بہارپٹنہ

مدارس اور اردو کی قومی تعمیر و تشکیل میں خدمات کا اعتراف ضروری ہے

بزمِ صدف اور سیوک فائونڈیشن کے زیرِ اہتمام کل بین الاقوامی سے می نار اور مشاعرہ

پٹنہ ۔یکم ستمبر۔ اردو زبان نے اس ملک کی تعمیر وتشکیل کے سلسلے سے ایسے بنیادی کارنامے انجام دیے ہیں جن کا اعتراف ہندستان ہی نہیں عالمی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔اسی طرح مدارسِ اسلامیہ نے تعلیم و تعلّم کی گہرائی اور سماجی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ مذہبی رواداری کے جو اساسی اصول مرتب کیے اسے دنیا کے ہر ملک میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خاص طور سے ہندستان میںمدارسِ اسلامیہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قومی تحریک کے جاں بازوں میں ہزاروں اور لاکھوں ایسے فرزندانِ مدارس تھے جنھیں جیل کی سلاخوں سے لے کر کالا پانی کی سزا اور ملک و قوم کے لیے جامِ شہادت نوش فرمانے میں کوئی دریغ نہ ہوا۔ مختلف سیاسی وجوہات سے بار بار بعض غلط اندیش بد نیتی سے جو سوالات اٹھاتے ہیں اس کی روٗ سے ان کا کہنا ہے کہ ہندستانی مدارس میں دہشت گردانہ ذہنیت کا اجتماع ہے اور اردو نے ہندستان کی تقسیم کا فریضہ ادا کیا ہے۔جھوٹ جب کئی بار بولا جائے تو کچے ذہن کو یہ غلط فہمی ہونے لگتی ہے کہ وہ سچ ہے۔ آج ہندستانی سیاست میں اردو اور مدارسِ اسلامیہ کا تصور اسی دو راہے کی نذر کر دیا گیا ہے۔
اسی موضوع کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرنے کے مقصد سے سیوک فائونڈیشن ، بہار اور بزمِ صدف انٹرنیشنل نے ایک بین الاقوامی سے می نار کا انعقاد کیا ہے۔ اس سے می نار کا افتتاح آندھرا پریش اسٹیٹ اردو اکادمی، وجے واڑا کے چیرمین ڈاکٹر ایس محمد نعمان فرمائیں گے۔ افتتاحی اجلاس کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، ممبر آف پارلیامنٹ ہوں گے۔ مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر شمبھو شری واستو،جناب زاہد طارق(جدہ) ، جناب ایم کے بجاج(سنٹرل بینک آف انڈیا)، پروگرام میں شامل ہوں گے۔جناب انجنیر محمد اسلم علیگ(چیرمین، ہیومن چین) مہمانِ اعزازی کے طور پر مدعو کیے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ پروفیسر کرمیندو ششر، جناب آلوک دھنوا اور جناب کشن کالجئی سے می نار کی رونق میں اضافہ کریں گے۔ سے می نار کے افتتاحی اجلا س کی صدارت قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم کریں گے اور علی گڑھ مسلم یو نی ورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے استاد پروفیسر محمد سجاد سے می نار میں کلیدی خطبہ پیش کریں گے۔ اس موقعے سے بزمِ صدف کی تازہ مطبوعات کے علاوہ پروفیسر کرمیندو ششر کی دو جلدوں میں شایع شدہ مشہور کتاب ’بھارتیہ مسلمان : اتیہاس کا سندربھ‘ کا بھی اجرا کیا جائے گا۔
منتظمین کی طرف سے جناب تنویر عالم ، چیر مین سیوک فائونڈیشن، بزمِ صدف کے چیرمین شہاب الدین احمد اور بزمِ صدف کے ڈائرکٹر نے پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے اس بات کی اطلاع دی کہ بہار اردو اکادمی کے سے می نار ہال میں منعقدہ اس پروگرام میں افتتاحی اجلاس کے بعد دو جلسے ہوں گے ۔ جن میں بہار ، جھارکھنڈ، دہلی، اتّرپردیش، تلنگانہ ، آندھرا پردیش وغیرہ صوبوں سے ماہرین تشریف لائے ہیں۔ سعودی عرب سے جناب زاہد طارق اور قطر سے جناب شہاب الدین احمد اور جناب منصور اعظمی کی آمد سے یہ سے می نار بین الاقوامی حیثیت کا حامل ہو گیا ہے۔ اردو ادب کے ماہرین ، معروف صحافی، مدارسِ اسلامیہ کے فارغین اور اساتذہ یونی ورسٹیوں کے ذمہ داران اور انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے افراد اس سے می نار میں مقالات پیش کرنے اور اظہارِ خیال کرنے کے لیے مدعو کیے گئے ہیں۔ مختلف یونی ورسٹیوں سے ریسرچ اسکالرس بھی اس سے می نار میں شامل ہیں۔
سے می نار میں اپنے خطابات پیش کرنے والے اور مقالہ خوانی کرنے والے اصحاب میں جناب امتیاز احمد کریمی، ڈاکٹر جمشید قمر، جناب احمد جاوید ، ڈاکٹر محمد گوہر، ڈاکٹر محمد حبیب الرحمان، جناب عابد انور، جناب سید محمد باقر، ڈاکٹر قیصر زماں ، مولانا محمد ولی اللہ قادری ، جناب عبدالغنی، جناب محمد معین الدین، جناب نور اللہ نیاز مدنی ندوی وغیرہ کے اسماے گرامی قابلِ ذکر ہیں۔ سے می نار کی مجلسِ صدار ت میں خاص طور سے اس موضوع کے ماہرین کو دعوت دی گئی ہے جن میں مولانا حسن رضا خاں، مولانا مشہود احمد ندوی، ڈاکٹر واحد نظیر ، ڈاکٹر محمد اعجاز احمد، جناب وجے پرتاپ، جناب شاہد کمال،جناب منت رحمانی،جناب عظیم اللہ انصاری، جناب فرّخ خاں، جناب شکیل کاکوی، جناب عادل حسن آزاد اور جناب ارشاد احمد وغیرہ کے صدارتی خطابات سے عوام مستفید ہوں گے۔
سے می نار کے خصوصی موقعے سے ایک بین الاقوامی مشاعرے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جس کی صدارت مشہور شاعر خورشید اکبر فرمائیں گے اور مشاعرے کی نظامت حیدرآباد سنٹرل یونی ورسٹی کے استاد ڈاکٹر محمد زاہد الحق کریں گے۔ عظیم آباد سے باہر کے شعرا میں جناب منصور اعظمی(قطر)، جناب محمود شاہد(آندھرا پردیش) ، جناب انور شمیم (سمستی پور)، جناب ظفر امام(بتیا)، ڈاکٹر واحد نظیر(دہلی) ، جناب طارق متین (مونگیر)، ڈاکٹر تسلیم عارف( رانچی) ، محترمہ صدف اقبال(گیا) کے علاوہ جناب ناشاد اورنگ آبادی، جناب عالم خورشید ، جناب شمیم قاسمی، جناب ظفر صدیقی، جناب افتخار عاکف، جناب عطا عابدی، جناب کاظم رضاوغیرہ عظیم آباد کی نمایندگی کریں گے۔
سے می نار اور مشاعرے کے منتظمین نے یہ اطلاع فراہم کی ہے کہ مختلف جگہوں سے مہمانوںکا آنا شروع ہو گیا ہے۔ عظیم آباد کے ہر گوشے میں دعوت نامے بھیجے گئے ہیں اور ایس ایم ایس، ای میل اور واٹس ایپ سے بھی اس پروگرام کے لیے دعوت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر منتظمین نے اخبار کی معرفت اردو زبان و ادب اور مدارسِ اسلامیہ کی تاریخ اور نشیب و فراز میں علمی دلچسپی رکھنے والوں سے عوامی طور پر گزارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے عاشقانِ اردو سے اپیل ہے کہ وہ اس خبر کو ہی دعوت نامہ تصور کریں اور دس بجے دن سے شروع ہونے والے اس سے می نار کا حصہ بنیں۔ پروگرام کا اختتام مشاعرے کی شکل میں دس بجے رات میں ہوگا۔توقع ہے کہ اردو اساتذہ ، طلبہ، خادمینِ اردو اور اپنی مادری زبان سے محبت کرنے والے اصحاب بڑی تعداد میں اس سے می نار میں شامل ہوں گے۔
صفدر امام قادری
ڈائرکٹر ، بزمِ صدف انٹرنیشنل
صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close