پٹنہ

مسلمانوں کو مسٹر اور ملّا میں تقسیم کرنا انگریزوں کی سازش تھی: اخترالواسع

پٹنہ،:انگریزوں نے اپنے مقصد کے خاطر ایک سازش کے تحت تعلیم کو دین اور دنیا کے خانوں میں تقسیم کرکے مسٹر اور ملاّ کے نام سے دو طبقات بنادیئے، مسلمان اگر اپنی شاندار ماضی کی بازیافت چاہتے ہیں تو انہیں نظام تعلیم کی وحدت کے اس خاکے میں رنگ بھرنا ہوگا جسے مولانا مناظر احسن گیلانی نے پیش کیاتھا۔ان خیالات کا اظہار آج یہاں ماہر اسلامیات مولانا آزاد یونیورسٹی جودھ پور کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع نے کیا۔ وہ مولانا مناظراحسن گیلانی ۔ حیات و خدمات کے موضوع پر دو روزہ کل ہند سیمنار میں کلیدی خطبہ دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نظام تعلیم میں جدید اور قدیم کے نام سے جو دو رخی آئی ہے وہ انگریزوں کی سازش کا نتیجہ ہے جسے انہوں نے اپنے نظام تعلیم کو نافذ کرنے اور ہمارے شمولیت پسند نظام تعلیم کو بے دخل کرنے کے لیے کی تھی۔پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ ’’آج جو لوگ مدارس سے جدیدیت اختیار کرنے کی بات کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ تاج محل کا حسن، قطب مینار کی بلندی ، لال قلعہ کی پختگی اور شاہ جہانی مسجد کا تقدس عطا کرنے والے کہیں اور سے نہیں بلکہ مدرسوں سے پڑھ کر آئے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم ایک بارپھرمہتم بالشان ماضی کی باز یافت کریں؟‘‘
پروفیسر واسع نے کہا کہ مولانا گیلانی کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے نظام تعلیم کی وحدت کا خاکہ پیش کیاتاکہ مسٹر اور ملا کے نام سے جو دو الگ الگ طبقات بن گئے ہیں، وہ ختم ہوجائیں۔ آج کے حالات میں اس خاکے میں رنگ بھرنے کے سلسلے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ مولانا مناظر احسن گیلانی بیسویں صدی کی مایہ ناز شخصیات میں تھے۔ مولانا سید سلمان ندوی نے انہیں ’’سلطان القلم‘‘ کا خطاب دیاتھا جب کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے ان کے بارے میں کہا تھا ’’بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ وسعت نظر، وسعت مطالعہ، رسوخ فی العلم اور ذکاوت میں ان کی نظیر ممالک اسلامیہ میں ملنی مشکل ہے۔‘‘قبل ازیں امارت شرعیہ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ بہار کی سر زمین نے متعدد عظیم اور قابل فخر شخصیات کو جنم دیا ہے جن میں مولانا مناظر احسن گیلانی بھی شامل ہیں۔ سیمینار میں معروف عالم دین مولانا رابع حسنی ندوی کو بھی آنا تھا تاہم وہ نہیں آسکے البتہ ان کا پیغام پڑھ کر سنایاگیا۔ جس میں انہوں نے مولانا گیلانی کو متنوع خصوصیات کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پی ایچ ڈی بننا آسان ہے مناظر احسن بننا مشکل ہے۔‘‘اس سیمینار کا انعقاد انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی او ایس) نئی دہلی نے کیاتھا۔ آئی او ایس کے جنرل سکریٹری پروفیسر زیڈ ایم خان نے صدارتی خطاب میں مولانا گیلانی کو عظیم اسکالر اور عبقری شخصیت قرار دیا۔آئی او ایس کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظورعالم علالت کے سبب پروگرام میں شریک نہیں ہوسکے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ زمانے میں ہمارے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اسلام کے ذریعہ عظمت انسانیت کا کام انجام دیں۔سیمینار میں آج مولانا گیلانی کی حیات اور خدمات کے مختلف پہلوو ں پر متعدد مقالے پیش کیے گئے۔ پروگرام کل بھی جاری رہے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close