بزم نسواںبلاگمضامین

مردوں کے لیے ہر عیش کا حق،عورت کے لیے جینا بھی خطا

ہندوستان میں عورت کی بات کرتے ہیں تو ہمارے پیر پیغمبروں اور اوتاروں سبھی نے عورت ذات کی بہت زیادہ احترام دینے کی تلقین کی ہے یہی وجہ ہے کہ جب ہم سناتن دھرم کے دیوتائوں کی تصویریں دیکھتے ہیں تو ان میںہمیں کرشن کے ساتھ رادھا، رام کے ساتھ سیتا اور شِوکے ساتھ پاروتی بیٹھی ہوئیں دکھائی دیتی ہیں۔یعنی کے یہ سب تصاویر عورت کو عزّت و احترام دینے کی واضح شہادتیں ہیں۔ساتھ ہی اس ملک میں زمانہ قدیم سے ہی بچیوں کی کنجک کے روپ میں عزت دی جاتی ہے۔
اسی طرح سے سکھ دھرم کے بانی شری گورونانک دیو جی نے جہاں عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی وہیں پر انھوں نے عورت کو سبھی
رشتوں کا وسیلہ وسر چشمہ قرار دیا اورفرمایا کہ :
’’سو کیوں مندا آکھیئے جس جمّے راجاں‘‘
جبکہ اسلام کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ کے پاس ایک صحابی آیا اور آپﷺ سے پوچھنے لگا کہ مجھے اللہ اور رسولﷺ کے بعد سب سے زیادہ کس کی عزت کرنی چاہیئے یعنی میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ تیری ماں۔! اس شخص نے دوبارہ وہی سوال دہرایا اور پوچھا اس کے بعد تو آپ نﷺ نے پھر سے کہا کہ تیری ماں ۔!! تو اس صحابی نے جب تیسری بار وہی سوال دہرا کر پوچھا کہ اسکے بعد تو آپ ﷺ نے پھر سے کہا کہ تیری ماں ۔!!! جب اس شخص نے چوتھی بار سوال کیا توآپ ﷺ نے کہا کہ تیرا باپ۔!کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عورت ذات خصوصی طورپر ماں اپنے بچوں کے لیے جو قربانیاں وتکالیف برداشت کرتی ہے اس کی دنیا میں کہیں کسی دوسرے رشتے میں نظیر نہیں ملتی اور یہی وجہ ہے کہ جب خدا نے اپنی محبت کا بندے سے ذکر کیا ،تو اللہ نے اپنی محبت کے بارے میں ماں سے تشبیح دی اور کہا کہ میںستّر مائوں سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہوں ۔
اسی طرح حضرت محمدﷺ نے ایک دفعہ اپنے صحابہ سے کہا کہ جس کے یہاں تیں لڑکیاں پیدا ہوئیں اور ان ماں باپ نے انکی خوش اسلوبی اور حسنِ سلوک سے ان بچیوں کی پرورش کی یعنی انھیں پڑھایا لکھایا اور اچھی و نیک جگہ انکی شادی کی تو آپ ﷺ نے وکٹری والی انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جنّت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے یہ دو انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں ،وہاں موجود ایک شخص نے پوچھا کہ اگر کسی کے دولڑکیاں ہوں تو آپ ﷺ نے اسے بھی جنت کی بشارت دی جبکہ صحابہ ؓ کا کہنا تھا کہ اگر ہم لوگ ایک لڑکی کے ماں باپ کے ضمن میں سوال کرتے تو یقیناآپ ﷺ کا وہی جواب ہوتا۔
اسی طرح جب ایک دفعہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا کہ کہیں سے جنّت کی مٹی لیکر آ۔۔ تو وہ گیا اور ماں کے قدموں (پائوں )کے نیچے والی مٹی لے آیا۔
مذکورہ واقعات کے ذکر کرنے کا مقصد یہی تھا کہ جس عورت ذات کوہمارے مختلف پیغمبروں دیوتائوں اوتاروں اور اولیاء کرام نے عزت احترام دینے ہمیںکی تلقین کی تھی جب اسی عورت کا استحصال ہوتے ہوئے آج ہم اپنے ملک ہندوستان میں دیکھتے ہیں تو بنا شک ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آج ملک میں عورت ذات کوجس طرح سے ظلم وستم اور تشدد کا شکار بنایا جارہاہے اسکی مثال نہیں ملتی۔
شاید ساحر لدھیانوی ایسے حالات کو ہی سامنے رکھتے ہوئے کبھی کہاتھا کہ :
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
کتنی صدیوں سے وحشت کا یہ چلن جاری ہے۔
کتنی صدیوں سے قائم ہے یہ گناہوں کا رواج
لوگ عورت کی ہر چیخ کو نغمہ سمجھیں
وہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا رواج
بے شک آج ہم ترقی کر لینے کے بڑے بڑے دعوے کرتے نہیںتھکتے ۔۔! چاند پہ کمند ڈالنے کے بعد منگل کو تسخیر کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں ، لیکن اتنی ترقی کر لینے کے باوجود ہمارے اخلاق کا آج جوجنازہ نکلا ہوا ہے یقینا اس کو محسوس کرتے ہوئے سب کی سب ترقی بے معنی و بیکار نظر آتی ہے آج اس ملک میں نوجوان لڑکیوں کی تو بات ہی چھوڑیں سماج میں گھوم رہے درندے نما حیوانوں سے آٹھ سالہ کی معصوم بچیوں سے لیکر 80 سالہ بزرگ عورتوں کی بھی غیر محفوظ ہے۔یعنی جس خوف و ہراس کے سائے میں آج کی عورت جی رہی ہے۔
وہ یقینا ایک جمہوری و مہذب ملک کے لیے کسی عظیم المیہ سے کم نہیں ہے۔شاید اسی تعلق سے ساحر نے کہا تھا کہ:
عورت نے جنم دیا مردوں کو ، مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا ،جب جی چاہا دھتکار دیا
مردوں کے لیے ہر ظلم روا،عورت کے لیے رونا بھی خطا
مردوں کے لیے ہر عیش کا حق،عورت کے لیے جینا بھی خطا
گزشتہ دنوں ایک عالمی ماہرین کی ٹیم یعنی تھامسن رائیٹرز فائو نڈیشن کی جانب کیے سروے رپورٹ نے ہندوستان میں خواتین کی بدحالی کو لیکر جو خلاصہ کیا یقینا اس سے ہر اہلِ وطن کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں عورتوں کے لیے ہندوستان کو دنیا کے تمام ملکوں کے مقابلے غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے یعنی دنیا میں عورتوں کے لیے جو ملک غیر محفوظ اعلانے گئے ہیں ان ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کو اوّل نمبر پہ رکھا گیا ہے۔حیران کن بات یہ بھی ہے کہ اس فہرست میں دہشت گردی سے متاثرہ افغانستان، جنگ سے تباہ ہوا سیریا جیسے ممالک دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیںجبکہ امریکہ مشرقی ممالک میں ایک ایسا دیش ہے جو ٹوپ کے دس ممالک میں شامل ہے۔
مذکورہ سروے تھامسن رائیٹرز فائونڈیشن کی جانب سے 26مارچ سے 4 مئی 2018 کے درمیان کروایا گیا۔ سروے دنیا کے 193ممالک کی عورتوں کے حالات کی عکاسی کرتاہے۔اس سروے میںعورتوں کے ساتھ مختلف ممالک میں جسمانی استحصال کے ساتھ ساتھ عورتوں سے ہونے والی چھیڑ چھاڑ کے واقعات کے علاوہ انکی صحت، ثقافت ورسم ورواج ، بھید بھاو،مار پیٹ اور انسانی ا جسام کی اسمگلنگ کے معاملات بھی شامل کیے گئے تھے۔فائونڈیشن نے اپنی رپورٹ میں بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا دوسرا سب بڑی آبادی والا دیش جہان پر تقریباً 1.3 بلین لوگ رہتے ہیں تین معاملات میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ان میںجسمانی استحصال و تشدد ،روایتی ثافتی معاملات اور انسانی سمگلنگ،جن میں جبراً مزدوری کروانا ،جنسی غلامی اور گھریلو مزدروی کروانا شامل ہیں۔
اس سروے رپورٹ پہ عورتوں سے متعلقہ قومی کمیشن ( این۔سی۔ڈبلیو) نے تھامسن تائیٹرز فائونڈیشن کی تمام تحقیقات کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ملکوں کوبھارت کے نیچے رکھا گیا ہے ان ملکوں میں عورتوں کو عمومی طورپر بولنے کی بھی آزادی نہیں ہے اور ساتھ ہی کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ مذکورہ تحقیقی رپورٹ کی تیاری میں سیمپل کی شکل میں جو پیمائیش کا پیمانہ لیا گیا ہے وہ کافی چھوٹا ہے جو کہ پورے ملک کی نمائیندگی کرنے سے قاصر ہے۔بے شک قومی وومین کمیشن کی دلیلیں کافی حد تک واجب ہیں ۔لیکن اگر ملک کے تازہ ترین حالات پر نگاہ ڈالیں یعنی بہار کے مظفر پور اور یوپی کے دیوریا کے دلخراش واقعات کا بغور تجزیہ کریں تو عورتو ں اور بچیوں کی حفاظت کو لیکرجو غیر ذمیدارانہ اور تکلیف درپیش آرہے ہیں ۔انکے چلتے تھامسن رائیٹرز کی مذکورہ رپورٹ میںپیش کیے شواہد کو مذید تقویت ملتی ہے ۔
ٓآج ملک میں یہ بھی ایک المیہ ہے کہ دیش میں کتوں او ر دوسرے جانوروں کی حفاظت کو لیکر تو قوانین عمل میں ہیں ۔ لیکن عورت جسے ہم اہلِ ملک دیوی کا درجہ دیتے ہیں اور بچیاں جن کا ملک میں کنجک کے روپ میں کئی موقعوںپر بے حد احترام و عزّت کی جاتی ہے۔انکا جس بڑے پیمانہ پہ آج جنسی استحصال اوران پر جس طرح سے ظلمو تشدد کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں اسکی مثال نہیں ملتی۔
حال ہی میں جو واقعات دانستہ نادانستہ طورپر میڈیا کی سرخیوں میں آئے ان میں کئی واقعات ایسے ہیں جن کو یاد کرتے ہوئے ایک عام انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے ان میں نربھیا کانڈ،کٹھوا کانڈ، انائو کانڈ اور اب تازہ ترین بہار کے مظفر پور میں بے سہارا بچیوں کے ساتھ ہوئی ظلم و زیادتیاںو آبرو ریزی کے حادثات اور اتر پردیش کے دیوریا کی ناقابلِ قبول انسانیت سے گری حرکات معلوم نہیں اس ملک کوکس نئے بھارت کی طرف لیے جارہی ہیں اورجس طرح سے ان گھنائونے معاملات میں کچھ سفید پوشوں کے نام سامنے آئے ہیں ۔ ان کے چلتے پورے ملک میں ایک بے یقینی و ہاہاکار کا ماحول بنا ہوا ہے ۔ایسے حالات میں پورا سسٹم شک کے دائرہ میں آجاتا ہے ۔ اگر محافظ ہی لٹیرے بن جائیں تو ہم حفاظت کی امید بھلا کس سے کر یں۔مذکورہ حالات کے پس منظر میں راحت بھائی کا یہ شعر بے اختیارزبان پہ آجاتا ہے کہ؛
یہ جو کچھ لوگ فرشتے سے بنے پھرتے ہیں۔۔!
میرے ہتّھے کبھی چڑھ جائیں تو انساںہو جائیں!
یقینا مظفر پور اور دیوریا کے ان مذکورہ واقعات ملک میں سرکار کی طرف سے چلائی جارہی بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو مہم کا جیسے مذاق اڑاتے محسوس ہورہے ہیں ۔ان حادثات کے چلتے ایک بارپھر سے ملک کا نام پوری دنیا میں رسواو شرمندہ ہو ا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر 2012میں ہی نربھیا معاملے میں مجرمان کو انکی بنتی سزا فوراً ہی فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعے دے دی جاتی تو شاید مذکورہ جنسی استحصال و تشدد کے واقعات جن میں آئے دن اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے یقینا اس میں کافی حد تک کمی آتی۔لیکن ملک کا یہ المیہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ آج کچھ مٹھی بھر لوگ زنابلجبر معاملات کو ہندو مسلم کے چشمے سے دیکھتے ہوئے ملزمین کے حق میں بھی ترنگے لیکر جلوس نکالنے میں لگے ہیں۔۔!!!
آخر میں ساحر لدھیانوی کے انھیں اشعار کے ساتھ اپنی بات ختم کرونگا کہ:
عورت سنسار کی قسمت ہے ، پھر بھی تقدیر کی بیٹی ہے!
اوتار ،پیغمبر جنتی ہے، پھر بھی شیطان کی بیٹی ہے!
یہ وہ بدقسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہے!
عورت نے جنم دیا مردوں کو،مردوں نے اسے بازار دیا!

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close