بہار

مسلمان اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کریں:مولاناولی رحمانی

ڈھاکہ کے عید گاہ میدان میں منعقد اجلاس عام سے حضرت امیر شریعت کا خطاب،ہزاروں لوگ ہوئے شریک

موتیہاری: امارت شرعیہ کے زیراہتمام ۲۰نومبرکو لہن ڈھاکہ کے عید گاہ سے متصل ایک وسیع عریض میدان میں اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نے کہاکہ کچھ لوگ مسلمانوں کو عددی کثرت و قلت میں الجھا نے کی کوشش کر رہے ہیں اور بد قسمتی ایسی کہ مسلمان بھی اس سازش کے شکار ہوتے جا رہے ہیں ، ذرا غور کیجئے کہ ماضی میں مسلمانوں کی تعداد آج کے مقابلہ میں بہت تھوڑی تھی ، مگر اقتدار اور حکومت ان کے ہاتھوں میں تھی ، جہاں انہوں نے کامیاب حکومت کی اور ملک کو ترقی دی ، بات در اصل یہ ہے کہ ان کا اللہ پر پورا اعتماد و یقین تھا ، زندگی اللہ اوراس کے رسول کے احکام کے مطابق گذر رہی تھی ، لیکن اب ہمارا رشتہ اللہ سے کمزور ہو تا جا رہا ہے ، جس کی وجہ سے ہم دوسروں کی نگاہ میں کمتر ہو گئے ہیں۔ اپنے صدارتی خطاب میں مولاناولی رحمانی نے کہا کہ قرآن نے تو کہا تھا کہ تمہیں سر بلند ہو گے اگر تم مومن ہو ، یہ آیت ہم سبھوں کو جھنجھوڑ رہی ہے کہ کیا ہم سب سچے اور پکے مومن ہیں ؟ جواب دل سے دینا ہو گاکہ کیا جسم کا کوئی پرزہ ڈھیلا تو نہیں ہو گیا ہے ؟لوگ کہتے ہیں کہ ہم اقلیت میں ہیں ، اس لیے ذلت مقدر ہو گئی ہے ، حالانکہ تاریخ اس کا انکار کر رہی ہے ، اس ملک میں کسی زمانہ میں مسلمان اکثریت میں نہیں رہے ہیں ، پہلی جماعت صحابہ کی آئی ، پھر دوسری جماعت آئی اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نام لینا شروع کیا اور لوگوں کودین و ایمان کی دعوت دینے لگے اور اللہ کے بندے ایمان میں داخل ہو تے گئے ، ان کے چلنے پھرنے سے لوگ یقین کرتے کہ یہ صاحب ایمان ہیں، جب پندرہ ہزار کی تعداد ہوئی تو بادشاہ وقت نے انہیں جج کے منصب پر فائز کیا اور ان کے طریقہ کار سے لوگ اسلام سے قریب ہوتے گئے اور انہیں جدو جہد کے نتیجے میں کیرالہ میں پہلی مسجد کی تعمیر ہوئی ، یہاں سے ملک کی ایک نئی تاریخ بنی ، اور پھر آبادی بڑھتی گئی ، ڈیڑھ لاکھ کے قریب مسلمانوں کی آبادی ہوئی تو وہ ایک سلطنت کے مالک بھی بنے ، اس عہد میں لوگ خوشگوار و پر امن زندگی گذار رہے تھے ، کسی کو شکایت کا موقع نہیں تھا، آبادی بڑھتی گئی ، حکومت پھیلتی چلی گئی ، ایک زمانہ میں اس ملک کو سونے کی چڑیا کہا جا تا تھا۔ آج ہماری تعداد پہلے سے زیادہ ہے ،لیکن ہم حاشیہ پر آگئے ہیں ، بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ داداؤں کے کردار و عمل کو چھوڑ دیا ، ہمارے اخلاقی حالات بھی کمزور پڑتے چلے گئے جس کی وجہ سے ہم اللہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کی نگاہوں میں بھی ذلیل ہو گئے ۔آپ حضرات ۱۵؍ اپریل کو دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس میں شرکت کی ، اور اپنی اسلامی شناخت اورمذہبی کردار کا اچھا مظاہرہ کیا، اس کو زندگی میں لائیے ۔اپنے عمل سے بتائیے کہ ایمان والے ایسے ہوتے ہیں۔مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے سروں پر عزت کاتاج رکھا ہے ، عورتیں خود اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں ، اور اپنے شوہر کے حقوق کو ادا کرنے کی کوشش کرتی رہیں ۔ ناظم صاحب نے ازواج مطہرات اور صحابیات کے واقعات کی روشنی میں کہا کہ خواتین اگر چاہیں تو گھر کے ماحول کو اسلامی ماحول بنا سکتی ہیں ، مردوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے گھریلو مسائل و معاملات میں عورتوں سے ہی مشورہ لیا کریں ، تاکہ ان کی دلجوئی بھی ہوتی رہے ۔ دار العلوم دیوبند وقف کے استاذ حدیث مولانا محمد شمشاد رحمانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مفصل روشنی ڈالی ، اور لوگوں سے اس کے مطابق زندگی گذارنے کا عہد و پیمان لیا۔ مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمینے قرآن کریم پر عمل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ کتاب ہدایت بھی ہے اور رہنما اصول بھی ۔ مولانا محمد سہراب ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ نے سماجی برائیوں کو مٹانے اور صالح معاشرہ کی تشکیل پر زور دیا ، مولانا سہیل احمد ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ نے کلمہ کی بنیاد پر متحد زندگی گذارنے کی تلقین کی۔

، مولانا اطہرجاوید قاسمی قاضی شریعت ڈھاکہ نے غیبت ،چغل خوری ، خرام خوری اور دیگر سماجی واخلاقی رذائل کی برائی اور شناعت کو تفصیل سے بیان کیا اور لوگوں کو ان برائیوں سے بچنے کی ترغیب دی۔ موقع پر مولانا امان اللہ مظاہری نے حضرت امیر شریعت کی خدمت میں سپاس نامہ بھی پیش کیا ۔پروگرام کی نظامت مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نے بہت ہی خوش ااقسلوبی سے اداکی ۔ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے نائب ناظم مولاناسہیل احمد ندوی ، مولانا رضوان احمد ندوی نائب مدیر نقیب ،مفتی محمد امام الدین قاسمی ، مولانا قمر انیس قاسمی ، قاضی اطہر جاوید قاسمی، مولوی ممتاز احمد کے علاوہ مولانا سعود اللہ رحمانی، مولانا عبد القادر رحمانی، مولانا ظہیر الحسن شمسی، مولانا مزمل حسین قاسمی، مولانا اختر حسین شمسی،مولانا محی الدین صاحب، مولانا عبد الباری راہی، وغیرہ مبلغین امارت شرعیہ نے شب و روز جد جہد کی ، مجلس استقبالیہ کے اصحاب بھی ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں ، جنہوں نے نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں انتھک کوشش کی ،اللہ ان سب کو جزائے خیر دے ۔اخیر میں یہ اجلاس مولانا محمد شمشاد رحمانی کی دعا پر اختتام پذیرہوا۔
معلوم ہوکہ ۱۹؍۲۰؍ نومبر کو دو روزہ خصوصی تربیتی اجلاس کئی نشستوں میں منعقد ہوا ، امیرشریعت مولاناولی رحمانی کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس اجلاس عام میںضلع بھرسے ہزاوں فرزندان توحید نے شرکت کی ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close