طور پر مسلم طور طریقوں سے بھی صرف اسیلئے بے خبر ہیں کہ وہاں پر۸۰ فیصد لوگ ابھی بھی انپڑھ ہیں کوئی انکا پرسان حال نہی ہے!
یوتھ ملک ایسو سی ایشن کے قومی رہنما عرفان ملک رازنے واضع کیا کہ قوم کیلئے تعلیمی اور سیاسی بیداری کا اہم کام بڑی تیزی سے پورے ملک میں ایک ساتھ کرنے کی آج سخت ضرورت ہے یوتھ ملک ایسو سی ایشن رہبر عرفان راز ملک نے تمام ایسے لوگوں سے اپیل بھی کی ہے جو تعلیمی بیداری مشن چلا رہے ہیں وہ آپس میں تال میل کرکے اس مشن کو اور آگے بڑھائیں اور ملک سے جہالت دور کرنے کا اہم فریضہ اداکریں، راز ملک نے لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عصری ، دینی اور سوشل تعلیم کے علاوہ روزگارکے لئے بھی بیدار مہم تیزی سے چلائی جانی بھی سب سے ضروری ہے اور اس جانب اب باضمیر سبھی رہبران کو بھی سنجیدہ کوشش کرنی ہو گی اس لئے کہ آج ملک میں پسماندہ اور پچھڑے طبقہ میں بہت بڑے پیمانے پر نوجوان نسل بے روزگار ہے، ان کے روزگار کے لئے بہتر انتظام سرکار کے ساتھ ساتھ عوام کے چنے ہوئے مسلم سیاسی نمائندوںکو بھی کرنا ہو گا اگر ہم سبھی کام ایک دوسرے پر ڈال دیں گے تو سبھی کام ہم کبھی بھی نہیں کر سکتی ہے ہمیں اپنے بہتر مستقبل کی خاطر خد بھی بہتر عملی کام کرناہوگی ہماری جدوجہد ہی ہماری کامیابی کی ضامن ہے یوتھ رہنما عرفانراز ملک نے صاف کیاکہ ہمارے عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہو گا ملک برادری کے علاوہ دیگرپسماندہ برادری میں اتحاد کے لئے پورے ملک میں گاؤں در گاؤں تعلیمی بیداری تحریک چلانے کی خاص ضرورت ہے تاکہ قرآنی تعلیم اوراردو کی تعلیم کے ساتھ ساتھ قوم کو عصری تعلیم کیلئے بھی ہر صورت بیدار کیا جائے ، عرفان راز نے کہاکہ ۴ سال کی عمر سے ۴۰ سال کی عمر تک کے تمام ضرورت مند اور قطعی انپڑھ طبقہ کو گھر پر ہی درس دلانے کیلئے عمدہ بندوبست کیا جانا وقت کا تقاضہ ہے۔ یوتھ رہنما عرفان ملک نے یہ بھی کہا کہ اگر ہمارا سماج اتر پردیش میں ہی متحد ہو جائے تو تقریباساٹھ ممبران اسمبلی ہمارے بہ آسانی بن سکتے ہیںآپنے کہا کہ غریب بچیوں کی شادی کے لئے و غریب بچوں کی باقائدہ اسکول وکالج کی تعلیم کے لئے ایک امدادی کمیٹی بنائی جائے جو ضرورت مند سماج پر نظر رکھے اور حسب ضرورت ایسے لوگوں کی مدد کی جائے تاکہ سماجی، سیاسی اور تعلیمی سدھار اور بیداری کا اہم سلسلہ لگاتارجاری رہے!

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close