بہارمتھلانچل

مدرسہ بورڈ کے اساتذہ تنخواہ نہیں ملنے سے بھوک مری کے شکار

سیتامڑھی: (محمد صدرعالم نعمانی )مدرسہ بورڈ 205 اور 609 مدارس کے اساتذہ کوعید الاضحی کے مبارک موقع پر بھی تنخواہ جاری نہیں کرسکاجس کی وجہ سے ٹھیک دھنگ سے اساتذہ عید الاضحی نہیں مناسکےباوجود اساتذہ کویہ امیدتھی کہ عید الاضحی کےفورا بعد تنخواہ جار ی ہوجائے گی مگر یہ امید بھی ناامیدی کی شکل میں تبدیل ہوگئ واضع ہوکہ موجودہ کار گزار چیرمین ڈاکٹر خورشید عالم صاحب کی مدت کاراسی ماہ اگست میں مکمل ہورہی ہے انکے بعد نہ جانے کتنے دنوں کے بعدنئےچیرمین کی تقرری ہوگی اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا , ایسی صورت میں مدارس کے اساتذہ کو نئے چیرمین کے آنےتک تنخواہ جاری ہونے کا انتظار کرنا پریگا, واضع ہو کہ کئ کئ مہینوں کی تنخواہ, اساتذہ مدارس کی باقی ہے, سرکارکی جانب سے الامنٹ مدرسہ بورڈکو دے جا چکی ہے ,مدرسہ بورڈ ,اساتذہ کے تنخواہ کی ادائیگی میں اس لئے تساہلی برتتی ہے کہ بینک میں جب تک پیسہ جمع رہےگا تب تک سود کی رقم مدرسہ بورڈ کوآتی رہےگی ,مدرسہ بورڈ کے ذمہ داران کو شاید یہ حدیث یاد نہیں ہے کہ مزدور کی مزدوری مزدورکے پسینہ سو کھنے سے پہلے اداکر دی جائے, مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ کی ادائیگی بروقت نہ ہونے کی وجہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو فاقہ کشی کے شکار ہیں کئ ایسے بھی اساتذہ ہیں جو بیمارہیں مگر روپیہ نہ ہو نے کی وجہ انکا بہتر علاج نہیں ہورہایے ,واضع ہوکہ اساتذہ کے تنخواہ کا بل ماہ جون تک کا مدرسہ بورڈ میں جمع ہے بل جمع ہوئے دوماہ کے قریب ہوگیا مگر اب تک تنخواہ جاری نہیں ہوسکی ہےایسے بھی بل جمع کرانے کے بعد پیمنٹ ہونے میں مدرسہ بورڈ کم سے کم تین ماہ تو لگاتا ہی ہے اس پر طرہ یہ کہ اگر مدرسہ بورڈ بل پیمینٹ کیلئے بینک کوبھیج بھی دیا تو ایسا نہیں کہ کل یاپرسوں میں اساتذہ کے کھاتے میں بینک روپیہ ٹرانسفر کردے گابلکہ اس کیلئےہفتہ دس روز پندرہ روز تووہ انتظار کرائے گا ہی اس کے بعد ہی کھاتہ میں روپیہ ٹرانسفر کرےگا ان سب مسائل سے اساتذہ مدارس دوچار ہیں مگر انکا پرسان حال کوئ نہیں مدرسہ بورڈ کے اعلی عہدیداران کو اساتذہ کے ان مسائل کو حل کرنے کی کوئ جلدی بازی نہیں ہے اساتذہ مدارس بھوکے مرے یا دوا کے بغیر ہچکیاں لیتے رہے انہیں تو بس کیچھوے کی چال ہی چلنی ہے 205اور609مدارس کے اساتذہ کی اواز موثر طریقے سے بورڈ میں اٹھانے والا بھی کوئ نہیں ہے اس لئے کہ 1128مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ کی ادائیگی ضلع سے ہی ہوجاتی ہے ایسی صورت میں 205اور609اساتذہ کو اپنے مسائل کے حل کیلئے خود ہی منظم ہونا پرے گا اور تحریکیں چلانی پریگی تبھی ان مدارس کے مسائل حل ہونگے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close