بہارکوسی

مظفرپور شیلٹر ہوم معاملے میں سپریم کورٹ نے مرکز اور بہار حکومت کو بھیجا نوٹس

بہار: بہار کے مظفر پور بالیکا گریہہ ریپ کیس کو لے کر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے اس کیس کو لے کر مرکز اور بہار حکومت کو نوٹس جاری کر جواب مانگا ہے۔کورٹ نے مرکزی حکومت کے منسٹری آف وومین اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ، بہار حکومت اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز(ٹی آئی ایس ایس) کو نوٹس بھیجا ہے۔سپریم کورٹ نے اس پوری واردات کو شاکنگ بتاتے ہوئے ٹی آئی ایس ایس کو پوری رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کورٹ نے اس کیس میں وکیل اپرنا بھٹ کی تقرری ایمیکس کیوری کے طور پر کی ہے۔ واضح ہو کہ مظفر پور شیلٹر ہوم ریپ کیس میں اب تک 34 بچیوں کے ساتھ ریپ کی تصدیق ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بچیوں کی تصویر چلانے پر بھی ناراضگی جتائی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ مورفیڈ تصویر بھی میڈیا نہیں چلائے گی۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق؛ کورٹ نے کسی بھی طرح سے ریپ متاثرین بچیوں کی تصویر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر چلانے پر روک لگا دی ہے۔کورٹ نے متاثرین کے انٹرویو پر بھی میڈیا کو پھٹکار لگائی ہے اور کہا ہے کہ سب کو انٹرویو چاہیے، کسی کو متاثرین کی فکر نہیں ۔ وہیں آج مظفر پور کے شیلٹر ہوم میں 34 لڑکیوں سے ریپ کی مخا لفت میں لیفٹ پارٹیوں نے بہار بند بلایا ہے۔ آر جے ڈی ،کانگریس سمیت کئی دوسری پارٹیوں نے ان بند کی حمایت کی ہے۔ بند کے دوران کئی جگہوں پر مظاہرہ کرنے والے چکہ جام اور ریل روکتے نظر آئے۔پٹنہ کے ڈاک بنگلہ چوراہا پر بند کے حمایتی مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنی گرفتاری دے رہے ہیں۔ان کی مانگ ہے کہ سی بی آئی کی جانچ ہائی کورٹ کے جج کی نگرانی میں ہو۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ دنوں دہلی کے بہار بھون کے باہر بھی لوگوں نے مظاہرہ کیا تھا۔
واضح ہو کہ بہار کے مظفر پور کے بالیکا گریہہ میں بچیوں سے ریپ کے معاملے میں سی بی آئی نے ریاستی حکومت کی گزارش اور حکومت ہند کی سفارش کے بعد کیس درج کر لیا۔ معاملے میں مظفر پور واقع ساہو روڈ میں بالیکا گریہہ کے افسروں اور ملازمین کو ملزم بنایا گیاہے۔غور طلب ہے کہ سی بی آئی نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔
سی بی آئی نے کہا ہے کہ نابالغ لڑکیوں سے ریپ کے معاملے میں فارینسک جانچ کرائی جائے گی۔ سی ایف ایس ایل کی ایک ٹیم جلد ہی مظفر پور جاکر شیلٹر ہوم سے فارینسک نمونے اکٹھا کرے گی۔ افسروں نے بتایا کہ متاثرین کے بیانات کا استعمال کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ جرم کو کیسے انجام دیا گیا۔ پھر اس بیورے کا استعمال ملزمین پر مقدمہ چلانے کے لیے کیا جائے گا۔واضح ہو کہ اس معاملے میں 31 مئی کو برجیش ٹھاکر سمیت 11 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس درمیان اس معاملے کے اہم ملزم برجیش ٹھاکر کی پریس منطوری پی آئی بی نے رد کر دی ہے۔ پی آئی بی نے متعلقہ وزارت اور ڈپارمنٹس سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ پی آئی بی کارڈ کی بنیاد پر ٹھاکر کو مہیا کرائی گئی سہولیات واپس لے لیں ۔ جن میں مرکزی حکومت کی صحت سے متعلق سہولیات، سرکاری گھر اور ریلوے پاس شامل ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close