اتر پردیش

مشکل میں پڑے یوگی،سپریم کورٹ نے کہا کیوں‌نہ مقدمہ چلے

نئی دہلی:اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے مشکلیں بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں کیونکہ اشتعال انگیز تقریر معاملے میں عدالت عظمیٰ نے ان کی نکیل کسی ہے۔ دراصل 2007 میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر دینے سے متعلق سپریم کورٹ نے یوگی حکومت کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سوال کا جواب مانگا ہے کہ آخر یوگی آدتیہ ناتھ پر مقدمہ کیوں نہیں چلنا چاہیے؟یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس اشتعال انگیز تقریر کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے نوٹس جاری کیا ہے اس میں یو پی حکومت نے قانونی کارروائی کی اجازت نہیں دی تھی اور الٰہ آباد ہائی کورٹ نے یو پی حکومت کے فیصلے پر مہر لگائی تھی۔ اس سے قبل یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف 2007 کے گورکھپور فساد میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کے معاملے میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یوگی آدتیہ ناتھ سمیت سبھی ملزمین کو فریق بنانے کی ہدایت دی تھی۔واضح رہے کہ 2008 میں محمد اسد حیات اور پرویز نامی شخص نے گورکھپور فساد میں ایک شخص کی موت کے بعد سی بی آئی جانچ سے متعلق ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ عرضی میں یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ کی گئی مبینہ اشتعال انگیز تقریر کو فساد کی وجہ بتائی گئی تھی جس کے بعد اس وقت گورکھپور سے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کو گرفتار کر کے 11 دنوں تک پولس حراست میں رکھا گیا تھا۔ عرضی میں یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت جانچ کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ 2013 میں اس کیس کی جانچ سی بی-سی آئی ڈی نے کی اور مشتعل تقریر کی ریکارڈنگ میں یوگی کی آواز ہونے کی تصدیق کی۔ لیکن اس دوران یو پی کی اکھلیش حکومت سے اجازت نہ ملنے کے سبب سی بی-سی آئی ڈی نے یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کوئی فرد جرم داخل نہیں کیا تھا۔ اس سال یکم فروری کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے یوگی سمیت 8 ملزمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبہ والی عرضی کو خارج کر دیا تھا جس کے بعد عرضی دہندہ پرویز نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اسی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یوگی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے اور چار ہفتہ کے اندر اس سوال کا جواب دینے کے لیے کہا ہے کہ آخر یوگی آدتیہ ناتھ پر مقدمہ کیوں نہ چلایا جائے!

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close