متھلانچل

معہد الطیبات امام باڑی میںدرسِ بخاری کا باضابطہ افتتاح

مولانا قاسم مظفر پوری اور ڈاکٹر عبدالوہاب کا بصیرت افروز خطاب

دربھنگہ:طے پروگرام کے مطابق دربھنگہ شہر کے محلہ امام باڑی واقع معہد الطیبات میںدرسِ بخاری شریف کا باضابطہ افتتاح قاضی شریعت مولانا محمد قاسم مظفر پوری نے فرمایا۔ جشن افتتاح درس بخاری کا آغاز طالبہ ماریہ کائنات کی تلاوت و شائستہ ناز کے ترجمہ سے ہوا ۔ دورہ حدیث کی طالبہ فوزیہ امانت نے نعت پاک اور مطہرہ جبیں اور عائشہ بشری نے معہد کا ترانہ پیش کیا ۔ عربی ادب کے استاد مولانا ضیاء اللہ ندوی نے معہد الطیبات کا تعارف پیش کیا اور مولانا ریاض احمد ندوی نے لڑکیوں کی دینی تعلیم اور مولانا نعمت اللہ قاسمی (جامعہ ام القری مکہ مکرمہ ) نے دور حاضر اور تعلیم نسواں کے عنوان سے مختصر خطاب کیا ۔ نظامت کے فرائض مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے انجام دئیے ۔ بخاری کا پہلا سبق پڑھاتے ہوئے قاضی شریعت نے کہا کہ علم حاصل کرنے کے تین ذرائع ہیں ۔ ایک حواس خمسہ (آنکھ ، کان ، ناک ، زبان اور حس ) دوسرا عقل و شعور ،یہ دونوں ذریعے نہایت محدود ہیں اور وقت اورحالات کے اعتبار سے تغیر پذیر ہیں جبکہ حصول علم کا تیسرا اور اصل منبع وحی الٰہی ہے ۔ وحی الہی خبر صادق کا وہ قول ہے جسے ہم نص قطعی قرآن مجید یا حدیث پاک سے تعبیر کرتے ہیں ۔ دنیا کی بڑی سے بڑی دانش گاہ سے استفاد کرنے کے بعد بھی علم و آگہی اور رشد و ہدایت کیلئے وحی الٰہی کا سہارا لینا پڑے گا ۔چنانچہ امور زندگی میں رہنمائی حاصل کرنے کیلئے قرآن پاک پہلا ذریعہ ور اس کی تعبیر و تشریح حدیث پاک دوسر ا معتبر ذریعہ ہے ۔ انہوں نے بخاری شریف کے فضائل اوراس کے ابواب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ اصل چیز اپنی عقل کو وحی الٰہی کے تابع کردینا ہے ،لیکن افسوس کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ اس کا الٹا قرآن و حدیث کو اپنی عقل کے مطابق پرکھنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے اہل علم اور دانشوران سے اپنی فہم ، عقل اور سمجھ کا جائزہ قرآن کی روشنی میں لینے پر زور دیا ۔ قاضی شریعت نے کہا کہ بخاری شریف کی پہلی حدیث جو نیت کے تعلق سے ہے، ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمارا پڑھنا لکھنا بھی اللہ کی رضا کیلئے ہونا چائیے اوراس کے مقابلے میںدوسری دانش گاہو ںمیں حصول تعلیم نام و نمود ،عزت، شہرت اور حصول زر کیلئے ہوتا ہے ۔اور یہی چیز ہمیں سب سے ممتاز کرتی ہے ۔ قاضی شریعت نے طالبات اور خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہاسب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی ایک خاتون حضرت خدیجہ ؓہیں۔ اسلام نے خاتون کو بڑا مقام عطا کیا ہے ۔ قرآن مجید میں خاتون کے نام سے اللہ نے دو سورتیں سورہ نساء اور سورہ طلاق اتاری ہیں ۔ اس کے باوجود اس وقت پر میڈیا اور دشمنان اسلام کی جانب سے جس طرح کا پروپیگنڈ ا کیا جارہا ہے اس کا منہ توڑ جواب اور دفاع کرنے کیلئے آپ خواتین کو بھی خود کو تیار کرنا ہوگا ۔ اور مجھے خوشی ہے کہ یہ کام معہد الطیبات کے پلیٹ فارم سے کیا جارہا ہے ۔ اپنے تاثرات میں معروف سرجن و سماجی خدمت گار ڈاکٹر عبدالوہاب نے کہا کہ میں تقریبا پچاس سال تک دین اسلام کی حقیقت سے نا واقف تھا ،ایک صاحب دل کے پوچھنے پر میں مذہب اسلام کو سمجھنے اور سیکھنے کی طرف متوجہ ہوا اور آج تک کوشش کررہا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ میں خود کو نو مسلم مانتا ہو ں۔ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوجانے یا محض کلمہ پڑھتے رہنے سے کسی کو مسلمان نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ ایک شخص نے جب سچے دل سے کلمہ پڑھ لیا تو گویا اس نے اسلام کی جڑ کو پکڑ لیا اور جس طرح تندرست و توانا پودے کے جڑمیں ساری چیزیں خود بخود پھلتی پھولتی چلی جاتی ہیں اسی طرح مذہب کا بھی حال ہوتا ہے ۔ بلا شبہ اسلام بڑی دولت ہے لیکن مسلمان بن کر رہنا آج کے ماحول میں بہت مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ معاشرہ کا المیہ یہ ہے کہ تعلیم میں اسلام اور مسلمان کے نام سے ہماری بھنویں تن جاتی ہیں اور ہم اسے گری نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالوہاب نے بچیوں کی تعلیم کے تعلق سے کہا کہ عورت بچوں کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور اس کا تعلیم یافتہ اور مہذب ہونا زیادہ ضرور ی ہے ۔ آج مذہب اسلام قبول کرنے والوں میں بڑی تعداد خواتین کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پڑھی لکھی خواتین نے محسوس کرلیا ہے کہ خاتون کو جتنی اہمیت اسلام میں دی گئی ہے کہیں اور نہیں دی گئی ۔ معہد کے ناظم مفتی آفتاب عالم غازی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے اپنے ادارہ کی خصوصیات اور علمی و اصلاحی پروگرام کی روداد پیش کی ۔ انہو ںنے کہا کہ گرچہ ادارہ کے پاس اس وقت اپنی جگہ اور زمین نہیں ہے لیکن اس کا دائرہ اور دل بڑا ہے ، دربھنگہ کے لوگوں کے اعتماد کاہی نتیجہ ہے کہ ساڑھے تین سو بچیاں یہاں پڑھ رہی ہیں ۔اور اہل شہر کی فراخ دلی ہے کہ موجودہ عمارت اور کرم گنج میں چھ کمرے بغیر کرایہ کے حاصلہیں ۔اس موقع پر انجینئر صلاح الدین احمد ، ڈاکٹر منور راہی ، مفتی ارشد رحمانی ، مولانا ابو سفیان ندوی ، محمد نسیم ، محمد راجا ، محمد مظفر حسین ، محمد فصیح الدین اعظم ، صدر الحسن عطار ، راشد کمال ، عبد الودود ، آئی کے ارمان ، محمد نعیم انصاری ، محمد ریاض الدین سمیت بڑی تعداد میں دانشوران اور ڈاکٹر طلعت ناہید ،ڈاکٹر تہذیب کوثر سمیت خواتین اسلام شریک ہوئیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close