اسلامیات

مظلوم اِمام!!! بے حس عوام:-احساس زِیاں جاتا رہا

اللہ تعالیٰ کے نز دیک اِمامت کا منصب(عہدہ ،سرداری ) بہت باعزت وعظمت والا ہے۔اس کا اندازہ قر آن کریم کے انداز بیان سے ہو تا ہے۔اللہ رب العزت نے اپنے پیارے نبی حضرت ابرا ہیم علیہ السلام مشہور لقب ’’خلیل اللہ‘‘ کوآ زما ئشوں میں ڈالا آپ تمام آز مائشوں میں کامیاب ہوئے تو اللہ تعا لیٰ نے ارشاد فر مایا:وَاِذِبْتَلٰٓی اِبْرٰ ھٖمَ رَبُہٗ۔۔۔۔الخ(القرآن،سورہ البقرہ ۲، آیت۱۲۴) ترجمہ:میں تمھیں لو گوں کا پیشوا(اِمام) بنائوں گا،انھوں نے عرض کیا:(کیا) میری اولاد میںسے بھی؟ارشاد ہوا:ہاں! مگرمیرا وعدہ ظالموں کو نہیںیعنی یہ وعدہ تمھاری اولاد کے ان لو گوں سے ہے جو صالح،نیک ہوں۔ دنیا میں بے شمار علم والے ہیں جو مختلف علوم کے ماہر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت قربِ الٰہی کی دولت سے فقط عالمِ باعمل کو نوزا۔ ارشاد خداوندی ہے اِنَّمَا یَخْشَیٰ اللّٰہَ مِنْ عِبَادِ ہِ الْعُلَمآ ۔۔۔۔الخ (القرآن،سورہ فاطر۳۵،آیت۲۸،)تر جمہ: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈر تے ہیں جو علم والے ہیں۔(کنزالایمان)حدیث پاک میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا اللہ سبحا نہُ تعالیٰ جس سے بھلائی کر نا چاہے اُسے دین کی سمجھ عطا کر تا ہے، آقا ئے نعمت مصطفی ﷺ نے تمام زندگی اما مت فر مائی آپ اگر کہیں سفر پر جا تے تو مدینہ منورہ والوں کے لیے امام کا انتخاب خود فر ماتے کہ فلاں صحابی نماز پڑھائے، حضور ﷺ کے بعد صحابئہ کرام نے جو بھی خلیفہ منتخب کیا وہ تمام سے بڑھ کر متقی اور پر ہیز گار ہوتا تاکہ بعد میں آنے والوں پر امام کے اوصاف واضح ہو جا ئیں کہ امام کیسا ہونا چا ہیے۔ اسلام میں امامت کا درجہ بہت اہم ہے اللہ رب ا لعزت نے امام کی فضیلت بیان فر مائی کہ میں جس سے خوش ہوں اسے لوگوں کا پیشوا(امام) بنایا، اسی طرح نبی ﷺ نے بھی امام کے فضائل ارشاد فر ما ئے،آپ ﷺ نے فر مایا: ’’ نماز میں جماعت کی امامت وہ شخص کرے جو نماز یوں سے زیادہ قر آن پاک کی تلاوت کر نے والاہو‘‘ ایک حدیث پاک میں ہے اے مسلمانوں تم میں سے جو اچھے اور بہتر ہیں ان کو امام منتخب کرو۔ کیونکہ وہ تمھارے رب کے نزدیک تمھارے نمائندے ہیں۔‘‘ اس حدیث پاک سے یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ امام رب کے نزدیک مقتدی کے نمائندے ہیں اس سے بڑی فضیلت وعظمت اور کیا ہو سکتی ہے۔حضرت علی کر م اللہ وجہہ ایک حدیث روایت کر تے ہیں کہ’’ مسجد کے لوگوں میں محبوب اور افضل مقام کا حا مل امامِ مسجد ہے۔ امام مسجد کے بعد افضل مقام موذن کا ہے‘‘ قرآن واحا دیث میں علمااور امام کے بہت فضائل ہیں دل بینا رکھنے والوں کے لیے اتنا ہی کافی ہے مشہور صوفی بزرگ تصوف کے امام حضرت امام غزالی رحمۃاللہ علیہ اپنی کتاب’’ احیاء العلوم‘‘ میں ارشاد فر ماتے ہیں کہ انبیاء کرام کے بعد علمائے حق کا درجہ ہے۔ اس کے بعدائمہ مسا جد کا درجہ ہے۔ کیوں کہ یہ لوگ مخلوق میں افضل ترین ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان رابطہ کا ذریعہ ہیں۔امام اور موذن کی ذمہ داریاں۔ جہاں امام و موذن کے اتنے فضائل ہیں وہیں ان پر بہت ذمہ داریاں بھی ہیں اما مت کا منصب بہت بڑا اور بہت ذمہ داریوں والا ہے، قوم کی رہنمائی کوئی آسان کام نہیں ، قوم کے اندر جو کمی ہے کجی ہے تو ائمہ کرام، علما ئے کرام کو سوچنا پڑے گا کہ میرے اندر کیاکمی ہے جو قوم کے اندر یہ کمی ہے ہم کہاں تک اس کے ذمے دار ہیںجو ان کی اصلاح نہ کرسکے، قوم کی غلطیوں کو گنا کر اپنے کو بر ی الذمہ قرار نہیں دے سکتے ہیںائمہ کرام کی ذمہ داری ستر فیصد تو عوام کی تیس فیصد ہے ذمہ داردونوں ہیں جو جتنا بڑا عالم ہے امام ہے اسکی ذمہ داری اتنی ہی زیادہ ہے۔تیزی سے بدلتی دنیا کو دیکھ کر دین کی جو ضرو رتیں ہیں اس کو سمجھیں اور حل کریں عوام کی رہبری کریں۔ سب کا حل شریعت محمدی اسلام میں موجود ہے۔ ماضی قریب کے علمائے حق کی کتا بوں کو دیکھیں علما نے کیسے کیسے لاینحل مسا ئل کو حل کیا ہے۔اعلیٰ حضرت مو لانا احمد رضا خاں کی کتاب ’’فتا ویٰ رضو یہ‘‘ (جو حقیقتاً قدیم وجدید اسلامی مسائل کا اِنسا ئیکلو پیڈیا (Encyclopaedia) ہے) ۳۰ تیس جلدوں میں محیط فتاویٰ رضویہ میںہر دینی مسائل کاجواب ہے علما وارث انبیاء ہیں ہر چیز میں قوم کی رہنمائی کر نا علما کی شرعی ذمہ داری ہے۔و اضح ہو کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں یہ دنیا کی باتیں ہیں ہم کو اس سے کیا مطلب ہم کیا کریں۔ سچ اور صحیح بات تویہ ہے کہ، جواب تو دور کی بات یہ جو اب ہی نہیںہے ۔ ہما ری یعنی مسلمانوں کی پہلی صفت داعی کی ہے اور یہ ذمہ داری علما ئے کرام،ائمہ کرام کے اوپر ہے اور ہمارا دوسرا کام مجادلہ ہے ۔ افسوس ہم نے اس تر تیب کو اُلٹا کر دیا ہے پہلے دعوت دینا ہے پھر ضرورت پڑ نے پر مجاد لہ کر نا ہے آج ہم نے ’’ مجادلہ‘‘ کو ایک نمبر پر رکھا ہے،دعوت کی طرف بالکل توجہ نہیں۔ کہاں دعوت کی ضرورت ہے، کہاں مجاد لہ کی اس کو سمجھنے کی سخت ضرو رت ہے۔ امامت کے فرائض کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے قوم کی اصلاح کے لیے سر انجام دیں اور خود کو اللہ رستے میں وقف کر دیں ،غریبوں کی دلجوئی کریں غریب لوگ سچے دل کے ہو تے ہیں ۔ڈاکٹر اقبال نے غریبوں کی اس طرح مدح سرائی فر مائی ہے۔
؎ میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے ٭ خودی نہ بیچ فقیری میں نام پیدا کر
امامِ مسجد کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اگر کوئی امیر دولت مند مسجد میں آجائے تو تعریف کے پل باندھ دے اور کوئی غریب پنجو قتہ نمازی مسجد میں آئے تو اس سے السلام علیکم بھی نہ کہے۔ امامِ مسجد ہر نمازی کا خیال رکھے اور سب نمازیوں سے محبت کرے، کیوں کہ وہ سب کمیونٹیcommunity))کا امام ہے۔ اگر کوئی نمازی بیمار ہو تو اس کی بیمار پر سی کو جائے محلہ کی ہر غمی وخو شی میں شریک ہو۔ امام سوشل ویلفیئرsocial welfare)) کا کردار ادا کرے تو عنداللہ اس کی عزت ہو گی امام مسجد کو صرف امامت ہی نہیںبلکہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے ہرشعبہ ہائے زندگی کو اپنانا چاہیے۔امام کو چا ہیے کی مسجد انتظامیہcommittee)) کے قوائد وضوابط جو شریعت میں جا ئز ہوں کما حقہ عمل کریں تاکہ مسجد آباد رہے، امام مسجد سب سے اخلاق سے پیش آئے خواہ وہ امیر ہو یا غریب ہر آنے والے کا خیال رکھے۔امیر خوش ہو کر تھوڑی رقم امام کو دیدے گا، لیکن غریب آدمی امام مسجد کی محبت میں بوقت ضرورت اپنے کا نذرانہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔شریعت اسلامی میں اپنی زندگی بسر کرے ہر قسم کی برائی اور گناہ سے بچے کسی قسم کا کوئی فتنہ پیدا نہ ہونے دے فتنوں کو حکمتِ عملی سے ختم کرے امت مسلمہ کا دل نہ دکھاوے بحر حال امامت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوم کی امانت سمجھے تو اللہ تعالیٰ کی اس پر خاص رحمت نازل ہوتی رہے گی ان شا ء اللہ تعالیٰ۔
عوام، مقتدی، انتظامیہ کی ذمہ داریاں۔ مقتدی، عوام، اور کمیٹی کے لوگ امام کی عزت واحترام کریں۔ اما مِ مسجد کا بہت رتبہ اور عزت ہے جو اوپر مختصر میں ذکر ہوچکا ہے، دوسرے مذاہب باطل ہیں پھر بھی انکے پیرو کار اپنے رہنما کی عزت عام لو گوں سے زیادہ کر تے ہیں یورپ وامریکہ جیسے آزاد معا شرہ میں لوگ پادری کو یہ مقام دیتے ہیں کہ اگر کسی عیسائی سے کو ئی گناہ سر زد ہو جا ئے تو وہ پوپ کو مطلع کر تا ہے کہ مجھ سے فلا ں گناہ سرزد ہو گیا ہے۔ پوپ پا نی کا چھینٹا اس کے چہرہ پہ مار تاہے اور کہتا ہے کہ تیرا گناہ معاف ہو گیا ہے۔ عیسائی خوش ہو جاتاہے کہ ہاں پادری نے اس کا گناہ معاف کر دیا معاذ اللہ ثم معاذاللہ،اللہ بچا ئے ایسے عقیدہ سے۔ امامت مذہبِ اسلام کا با عزت عہدہ ہے لھذا عوام، مقتدی،کمیٹی کے لو گوں پر لازم ہے کہ اپنے امام اور موذن کا خاص خیال رکھے۔ امامِ مسجد سے بشریت کے تقا ضہ سے کوئی غلطی ہو جائے تو در گذر کریں اور اکیلے میں اس بات کا احساس دلا ئیں کہ یہ بات غلط ہے۔ امام کو بد نا م ہر گز نہ کریں، امام کی نیت پر شک نہ کریں۔ اگر کوئی سنگین غلطی ہو تو کمیٹی امام کی حیثیت اور رتبے کا خیال کرتے ہوئے با عزت فارغ کر دے اور بعد میں اسے بدنام نہ کریں۔ حضور کی حدیث پاک ہے اللہ قیامت میں اس شخص کے حساب کو آسان فر ما ئے گا جو لو گوں کے عیب کو چھپا تا تھا۔ اللہ ستارالعیوب ہے لو گوں کی عیب پوشی فر ماتا ہے انتظامیہ مسجد ،امام کی عزت کو ہر حال میں ملحوظ رکھیں، اسکی کمزوری کو نہ اچھا لیںبعض لوگ اما م پر کڑی نظر رکھتے ہیں اپنی اولاد کی برائی ان کو نظر نہیں آتی یا نظر انداز کرتے اسی طرح امام سے بھی درگذر سے کام لیں اللہ معاف کر نے والوں کو دوست رکھتا ہے۔امام کے مسا ئل اور عوام کی ذ مہ داریاںامامت انتہائی با وقار منصب ہے امام مو ذن کی عزت کرنا ضروری ہے،صاحب ثر وت لوگ تو اکثر دین سے دور جا چکے ہیں کچھ کو چھوڑکر الا ما شاء اللہ حال خراب ہے اسلام میں امام و موذن مینا رِ نور کی مثل ہیں ان کی خد مت کو اپنے اوپر لازم کرلیں اللہ کی رحمت شاملِ حال رہے گی ان شا ء اللہ،معاشرے میں بہت سی برائیاں عام ہو گئی ہیں الزام تراشی،غیبت،اور چغل خوری وغیرہ کوئی شخص بھی ان برایئوں سے بچا نہیں ہے اور نہ ہی محفوظ ہے۔ الا ما شا ء اللہ دوسروں کی برائی کر نا اخلاق سے گری ہوئی بات ہے لیکن افسوس کی آج بہت سے لوگ امام مسجد،موذن کو بد نام کر نے کا کوئی مو قعہ نہیں جانے دیتے لو گوں کو اما موں ،عالموں سے دور کر نا یہ مسلمان کا طریقہ نہیں بلکہ غیر مسلموں کا طریقہ ہے ’’اللہ بچائے آمین‘‘امام و موذن اگر حق پر ہیں تو انکے قدم سے قدم ملا کر چلیں ان کا ساتھ دیں تاکہ ان کی دلجو ئی ہو اور ہمت بنی رہے انتہا ئی افسوس آج قوم کی بے حسی عروج پر ہے امام حق پر ہو تو بھی اس کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ ظالموں کے ساتھ ہو جا تے ہیں۔نا چیز راقم الحروف نے زمانہ طالب علمی ہی سے امامت وخطا بت شروع کیا مدرسہ عا لیہ وار ثیہ مچھلی محال ،لکھنو میں زیر تعلیم تھا مدرسہ کی جانب سے استاد محترم حضور قاری ابو الحسن بر کاتی صاحب نے حسین گنج،باغ آئینہ بی بی مسجد میں امامت کی ذمہ داری سونپی وہاں سے لیکر آج تک مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے والدہ ماجدہ ہاجرہ بی بی، کے نام تعمیر کردہ مسجد’’ مسجدِ ہاجرہ رضویہ‘‘ کے علا وہ جمشید پور واس کے اطراف میں تقریباً۱۶ مسجدوں میں جمعہ کی خطابت وامامت کی خدمت فی سبیل اللہ کا شرف حا صل ہو رہا ہے( الحمد للّٰہ!یہ ہمارے پیرومرشد حضور مصطفی رضا خاں بمشہور نام حضور مفتی اعظم ہند علیہ الر حمہ کا فیضا ن ا ور والدین کریمین کی دعا ئیں ہیں) اس ۳۳ سالہ طویل دور میں کئی ایسے اہم واقعات ہیں اگر تحریر میں لائے جائیں تو ایک کتاب تیار ہو جائے گی۔ ایک چھو ٹا سا واقعہ پڑھیں اور عبرت حاصل کریں۔ مسجد ہا جرہ رضویہ میں شر پسند و دبنگ لوگ نکاح کے لیے آئے اور موذن جناب آفتاب صاحب کو نکاح کے لیے کہا معاملہ مناسب نہ پاکر موذن صاحب نے مجھے فون کیا میں فورًا پہنچا معلوم ہوا لڑ کی غیر قوم کی ہے بھگا کر لائی گئی ہے میں نے کہا ملکی حالات خراب ہیں اور یہ لڑ کی مسلمان نہیں ہے کاغذات بھی نہیں ہیں کہ اس نے مذہب حق اسلام قبول کیا ہے، لھذا میں یہ نکاح نہیں پڑھا ئوں گا۔یہ معاملہ بہت آگے بڑھا اس پر ۲۰۱۷ء کے رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ میں نکاح کے مسائل پر قر آن واحا دیث کی روشنی میں خطاب کیا بعد جمعہ دبنگوں نے مسجد کے باہر مجھے زبر دست زدو کوب کیا یہا ں تک کہ گولی مار نے کے لیے تیار تھے، میں نے کہا دین بتا نا میرا کام ہے حق بیان کروں گا ۔ موت بر حق ہے آ پ لوگ مار نا چا ہتے ہیں تو مار دیں، یاد رہے غور طلب بات یہ ہے کافی بھیڑ اور عوام کی موجود گی میں یہ سب ہوا کسی نے اس ناچیز کا ساتھ نہ دیا نہ ہی بچا یا اللہ ہی کی مدد ہوئی کسی طرح میں جان بچا کر گھر آیا۔ اس حاد ثہ نے میرے دل و دماغ پر زبردست اثر کیا میں بد دل ہو گیا کی اب امامت وخطا بت چھوڑ دوں گا( واضح رہے یہ خد مت میں حق ا لمحنت کے طور پر نہیں بلکہ فی سبیل اللہ کر رہا ہوں) یہ تو میرے ساتھ معاملہ ہوا اس سے بھی افسوس ناک ، شر مناک حیرت انگیز واقعہ ملا حظہ فر مائیں۲۰۱۷ء والے ر مضان المبارک میں ،جمشیدپور کے ایک علاقہ مخدوم پور کی جامع مسجد میں رات شر پسندوں نے خنزیر کا کٹا سر ڈالدیا سحری کے وقت معلوم ہوا حالات بہت خراب ہو گئے،اراکین مسجد و مصلیان مسجدنے تین آدمیوں کے نا م رپورٹ تھانہ میں درج کرائی ملزمین کے آزاد گھومتے رہنے پر بہت تشویش ہوئی شہر کے اہل علم ودانشوران نے مشورہ کیا کہ SPاورDC کو میمورنڈم MEMORANDUM)) دیا جائے جس کے لیے شہر کی تقریباً ۱۰۰ سو مسجدوں بلا تفریق مسلک ومذہب مسجدوں کے امام وموذن، کمیٹی کے ذمہ داران کو اطلاع کی گئی لیکن حیرت وشرم کی بات یہ ہوئی کہ میمو رنڈم دینے کے لیے بمشکل۲۰ سے ۲۵ لوگ ہی جمع ہوئے۔ جبکہ اسی دن اسی وقت ہندئوں کی طرف سے ملز مین کی حمایت میں ہزا روں لوگ کورٹ گرا ئونڈ کے اندر جمع تھے بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد، مکتی با ہنی وغیرہ وغیرہ۔ ہم لوگ خا ئف تھے کی کہیں یہ بھیڑ ہم لو گوں پر حملہ نہ کر دے،اللہ اللہ کر کے کسی طرح ہم لوگ وہاں سے اپنے گھروں کو واپس آئے۔ یہ ہے مسلم قوم کی بے حسی یہ ہے مسجد کمیٹی کے ذمہ داران کاحال ایک ہو تو بیان کیا جائے دو چار ہوں تو اس کارونا رویا جائے ابھی تازہ واقعہ چند سطروں میں ملاحظہ فر مائیں،حافظ اما م الدین نیک متقی پر ہیز گار۴۰ سالہ امامت کا تجر بہ، مگن پور جامع مسجد ، رام گڈھ ،جھاڑ کھنڈ میں ۵ سالوں سے امامت کی خد مات انجام دے رہے تھے چھٹی پر گھر گئے دوسرے دن کمیٹی والوں نے فون کر کے کہدیا کی آپ کو ہم لوگ نکال رہے ہیں کوئی وجہ بھی نہیں بتائی بغیر نوٹس بغیر کسی جرم کے نکال دیا یہ حال ہے آج ظالم قوم کا سلوک مظلوم اما موں کے ساتھ کمیٹی والوں کے ظلم کابھی سلسلہ دراز ہو رہاہے اور پھر رونا روتے ہیں کی مسلما نوں کی حالت ابتر ہو رہی ہے، جس قوم کے لوگ امام پر ظلم کو جاری رکھیں گے وہ قوم کیسے فلاح پائے گی غور کریں؟
امام وموذن کی تنخواہیں۔مصلیان مسجد، کمیٹی کے ذمہ داران غور کریں کیا مسجدوں کے امام وموذن اس معا شرے کا حصہ نہیں؟ ۔ کیا ہمارا معاشرہ اپنے امام وموذن کو اس کا مقام دے رہا ہے۔ امام کے مصلے پر صرف وہی شخص کھڑا ہو سکتا ہے جو شخص سب سے بہتر ہو، نیک ہو، علم والاہو، لیکن ہما را حال یہ ہے کہ امام ہی کو ایک مزدور سے بھی کم تنخواہ دیتے ہیں ایک ٹیچر سے بھی کم تنخواہ امام کی ہوتی ہے۔ ٹیچر کو ریٹا ئر ہونے کے بعد تا حیات پنشن ملتی ہے اسپتالوں میں علاج کی سہولیت مفت میں وغیرہ وغیرہ۔بے چارہ امام اسی تنخواہ میں بچوں کی پر ورش ،پڑھا ئی لکھا ئی ،علاج و معالجہ سب کچھ کرتا ہے۔ الامان وا لحفیظ امام مسجد و موذن ہر جگہ عوام سے لیکر حکومت تک بے رحمانہ رویے کا شکار ہیں، جبکہ امام ہماری زندگی کا حصہ ہے ہمارے ہر کام میں اس کی معاونت ہوتی ہے ۔ پیدائش سے لیکر مر نے سے لیکر دفن سے لیکر ایصالِ ثواب تک بچہ کے کان میں اذان دینا ہو امام صاحب موذن صا حب کو بلائو ،کسی کا نکاح پڑھا نا ہو امام صاحب کو بلائو، کسی کا جنازہ پڑھا نا ہے امام صاحب کو بلائو، کہیں قرآن خوانی ہے امام صاحب کو بلائو، وغیرہ وغیرہ مگر ہم ان کو ان کی خد مت کا کیا صلہ(حق المحنت) کیا دے رہیں ذرا آپ اور ہم ٹھنڈے دل سے سوچیں اپنے گریبا ن میں جھانک کر دیکھیںجو ہمیں قر آن کی تعلیم اور علم دین سکھائے اسے ہم کیا دے رہے ہیں۔ائمہ مساجد مسجدوں میں دینِ اسلام کی خد مت کرتے ہیں، انتظا میہ کمیٹی انکو تنخواہ دیکر یہ خیال نہ کرے یہ امام ہمارا ملازم ہے۔بہت غلط سوچ ہے، بلکہ امام و موذن کو اعلیٰ مقام دے۔جو مسلمان دین اسلام سے محبت کر نے والا ہوگا یقیناً ائمہ مساجد کے ادب واحترام کو ملحوظ رکھے گا اور انھیں معزز جانے گا، اور جو عزت نہیں کرتے وہ بہت بد قسمت ہیں
؎ محمد کی الفت بڑی چیز ہے ٭ خدا دے یہ دولت بڑی چیز ہے
اللہ ہم تما م مسلما نوں کو امام وموذن کی عزت وتکریم کر نے کی توفیق بخشے اور دلوں میں جو بے حسی وجمود ہے اسے دور کرے آمین ثم آمین

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close