سیاست

مرکزی حکومت رام مندر کی تعمیر کے لئے آرڈیننس نہیں لائی تو عوام معاف نہیں کریں گے: توگڑیا

اجودھیا:انٹرنیشنل ہند و پریشد کے صدر ڈاکٹر پروین بھائی توگڑیا نے کہاکہ مرکز میں برسراقتدار بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کی حکومت اجودھیا کی متنازع رام جنم بھومی پر عالیشان مندر کی تعمیر کے لئے اگر آرڈیننس نہیں لاتی ہے تو اس بار ملک کے عوام انہیں معاف نہیں کریں گے۔ڈاکٹر توگڑیا نے سنیچر کو یہاں یو این آئی سے ایک خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ مودی حکومت اگر لوک سبھا انتخابات سے قبل اجودھیا کی متنازع شری رام جنم بھومی پر عالیشان مندر کی تعمیر کا آرڈیننس نہیں لائی تو اس بار ملک کے عوام انہیں اقتدار سے ہٹا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کے نام پر بی جے پی نے ووٹ مانگے تھے اور عوام نے مکمل اکثریت دیکر نریندر مودی کو وزیراعظم بنایا۔ چار برس گزرنے کے بعد بھی مسٹر مودی نے ایک بار بھی مندر کی تعمیر کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔
انہوں نے وزیراعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی انتخابات کے دوران اور بعد میں کئی بار فیض آباد آئے لیکن اجودھیا کے رام للا کے درشن کرنے تک نہیں گئے۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی سے قبل کے وزرائے اعظم راجیو گاندھی، پی وی نرسمہا راؤ، اٹل بہاری واجپئی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے رام مندر سے متعلق میٹنگیں بھی کی تھیں لیکن نریندر مودی ایک بار بھی ملک کو رام مندر کی تعمیر بارے میں نہیں بتایا۔انہوں نے کہا کہ آج اگر وشو ہندو پریشا کے بین الاقوامی صدر اشوک سنگھل ہوتے تو اجودھیا کی متنازعہ رام جنم بھومی پر عالیشان مندر تعمیر ہوجاتا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2013 کے پریاگ کنبھ میلے میں اشوک سنگھ نے یہ تجویز مذہبی رہنماؤں کے سامنے رکھی تھی کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے سینئر لیڈر اور گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کو وزیراعظم کا امیدوار بنایا جائے۔ اُس تجویز کو سبھی مذہبی رہنماؤں نے ایک آواز ہوکر منظوری دی تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close