بہارپٹنہ

مدارس اساتذہ کے ساتھ دوہری پالیسی اپنا رہی ہے حکومت :

پٹنہ:مدرسہ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ذریعہ منعقد کئے گئے غیر معینہ مدت کے لئے دھرنے پر آج بہار کے سبھی اضلاع کے مدرسہ کنٹرکٹ اساتذہ و ملازمین نے پٹنہ کے گردنی باغ میں اپنے مختلف مانگوں کے حمایت میں جمع ہوئے – دھرنا پر بیٹھے مدارس اساتذہ کا زبردست غصہ دیکھا گیا – ان اساتذہ کا کہنا تھا کہ حکومت مدارس اساتذہ کے ساتھ دوہری پالیسی اپنا رہی ہے اس کا خلاصہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے ذریعہ جاری مکتوب نمبر 162 مؤرخہ 15-02 2011و مکتوب نمبر 1010/1011 مؤرخہ 16-09-2013 کے مطابق مدارس اساتذہ کو بھی سرکاری اسکول کے اساتذہ کے مساوی تنخواہ و مراعات دیا جانا تھا لیکن مورخہ 01-07-2015 سے سرکاری اسکول کے نیوجت اساتذہ کو 5200-20200 شرح تنخواہ کے ساتھ ساتھ ساتواں ویتن بھی لاگو کردیا گیا وہیں پر مدارس اساتذہ کے ساتھ سوتیلا پن کا رویہ اختیار کرتے ہوئے ویتن مان سے محروم کردیا گیا – دھرنا کو خطاب کرتے ہوئے آرگنائزیشن کے جنرل سیکریٹری مہتاب عالم نے کہا کہ سرکار اپنے مکتوب کو ہی لاگو کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے بار بار متعلقہ وزیر کے ذریعہ صرف بھروسہ دیا جاتا ہے – آخر کب تک مدارس نیوجت اساتذہ کا استحصال حکومت کرتی رہے گی، مہنگائی کے اس دور میں مدارس اساتذہ آج بھی 9000 سے 11000 قلیل تنخواہ پر کام کر رہے ہیں – مدارس اساتذہ کی حالت یومیہ مزدوری سے بھی بدتر ہے – دھرنا کو خطاب کرتے ہوئے آرگنائزیشن کے ترجمان مناظر الاسلام نے کہا کہ جب تک حکومت ہم مدارس اساتذہ کے مانگو کو پورا نہیں کرتی تب تک مدارس اساتذہ دھرنا پر بیٹھے رہینگے انہوں نے یہ بهی کہا کہ اس سے پہلے مارچ 2017 میں اساتذہ نے دھرنا دیا تھا مگر اس وقت کے وزیر تعلیم اشوک چودھری کے تحریری یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا مگر آج بیس ماہ گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک ان بے سہارے مدارس اساتذہ کو ویتن مان سے محروم رکھا گیا – دھرنا کو خطاب کرنے والوں میں اشرف علی ،کوثر ربانی، شفیع انصاری، محمد مبشر عالم، محمد الطاف حسین، محمد شاھد اشرف، میڈیا انچارج شاداب انجم وغیرہ نے خطاب کیا وہیں اس دھرنا کی صدارت اشرف علی اور نظامت کے فرائض فضل الرحمن نے بحسن وخوبی انجام دیا –

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close