متھلانچل

مسلم معاشرہ میں تعلیمی گراوٹ کی اہم وجہ خاندانی انتشار: خورشید احمد خان

تعلیمی کارواں کی آمد پر ذاکر حسین ٹریننگ کالج میں تعلیمی مذاکرہ کا انعقاد

دربھنگہ :مقامی ڈاکٹر ذاکر حسین ٹیچرس ٹریننگ کالج لہریاسرائے میں حامد فاؤنڈیشن کے تعلیمی کارواںکے حت تعلیمی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا ۔مذاکرہ کی صدارت تعلیمی کارواں کے قائد اورمعروف سماجی و تعلیمی خدمت گار ایم سلمان صدیقی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض نوجوان صحافی ڈاکٹر عبد المتین قاسمی نے بحسن و خوبی انجام دئیے ۔ڈیلی گیٹ ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی ( ناظم دعوۃ الحق لکھنؤ )نے کارواں کے اغراض و مقاصد اور اس کی کارکردگی کی تفصیلات پیش کی اور کارواں میں شامل افراد کا خاکہ پیش کیا ۔ انہوں نے تعلیم ، اس کے بعد اعلی تعلیم اور پھر اسلامی تربیت پر روشنی ڈالا ۔ انظار احمد صادق ( استاد الحراء پبلک اسکول پٹنہ ) نے علم کی اہمیت اور قرآن وسنت میں اس کی تاکید اور اہتمام پر روشنی ڈالا ۔پروفیسر خورشید احمد خان (سابق صدر شعبہ اردو غالب کالج گیا ) نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں تعلیمی گراوٹ کی اہم وجہ خاندانی انتشار اور نا اتفاقی ہے ۔ہمارا معاشرہ اتنا خود غرض ہوگیا ہے کہ ہم صرف اپنی ذات ، اپنی بیوی بچے تک ہی سمٹ کر رہ گئے ہیں ۔ والدین کو بھی ہم نے فراموش کردیا ہے ۔ ضرورت ا س بات کی ہے کہ اپنے آپ سے اوپر اٹھ کر خاندان ، رشتہ دار ، پڑوس اور سماج کے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں ۔ اس وقت دنیا میںجو انتشار کی کیفیت ہے یہ بہت اچھا موقع ہے کہ ہمارے بچے علم و ہنر کی بنیاد پرغلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ کارواں کے ڈیلی گیٹ مولاناظہیر احمد ندوی (سابق استاد ندوۃ العلماء لکھنو ) نے کہا کہ علم کامقصد ایک صالح معاشرہ کی تشکیل ہے ۔ ابتدائی تعلیم کی جو صورت حال ہے اس کا جائزہ لیا جائے اور ایساکچھ نظم کیا جائے کہ ایک صالح معاشرہ وجود میں آئے اوراور اس کیلئے ضروری ہے کہ گارجین روز اول سے ہی اپنے بچوں کے اندر اسلامی اخلاق و آداب کی تربیت کریں ۔ تعلیمی تحریک سے ملت کے اس طبقہ کو جوڑا جائے جہاں اب تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ سکی ہے ۔ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹ بیدر کرناٹک کے ڈائرکٹر عبد العزیز نے شاہین گروپ کی سرگرمی اور طریقہ کار سے واقف کراتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹیم نے پڑھائی کے دوران پیچھے رہ جاتے ہیں ایسے اسٹوڈنٹس کیلئے مدرسہ کے طرز پر انفرادی سبق پڑھائے جانے کا انتظام کر رکھا ہے جس سے یہ کمزور بچے بھی بہت جلد اپنے ہم سبق بچوں کے ہم پلہ ہوجاتے ہیں ۔اس کے علاوہ حفظ قرآن یا مدرسہ کی تعلیم چھوڑ چکے طلباء کوعصری اور ٹیکنیکل تعلیم کے قابل بنایا جاتا ہے ۔ کوچنگ کی شکل میں شروع شاہین گروپ میں اس وقت 15ہزار طلباء عصری اور ٹیکنیکل تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ صدارت کررہے میرکارواں ایم سلمان صدیقی نے کہا کہ سیاسی ،معاشی ، سماجی اور معاشرتی بہتری کیلئے تعلیم بنیادی ضرورت ہے ۔تعلیم سے ہی قوموں کی تقدیر بنتی ہے ۔ معلم اول نے سب سے پہلے امت کو جو پیغام دیا وہ حصول علم کا پیغام تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ کی بعثت سے قبل علم کا دائرہ بہت محدود تھا اوریہ تصور تھاکہ مخصوص قوم ، مخصوص قبیلے اورافراد ہی علم حاصل کرسکتے ہیں ۔ بعض قوموں کے ساتھے یہ معاملہ تھا کہ اگر وہ علم حاصل کرتے ہیں تو ان کے کان میں سیسہ پگھلایا کر ڈال دیا جائے ۔ لیکن اسلام نے دنیا کے ہر فرد خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہر کسی کو علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور اس کی تاکید کی ہے ۔ ملک میں جب کبھی حالات بگڑے ہیں، ہمارے اسلاف نے ملت کو مایوسی کے دور سے باہر نکالا ہے ۔ آج پھر کم وبیش ویسے ہی حالات ہیں ایسے میں تعلیم کو ہتھیار بنا کر ہی غلبہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ دربھنگہ علم ودانش کا گہوارہ رہا ہے ۔ دربھنگہ کی نمائندگی کرنے والے سابق وزیر محمد علی اشرف فاطمی نے اپنی وزارت کے دوران تعلیم کے شعبہ میں بڑا کام کرکے دکھایا ہے ۔ فاطمی کمیٹی ،پانچ علی گڑھ برانچ، مانو اردو اسکول اور اردو زبان میں ٹیکنیکل تعلیم کا انتظام جیسے کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس موقع پر مقامی دانشوران میں شاعر و ادیب پروفیسر شاکر خلیق اور قاری عثمان احمد (استاد شفیع مسلم ہائی اسکول ) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ، ڈاکٹر شارق حسین ( سکریٹری ذاکر حسین ٹیچرس ٹریننگ کالج ) کے کلمات تشکر پر مذاکرہ اختتام پذیر ہوا ۔اس موقع پر الحاج عبد الحفیظ ، ممتاز عالم ایڈوکیٹ ، ایس ایم جاوید اقبال ، ڈاکٹر جاوید ذو القرنین ، سماجی کارکن شاہد اطہر ، ڈاکٹر محمد رضوان قاسمی ،ڈاکٹر شفقت بزمی ،محمد ارشاد عالم ،اقبال شیدا ، مفتی محمد حسنین قاسمی (جامعہ عائشہ صدیقہ نور چک )، جاوید اختر ، ابو طلحہ ، حافظ صدر عالم ، رشید احمد ، حافظ محمد دانش ، ڈاکٹر فیروز اکرم ، آل نبی مجاہد ، محمد شاکر حسین ، سمیع اللہ جیلانی ، فضل اللہ جیلانی ، محمد ظہیر ، محمد عاقب ، مطیع الرحمن ، محمد پرویز اور آفاق حسین بطور خاص موجود تھے ۔
(رپوٹ:عرفان احمد پیدل )

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close