اتر پردیشہندوستان

ملاوٹ خور مافیائوں کے سیاسی اثر رسوخ عوام کی پر امن زندگی کیلئے خطرناک :مظفر علی

سہارنپور :قابل احترام سپریم کورٹ کی سختی اور عوامی غصہ کے سبب لوک سبھامیں فوڈ تحفظ بل اجتماعی حیثیت سے پاس ہوکرگزشتہ مدت کے درمیان قانون کی شکل بھی اختیار کرچکاہے مگر اس عوامی مفاد کے قانون پاس ہونے اور لاگو کئے جانے کے باوجود بھی ریاست اتر پردیش میںان دنوں ملاوٹ خوروں کو عوام کی زندگی سے کھلواڑ کرنے کی پوری آزادی ملی ہوئی ہے گزشتہ چارسالوں کی طویل مدت سے یوپی کے درجن بھر مغربی اضلاع میں لگاتار ملاوٹ خوری کے واقعات رونما ہوچکے ہیں پھر بھی ملاوٹ خوروں کے خلاف انتظامیہ اور پولیس نے ہمیشہ ہی سخت کاروائی سے پرہیز کیاہے جس وجہ سے یہاں ملاوٹ خوری عام ہے مغربی اضلاع میں لگاتار ملاوٹ خوری کے واقعات رونما ہو جانیکے باوجود بھی پچھلے چارسالوں کے دوران ضلع انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس کاروائی ملاوٹ خوروں کے خلاف ابھی تک بھی عمل میں نہیں لائی گئی جس وجہ سے یہاں ضروری اشیاء میں ملاوٹ کرنیوالے ملاوٹ خور مافیائوں کی توتی بول رہی ہے سرکار کے سبھی قائدے قانون دلت اور مسلم فرقہ پر شکنجہ کسنے کیلئے بنے ہیں دیگر فرقہ کے مافیاء اور ملاوٹ خور سرکاری شہ پر مست ہوکر بھولے بھالے عوام کی جان اور دولت سے کھلواڑ کر رہے ہیں ؟ مندرجہ بالا خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ریاست کے سینئر کانگریس رہبر مظفر علی کیرانوی نے صاف طور سے یہ بھی کہاکہ ملک میں فوڈ تحفظ قانون پاس کئے جانیکے بعد بھی ملاوٹ خوری کی شکایت پر قابل سپریم کورٹ نے سبھی ریاستوں خاص طور پر یوپی سرکار کو فوری طور سے ملاوٹ کرنے والوں پر سخت کاروائی کے احکامات جاری کئے تھے مگراسکے بعد بھی مفاد پرستی کے اس سیاسی دور میں کہ جہاں بے ضمیری اور بد عنوانی کا بول بالا ہے وہاں قائدہ اور قانون صرف سیاست دانوں کے دبائو میں کام کرتا نظر آرہاہے بھاجپائی دور اقتدار میں اکثر وہ شریف افسر بھی کہ جن میں ملاوٹ خوروں اور نقلی اشیاء بنانے اور بیچنے والوں کے خلاف کڑے ایکشن لینے کی ہمت ہے وہ بھی اس دور میں اپنے مستقبل اور اپنی نوکری بچانیکو لے کر چپ رہنا ہی بہتر سمجھ رہے ہیں !
سینئر کانگریس رہبر مظفر علی کیرانوی نے کہاکہ نتیجہ کے طور پر اب ہر جانب ملاوٹ کا بول بالاہے مافیائوں کے سیاسی اثر رسوخ نے عوام کی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنا دیاہے علاوہ ازیںکمشنری میں ہر جانب ملاوٹی اشیاء کے ساتھ ساتھ ملاوٹی گرم مصالحوں، ملاوٹی تیل ، ریفائنڈ اورں کا کاروبار کروڑوں روپیہ روزانہ کا ہوتا جا رہا ہے کسی کو بھی اس کا ضمیر اس بات کے لئے نہیں جھنجھوڑ رہا ہے کہ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی عوام کو زہر کھلایا جا رہا ہے مظلوم اور لاچار عوام اپنی تباہی پر خون کے آنسوں رونے پر مجبور ہے کیوں کہ اس کی آہ و بکاء اس دور میں سننے والا خدا کے علاوہ اب کوئی بھی نہیں ہے جو کچھ بھی ملک میں تباہیاں آ رہی ہیں اور آگے آئینگی وہ اسی بد عنوانی اور ملاوٹ خوری کے باعث ہی آئینگی چرچہ یہ بھی ہے کہ سرکاری عملہ ہر ماہ دوکانداروں اور ویاپاریوں سے موٹی رشوت لے کر اس ملاوٹ خوری کرنے والے ویاپاریوں کو چھوٹ دئے ہوئے ہے ہمارے صوبہ کے وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ صحت عوامی صحت کے تحفظ کے بابت لگاتار پچھلے ایک سال سے لکھنئو میں بیٹھ کر لمبے چوڑے بیان جاری کرتے آ رہتے ہیں مگر آج تک ان حکمرانوں نے یہ ہمت نہیں دکھائی کہ صرف ایک ہفتہ کے لئے ہی عوام کو مطمئن کرنے کے لئے نقلی اور ملاوٹی اشیاء کی بکری کے خلاف ایک مہم چھیڑ کر کچھ کرنے کا حوصلہ عوام کے سامنے پیش کریںصوبہ کے عوام کی یہ بد قسمتی ہے کہ وہ اس سرکار کے دور میں سانسیں لے رہے ہیں کہ جس سرکار کو ووٹ کی فکر ہے مگر اپنے عوام کی صحت اور جانوں کی فکر نہیں اگر کوئی افسر کمشنری میں ایماندار ہے تو وہ حکمران جماعت کے نیتائوں کے سامنے بھیگی بلّی کی طرح رہتا ہے گزشتہ دنوں آئی اے ایس، آئی پی ایس اور پی سی ایس افسروں کے خلاف جو کچھ سیاسی حکمرانوں نے کیا وہ سبھی کے سامنے ہے اسیلئے ایماندار افسران خاموش ہیں! سینئر کانگریس رہبر مظفر علی کیرانوی نے کھلے طور سے کہاکہ یہاں اہم بات یہ بھی ہے گزشتہ عرصہ کے دوران ہم نے نقلی اشیاء کی بکری عام ہونے کے معاملات کو لیکر متاثرہ عوام کے منھ سے افسران کو کوستے ہوئے اور بُرا کہتے ہوئے سنا ہے خبر کے لکھے جانے تک محکمہ صحت کے افسران کانوں میں روئی لگائے بیٹھے ہیں ہر ایک موقع پر اور عام دنوں میں یہاں ہر چھوٹی اور بڑی دکانات پر ملاوٹی اور نقلی اشیاء کی بھر مار ہے ریفائنڈ، بیسن، گھی، دالیں اور مصالحہ جات کا استعمال اسدورمیں سب سے زیادہ آپکو بتادیںکہ گزشتہ چارسالوں سے ملاوٹ خوروں کے خلاف درجنوں واقعات رونما ہونے کے باوجود ضلع انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس وجہہ سے ملاوٹ خوری عام ہے اور ملاوٹ کرنے والے لوگ سڑکوں سے محلوں میں بس گئے ہیں جبکہ غریب عوام ملاوٹی اشیاء کے استعمال کے بعد اپنی گرتی ہوئی صحت کو لے کر خوف زدہ ہے معصوم بچوں، بیماروں اور غریب عوام کا مستقبل اس ملاوٹ بھرے خطرناک دور میں تاریک نظر آنے لگا ہے مگر ہمارا ووٹ لیکر ایوان تک پہنچنے والے سیاست داںخاموش بیٹھ کر قوم کی تباہی کا نظارہ دیکھ رہے ہیں اگر حالات یہی رہے تو وہ دن دور نہیں کہ جب مجبور اور لاچار عوام اپنے اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لئے لگاتار ہی سرکار کے خلاف سڑکوں پر اُتر آئیگا؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close