بہارمتھلانچل

مظہر امام کی شاعری نئے تجربوں اور معانی وبیان کے نئے راستے کی متلاشی: پروفیسر ارتضیٰ کریم

ایم۔ایل۔ایس۔ایم کالج دربھنگہ میں مظہر امام توسیعی خطبہ کا انعقاد

دربھنگہ:جدید اردو شاعری کی تاریخ میں مظہر امام کا ذکر نہ صرف لازمی ہے بلکہ اعتبار ووقار بخشنے کا وسیلہ بھی ہے ۔ کیو ںکہ مظہر امام اپنے ہم عصروں میں اس لئے ممتازرہے کہ وہ لفظوں کو نئے معانی کا پیکر عطا کرنے میں سبقت رکھتے تھے۔انہو ںنے موضوعی دائرے سے غزل کو بھی باہر نکال کر خونِ جگر کی بدولت اعتباریت بخشی تو نظم میں بھی تخیل کی دنیا کے ساتھ حقیقی عناصر کی پیشگی میں ہنرمندی دکھائی ۔ان خیالات کا اظہار اردو کے نامور ناقد وادیب پروفیسر ارتضیٰ کریم ، ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی نے کیا ۔پروفیسر کریم یہاں مہاراجہ لچھمیشور سنگھ کالج دربھنگہ میں مظہر امام توسیعی خطبہ پیش کررہے تھے۔ قومی کونسل کے تعاون سے یہ خطبہ پہلی بار کالج انتظامیہ نے منعقد کیا تھا ۔ انہو ںنے کہا کہ مظہر امام اسم با مسمیٰ تھے۔ وہ مظہر بھی تھے اور امام بھی۔ان کی شاعری میں صرف روایت سے استفادہ نہیں بلکہ جدیدیت کی آنچ بھی موجود ہے ۔ اگرچہ مظہر امام کی شاعری کو ہی اکثر موضوع بنایا جاتاہے لیکن وہ ایک سنجیدہ ناقد بھی تھے۔ پروفیسر کریم نے خاص کر فکشن کے حوالے سے مظہر امام کے نظریۂ نقد کی وضاحت کی ۔ انہو ںنے کہا کہ مظہر امام کی شاعری اور ان کے مضامین ان کے تعمیری فکر کے غماز ہیں۔ ان کی شاعری میں پوری انسانیت کے تحفظ کا بیان ملتا ہے ۔وہ ایک ترقی پسند بھی تھے لیکن کبھی روایت شکن نہیں رہے ۔ اس لئے ان کی شاعری میں اخلاقی اسباق بھی تلاش کئے جا سکتے ہیں ۔پروفیسر کریم نے کہا کہ یہ خطبہ اس معنی میں تاریخی ہے کہ پورے ہندوستان میں یہ کالج پہلا کالج ہے جس نے مظہر امام توسیعی خطبہ کا آغاز کیا ہے۔پروفیسر کریم نے مظہر امام سے اپنے ذاتی تعلقات اور ان کی انسان دوستی پر بھی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مظہر امام نے جو افسانے لکھے ہیں اس پر بھی بحث ہونی چاہئے کیوں کہ اردو افسانہ نگاری کے باب میں ان کے چند افسانے ہی سہی مگر تاریخی حیثیت کے حامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مظہر امام کا تعلق دربھنگہ سے تھا لیکن پوری اردو دنیا انہیں اردو کا ایک سنجیدہ اور جدید لہجے کا شاعر تسلیم کرتی ہے ۔مظہر امام کی شاعری نئی نسل کے لئے مشعلِ راہ ہے اور بہار سے تعلق رکھنے والے ادباء وشعراء کے لئے سرمایۂ افتخار ہے۔ مظہر امام کے تعلق سے اگر ایک تنقیدی رائے قائم کی جائے تو وہ یہ ہے کہ ان کی شاعری نئے تجربوں اور معانی وبیان کے نئے راستے کی متلاشی ہے۔اب قارئین کو فیصلہ کرنا ہے کہ مظہر امام کی شاعری اور ان کی تنقید کی قرأت کیسے کرتے ہیں اور معانی کے کس گوشے سے آشنا ہوتے ہیں۔جلسہ کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر مشتاق احمد نے مظہر امام کی شاعری کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ انہو ںنے نظمیہ اور غزلیہ شاعری کو نئے جہانِ معنی سے آشنا کیا ۔مظہر امام اپنے ہم عصروں میں نہ صرف اپنی بلند قامتی کی وجہ سے بلکہ اپنے اظہارِ بیان کے منفرد سلیقے کی وجہ سے ممتاز رہے ۔وہ اپنی شاعری میں خیالات کو معانی کا پیراہن عطا کرنے کے معاملے میں بھی اپنے ہم عصروں سے ممتاز رتھے۔ڈاکٹر احمد نے کہا کہ جدید شاعری پر گفتگو کرتے وقت یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مظہر امام کا پہلا مجموعہ ’’زخمِ تمنا‘‘ 1962ء میں شائع ہوا تھا جب کہ شہر یار کا مجموعہ ’’اسمِ اعظم‘‘ 1965ء میں شائع ہوا۔ اس لئے جدید شاعری کے ناقدوں کو اس نقطے پر بھی غور کرنا چاہئے۔انہوں نے مظہر امام کے اشعار کی روشنی میں ان کی شاعری کی زرخیزی کی وکالت کی اور انہیں شاعرِ زیست قرار دیا ۔ڈاکٹر احمد نے کہا کہ مظہر امام نے خود ہی کہا ہے کہ :مجھ کو پانا ہو تو ہر لمحہ طلب کر نہ مجھے٭رات کے پچھلے پہر مانگ دعا ہوں میں بھی ۔بلا شبہ مظہر امام کی شاعری اردو شاعری کے باب میں مقبول دعا کی حیثیت رکھتی ہے۔لہذا یہ خطبہ ایک تاریخی خطبہ ہے جو نئی نسل کو مظہر امام کے فکر وفن سے آشنا کرائے گی ۔ اس موقع پر پروفیسر انیس صدری، پروفیسر فاراں شکوہ یزدانی نے بھی مظہر امام کی شخصیت پر روشنی ڈالی ۔ سنڈیکٹ ممبر ڈاکٹر بیدناتھ چودھری اور صدر جلسہ پرنسپل کالج ہذا ڈاکٹر ودّیا ناتھ جھا نے اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر ارتضیٰ کریم کے کلیدی خطبے کی تعریف کی اور کہا کہ مظہر امام کو اس خطبہ کے ذریعہ ایک نئی زندگی عطا ہوئی ہے ۔پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر آفتاب اشرف صدر شعبہ اردو نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مظہر امام کی حیات وخدمات اور دربھنگہ کی ادبی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی ۔آغاز میں کالج کی جانب سے پروفیسرارتضیٰ کریم کا شال اور گلوں سے استقبال کیا گیا ۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر آفتاب اشرف نے کی جب کہ رسمِ شکریہ پروفیسر مادھو چودھری نے ادا کیا۔اس علمی وادبی جلسے میں شہر اور گردو نواح کی نامور شخصیات موجود تھیں ان میں ڈاکٹر امام اعظم، ڈاکٹر جمال اویسی، پروفیسر مادھو چودھری، پروفیسر شاہد حسن، انور آفاقی، ڈاکٹر عبدالمتین قاسمی، ڈاکٹر منصور خوشتر، پروفیسر نسیم احمد، پروفیسر محمدجنید ، پروفیسر محمد قاسم، منور عالم راہی، جنید عالم آروی،منظر صدیقی،ڈاکٹر ارشد حسین، غزالہ یاسمین،ڈاکٹر احسان عالم اور ریحان قادری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close