سیاست

‘ مسجد ۔ مندر پر بہت ہوئی سیاست، اب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے ‘

رام مندر پررام ولاس ویدانتی کے بیان پر لکھنؤ میں سنی مذہبی رہنما اور عید گاہ کے ترجمان مولانا سفیان نظامی نے کہا کہ بابری مسجد ۔رام مندر کو لیکر سیاست بہت ہو چکی ہے۔ اب سبھی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ مولانا نے کہا کہ بار بار بیان کے ذریعے کچھ لوگ سپریم کورٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ دراصل بیان دینے والوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھروسہ نہیں ہے۔ ایسے بیان دینے والوں کا اپنا وجود نہیں ہے۔ یہ لوگ بے وجہ بیان دیکر چرچا میں بنے رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیان دینے والے لوگوں پر سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہئے۔

بتادیں کہ رام جنم بھومی ٹرسٹ کے سینئر ممبررام ولاس داس ویدانتی نے پیرکو دعوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2019 سے پہلے کبھی بھی رام مندر کی تعمیر شروع سکتی ہے۔ بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ رام ولاس ویدانتی نے کہا ، ” جس طریقے سے اچانک متنازعہ ڈھانچہ منہدم کر دیا گیا اسی طریقہ سے راتوں رات مندر کی تعمیر بھی شروع ہو سکتی ہے۔” انہوں نے صاف طور پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ مسجد توڑنے کیلئے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہی رام مندر کی تعمیر کر سکتی ہے اس کے علاوہ کوئی اور پارٹی نہیں ہے جو رام مندر کی تعمیر کرا سکے۔ ویدانتی نے امید ظاہر کی کہ 2019 میں پھر بی جے پی کی حکومت بنے گی اور نریندر مودی ہندوستان کے دوبارہ وزیر اعظم بنیں گے۔

ویدانتی نے کہا تھا کہ یہ الزام سراسر غلط ہے کہ مسجد توڑی گئی۔ اس جگہ پر مسجد تھی ہی نہیں۔ وہاں ایک ڈھانچہ تھا جو رام مندر کا کھنڈر تھا۔ جسے وہاں نیا رام مندر بنانے کیلئے توڑ دیا گیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتے ہوئے کہا ، ‘ اب ملک اور ریاست میں بی جے پی کی مکمل اکثریت والی حکومت ہے۔ لہذا وہ رام جنم بھومی ٹرسٹ کو اس کی 67 ایکڑ زمین واپس کر دیں ۔جس سے وہاں مندر بنایا جا سکے’۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close