دہلیہندوستان

مرکزکو8اگست تک ایس سی ایس ٹی ایکٹ پر آرڈیننس لانے کا الٹی میٹم

نئی دہلی: لوک جن شکتی پارٹی کے ساتھ منسلک دلت سینانے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے جس میں درج فہرست ذات وقبائل پرظلم وتشدد کےروک تھام کےلئے قانون کے کمزور ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے اس میں بہتری کے لئے جلد از جلد آرڈیننس لانےکا مطالبہ ہے اور کہا ہے کہ ایسا نہیں ہواتو وہ 9 اگست سے تحریک شروع کرے گی۔دلت سینا کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ رام چندر پاسوان اور ایل جے پی پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین چراغ پاسوان نے آج پریس کانفرنس میں کہا کہ بہت سی دلت تنظیموں نے اس قانون کو کمزور کئے جانے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے اور ان کی تنظیم پر بھی احتجاج میں شامل ہونے کا دباؤ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ پارلیمنٹ سیشن کے دوران آرڈیننس نہیں لا سکتی ہے اس لئےاسے 7 اگست کو مانسون اجلاس ختم کرکے آٹھ اگست کو آرڈیننس جاری کر دینا چاہئے۔دونوں رہنماؤں نے کہاکہ درج فہرست ذات وقبائل قانون کے کچھ دفعات کو لے کر سپریم کورٹ نے گزشتہ 20 مارچ کو ایک فیصلہ دیا تھا جس سے یہ قانون کمزور ہوا ہے۔ اس سے دلت کمیونٹی میں غم و غصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں شامل ایک جج کو قومی گرین ٹربیونل کا صدر بنا دیا گیا ہے جس سے لوگوں میں مزید غصہ ہے۔
انہوں نے متعلقہ جج کو ٹربیونل کے صدر کے عہدے سے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔مسٹر چراغ پاسوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دلتوں پر ظلم کے واقعات بڑھ گئےہیں اور اس طرح کے معاملات میں ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جا رہی ہے۔ اس قانون کو لے کر حکومت نے آرڈیننس جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جو کئی تکنیکی وجوہات سے جاری نہیں ہو پا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم پی ہونے کے ناطے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط بھی لکھا ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ دلتوں پر ظلم کے روک تھام کے حوالے سے مناسب اقدامات اٹھائیں گے۔ایل جے پی مسائل کی بنیاد پر مودی حکومت کی حمایت کر رہی ہے اور یہ جاری رہے گی۔مسٹر پاسوان نے کہا کہ درج فہرست ذات وقبائل پرتشددکی روک تھام کے قانون کو کمزور کئے جانے کو لے کر مرکزی حکومت اور ایل جے پی نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی عرضی داخل کی ہےلیکن یہ عدالت میں زیر التوا ہےاس وجہ سے بھی حکومت کو فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close