بہارکوسی

مشرقی چمپارن کے موتیہاری شہر میں آل انڈیا مشاعرہ وکوی سمیلن کا انعقاد

موتیہاری (فضل المبین )سر سید ویلفیئر سوسائیٹی کے زیر اہتمام مشرقی چمپارن کے موتیہاری شہر میں آل انڈیا مشاعرہ وکوی سمیلن کا انعقاد نہایت ہی تزک واحتشام کے ساتھ ہوا ۔ جس میں ملک کے مختلف گوشوں سے آئے شعرائے کرام کے بہار و چمپارن کے میزبان شعراء نے بھی کلام پیش کر اردو و ہندی زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہو ئے ملک کے حالات پر بھی اشعار پڑھے اور سامعین کو اپنے کلام سے خوب جھمایا۔مشاعرہ کا افتتاح حکومت بہار کے وزیر شرون کمار ،ریاستی وزیر پرمود کمار ،ریاستی وزیر رانا رندھیر سنگھ ، سابق مرکزی وزیر ورکن راجیہ سبھا اکھیلش پرساد کے ہمراہ ڈھاکہ ایم ایل اے فیصل رحمن ،ایم ایل اے راجندر رام ، ایم ایل اے ڈاکٹرشمیم احمد ،رکن قانون سازیہ خالد انورکے علاوہ درجنوں نامچین ہستیوں نے مشترکہ طور پر کیا۔ جس کے بعد تینوں وزراء اور سابق وزیر نے خطاب بھی کیا اور حالات کے پیش نظر مشاعرہ و کوی سمیلن کے اہمیت و افادیت کو بھی بیاں کیا۔وہیں اس دوران چمپارن کے قدآور رہنما رکن راجیہ سبھا مرحوم مطیع الرحمن کو بھی یہ کہ کر خوب یاد کیا گیا کہ : موتیہاری میں سب سے پہلے مشاعرہ کی محفل سجاکر مرحوم اس کوی سمیلن کا آغاز کیا تھا اور آج انہیں کے چمن کی آبیاری جناب محب الحق کر رہے ہیں ۔ وہیں وزراء اور دیگر رہنمائوں کا استقبال شال اڑھاکر کیا گیا۔جبکہ سرسید ویلفیئرسوسائیٹی کی جانب سے مئکھتلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے کیلئے انہیں سر سید ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ۔ جن میں عزیر انجم ،صابر خان ، عذیر انجم ، ڈاکٹر تبریز عالم کے نام شامل ہیں ۔
مشاعرہ کا آغاز زید رحمن نے نعت شریف پڑھ کر کیا جبکہ نظامت کے فرائض منصور عثمانی نے ادا کئے وہیں صدارت محب الحق خاں نے کی۔شعری و ادبی نشست کا آغاز پرویزاشرف کے کلام سے ہوا ۔ وہیں کارگل میں جا کر سب سے پہلے مشاعرہ پیش کرنے والی خاتون گوری مشرا مشاعرہ کا ماھول بنانے کی خاطر لوگوں سے خوب طنز مزاح کر مزاحیہ اشعار پڑھے ۔کبھی صدر اجلاس کو بھائی بنایا تو کبھی نینیتال کے باد نسیم کا تذکرہ کر لوگوں کو لبھایا ۔جبکہ مہاراشٹرا سے آئے نعیم فراز یہ اشعار پڑھے
جنہوں نے باپ کوسدا غربت سے لڑتے دیکھا ہے
وہ بچے کھلونے کی کبھی فرمائش نہیں کرتے
اسکے بعد ایوب وفا نے مزاحیہ اشعار پڑھے اور سیاست دانوںپر خاص توجہ رکھا ۔
وہیں ہندستان کے مشہور ومعروف شاعر ساحل سحری کی صاحبزادی نازیہ سحری نے اپنا تعارف کچھ اس طرح کرایا کہ :
مجھ سے رنگین غزل کی کوئی امید نہ کر اتنی سستی نہیں میرا پیار نہیں بک سکتا
میرے والد میرے استاد ہیں ساحل سحری میرے اشعار کا کبھی معیار نہیں گر سکتا
ساتھ ہی انہوں نے اردو میں ہو تلفظ کی غلطی پر ایک تٖفصیلی غزل پڑھی اور ایک گیت بھی سامعین کے نذر کیا ۔
مزاحیہ شاعر وکاس بھوکل نے اپنے اشعار سے لوگوں کو خوب گدگدایا اور مرکزی حکومت کے پکوڑا یوجنا ، جی ایس ٹی ،مندر اور مسجد پر ہورہے سیاست کو بھی اپنے اشعار میں پرو کر پیش کیا ۔
ہردل عزیز شاعرہ صبا بلرام پوری نے بھی کچھ اس طرح کے اشعار سامعین کے حوالے کی
تلاش کرتی رہی مگر نہیں آیا کوئی بھی تجھ سا جہان میں نظر نہیں آیا
ضرور کوئی نہ کوئی کمی رہی ہوگی اسی لئے تو دعا میں اثر نہیں آیا
زمیں پہ یوں تو فرشتہ بھی آئے ہیں لیکن نبی کے جیسا کوئی بھی بشر نہیں آیا
وہیں ہندستان کے بیباک شاعر عزم شاکری کے شاعری پر لوگ خوب لطف ادوز ہوئے اور اپنے پیار اور محبت سے نوازا ۔
عشق تو بس پہلے پہل کا ہی تھا اب تو دل ٹوتنے کا مزہ ہی نہیں
اپنی مرضی سے دنیا میں زندہ ہیں لوگ لگ رہا ہے زمیں پر خدا ہی نہیں
بنگال کے شاعر پرویز قاسمی کا درد کچھ یوں چھلکا کہ :
تواریخ دیکھو اٹھا کر ہماری کٹایا ہے سر کو جھکایا نہیں ہے
ہے تاریخ شاہد ہمیں جس نے لوٹا وہ اپنا ہے کوئی پرایا نہیں ہے
وہیں بین الاقوامی شاعرہ سرزمین ہند کی شان ڈاکتر نسیم نکہت کئچھ یوں بیان کرتی دکھیں کہ:
ہمارے چہرے کے داغون پہ طنز کرتے ہو ہمارے پاس بھی ائینہ دکھائیں کیا
چراغ ہونے کی یہ سزائیں ملتی ہیں کیا بجھاکر مانینگیں یہ ہوائیں کیا
جبکہ طاہر فراز گھنٹوں لوگوں کی جذبات کی قدردانی میں مصروف نظر آئے اور بچپن کے دنوں کو غزل میں پیش کیا کہ :
گھر پہنچ کر خوشی تو ملے گی مگر گھر پہنچ کر سفر ختم ہوجائیگا
وہ تبسم جورخصت کریگا تجھے میری پلکوں میں موتی پیرو جائیگا
اخیر میں ڈاکٹر کلیم قیصر نے کہا کہ :
ان آنکھوں میں ڈوب مروں اپنی چاہت میں حل ہو جائوں
عشق کر و تو ڈوب مرو یا خود پاگل ہو جائو
وہیں شکیل اعظمی ، ڈاکتر سنیل کمار تنگ ،حسیب سوز ،سریش اوستھی ،حسیب سوز ،گجیندر پریانشو ، ایوب وفا ، جبکہ میزبان شعراء میں ایم این اختر ،گلریز شہزاد ، کلیم اللہ کلیم ، عزیر سالم ،عقیل احمد شاد ،ڈاکٹر صبا اختر شوخ ،عزیر انجم ،ظفرحبیبی روح الحق ہمدم ،ڈاکٹر اختر صدیق نے بھی اپنے کلام پیش کئے
جبکہ سامعین میں پروفیسر سید نسیم احمد ، ساجد رضا ، تفضیل خاں ،گڈو خاں ، انور کمال ، ڈاکٹر قاسم انصاری ، انور فاروقی ،طارق انور چمپارنی ، رضوان مکھیا ، ماسٹر اصغر، ساجد حسین،سید مبین ، سمیت تقریبا دس ہزار لوگ شامل تھے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close