بہارسیاست

مظفر پور سانحہ پر ایکشن میں آئے نتیش

سماجی بہبود کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر سمیت 13 افسران معطل،سی بی آئی کے رڈار پر ہیں محکمہ کے کئی افسران

پٹنہ: بہار کے مظفر پور گرلس شیلٹر ہوم جنسی استحصال کیس میں آج محکمہ سماجی بہبود کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت 13 افسران کو معطل کر دیا گیا۔ محکمہ سماجی بہبود کے ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کے ڈائریکٹر راجکمار کی ہدایت پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ معطل افسران پر ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس (ٹی آئی ایس ایس) کی اڈیٹنگ رپورٹ پر کارروائی میں تاخیرکرنے کا الزام ہے۔محکمہ کی جانب سے شیلٹرہوم کوچلانے کے لیےرضاکارانہ اداروں کے کل مقررہ بجٹ کا 90 فیصد گرانٹ کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان اداروں کاانتخاب ریاستی حکومت کی طرف سے ٹینڈر شائع کرکے کیا جاتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ جن افسران کے خلاف معطلی کی کارروائی کی گئی ہے ان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مظفر پور دویش کمار شرما،اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھوجپور آلوک رنجن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھاگلپور گیتانجلی پرساد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدھوبنی کمار ستيہ كام، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارریہ گھنشیام رویداس،اسسٹنٹ ڈائریکٹر مونگیرسیما کماری، بچوں کے تحفظ کےافسر پٹنہ نولیش کمار سنگھ، اس وقت کے بچوں کے تحفظ کےافسر مونگیر رنجن کمار، اس وقت کے بچوں کے تحفظ کےافسر بھاگلپور رنجن کمار، بچوں کے تحفظ کےافسر گیا معراج الدین سعدانی،اس وقت کے بچوں کے تحفظ کےافسر مدھوبنی سنگیت کمار ٹھاکر، اس وقت کے بچوں کے تحفظ کےافسر موتیہاری وکاس کمار اورسپرنٹنڈنٹ نگراں ہوم ارریہ محمد فیروز شامل ہیں۔مظفر پور جنسی استحصال معاملے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر دویش کمار شرما نے ہی زنانہ تھانے میں 31 مئی کو ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ممبئی کی ٹي آئی ایس ایس نے محکمہ سماجی بہبود کی ہدایت پر مظفر پور کی رضاکارانہ تنظیم سروس قرارداد اور ترقی کمیٹی کی سوشل آڈٹ کی تھی۔ اڈیٹنگ کے بعد یہ روشنی میں آیا کہ گرلس شیلٹرہوم میں رہنے والی بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کیا گیا ہے۔ ٹي آئی ایس ایس نے اڈیٹنگ رپورٹ 26 مئی کو محکمہ سماجی بہبود کے سپردکیا تھا۔رپورٹ سونپےکےتقریبا ایک ماہ بعد کارروائی کی گئی۔ اس کے بعد گرلس شیلٹر ہوم سے 44 بچیوں کو آزاد کرایا گیا۔آزاد کرائی گئی بچیوں کو پٹنہ، مکاما اور مدھوبنی کےگرلس شیلٹر ہوم میں بھیجا گیا۔جانچ رپورٹ میں 34 بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس معاملے میں گرلس شیلٹر ہوم کےڈائریکٹربرجیش ٹھاکر سمیت دس لوگوں کو اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس معاملے کی 26 مئی کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کرانے کی سفارش کی تھی۔اس معاملے کی سی بی آئی تفتیش کر رہی ہے۔ تفتیش کی ذمہ داری سنبھال رہی سی بی آئی نےمحکمہ سماجی بہبود سے شیلٹرہوم سے منسلک تمام دستاویزات کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ سی بی آئی نے سیل کی گئی شیلٹرہوم کے تمام کمروں کی چھان بین کرنے کے بعدمتاثرہ بچیوں سے بھی معلومات لی ہے۔ سی بی آئی کے رڈار پر محکمہ سماجی بہبودکے کئی افسران بھی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close