سیاستہندوستان

لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل منظور

نئی دہلی:پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے اقلیتوں کو ہندوستانی شہریت دینے سے متعلق ’شہریت (ترمیمی) بل، 2019‘ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے بائیکاٹ کے درمیان آج صوتی ووٹ سے لوک سبھا میں منظور ہو گیا۔مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ارکان نے ووٹنگ کا مطالبہ کیا لیکن اسپیکر سمترا مہاجن نے ان کی مانگ نظر انداز کرتے ہوئے بل کو صوتی ووٹ سے منظور کردیا۔ یہ بل 2016 میں لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا، لیکن مختلف اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کے پیش نظر بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق تیار نئے بل کو مرکزی کابینہ نے پیر کو منظوری دی تھی۔بل پر قریب پونے تین گھنٹے چلنے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آسام کے لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی ثقافتی اور لسانی شناخت برقرار رکھی جائے گی اور پناہ گزینوں کا بوجھ صرف آسام پر نہیں آئے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بل خاص طور پر آسام کے لئے نہیں ہے۔ تینوں پڑوسی ممالک سے یہاں آنے والوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی اور وہ ملک میں کہیں بھی رہنے اور کام کرنے کے لئے آزاد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں کی کافی ہراسانی ہو رہی ہے اور اس وجہ سے جو بھی کبھی بھی ہندوستان کا اصلی شہری رہا ہو اسے شہریت دینا ہماری ذمہ داری ہے اور اس وجہ سے یہ بل لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش بنتے وقت ان ممالک میں اقلیتوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے وہاں کی حکومتوں کے ساتھ ہندوستان کی اس وقت کی حکومتوں نے معاہدے کیے تھے، لیکن بدقسمتی سے وہاں اقلیتوں کا استحصال مسلسل جاری ہے۔وزیر داخلہ نے آسام کے لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ مرکزی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے ہر مسئلہ سننے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ آپ کی ثقافت، روایت اور لسانی شناخت کو محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ اس کا بوجھ پورے ملک برداشت کرےگا۔مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان یہی چاہتا ہے کہ ان ممالک کے لوگ اپنے یہاں پر امن طریقے سے رہیں لیکن ایسا نہیں ہوپارہا ہے ۔ انہوں نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ان ممالک کے لوگ یہاں نہ آکر وہیں پرامن طریقے رہیں ۔ ہماری یہی منشا ہےلیکن بدقسمتی سے یہ نہیں ہو رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس بل کوکسی دوسرے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ یہ شمال مشرق کے مفاد میں ہے۔ آسام کے تئیں جو بھی عہد ہیں وہ پورے کئے جائیں گے ۔ آسام کے لوگوں سے انہوں نے اپیل کی ہے کہ وہاں الجھن اور اندیشے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن تمام خوف بے بنیاد ہیں۔ یہ آپ کی ثقافت، روایت اور زبان کو بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close