ہندوستان

ملک میں ایس ڈی پی آئی جس پارٹی کی حمایت کرے گی وہی پارٹی اقتدار میں آئے گی۔ دہلان باقوی

ایس ڈی پی آئی تمل ناڈو شاخہ کے زیر اہتمام سیاسی بیداری کانفرنس میں خواتین سمیت ایک لاکھ سے زائد افراد کی شرکت

ترچی : ( پریس ریلیز)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ، تمل ناڈو شاخہ کے زیراہتمام ترچی شہر میں” مظلوم طبقات کی سیاسی بیداری”کے عنوان کے تحت منعقد ریاستی کانفرنس میں خواتین سمیت ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔کانفرنس کی پہلی نشست کا آغاز ـــسیکولرازم کو درپیش خطرات اور سیاسی بیداری کی اہمیت”کے عنوان کے تحت منعقد ایک سمینار سے ہوا۔جس کی صدارت ریاستی جنرل سکریٹری عبدالحمید نے کی ، سمینار میں ریاست کے سماجی و سیاسی تنظیم کے رہنمائوںنے عوام سے خطاب کیا۔اسی طرح خواتین کیلئے "خواتین میں سیاسی بیداری "کے عنوان کے تحت ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ویمن انڈیا موئومنٹ کی ریاستی نائب صدر فاطمہ غنی نے کیا۔ویمن انڈیا موئومنٹ کی قومی صدر مہرالنساء خان اور ریاستی صدر نجمہ بیگم نے خواتین سے خصوصی خطاب کیا۔شام 5بجے ریاستی صدر محمد مبار ک کی صدارت میں ریاستی سیاسی بیداری کانفرنس کا آغاز ہوا ۔ریاستی جنرل سکریٹری نظام محی الدین نے استقبالیہ پیش کیا، نظامت کے فرائض ریاستی جنرل سکریٹری عبدالحمید نے انجام دیئے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک تشویشناک صورتحال سے گذر رہا ہے جہاں مسلمانوں کو دہشت گرد اور دلتوں ،قبائیلیوں کو مائوواد کہا جارہا ہے۔ حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف بولنے والے ملک کے دانشوران اور ترقی پسند شخصیات کو ڈرایا دھمکا یا جارہا ہے اور انہیں اربن نکسل قرار دیا جارہا ہے۔بھیڑ تشدد ، فرضی انکائونٹرس اور مذہب کی سیاست کی وجہ سے آج ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ گنگا جمنی تہذیب کیلئے دنیا بھر مشہور ہمارے ملک کو فسطائی طاقتوں سے بچانے اور انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے تمام سیکولر پارٹیوں کو متحد ہونا ہوگا۔ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر کے کے ایس یم دہلان باقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایس ڈی پی آئی پارٹی صرف انتخابات کے دوران نظر آنے والی پارٹی نہیں بلکہ پارٹی اپنے قیام کے پچھلے دس سالوں سے ملک کے پسماندہ طبقات، اقلیتی طبقات اور مظلوم طبقات کی آواز بن کر ابھر رہی ہے۔ نظریاتی سیاست کی بنیاد پر متحرک پارٹی لیڈران اور کارکنان پر ملک کے 15سے زائد ریاستوں میں سرگرم ہے اور ایس ڈی پی آئی آج اس مقام تک پہنچی ہے کہ آنے والے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں تمل ناڈو سمیت ملک میں ایس ڈی پی آئی جس پارٹی کی حمایت کرے گی وہی پارٹی اقتدار میں آئے گی۔ایس ڈی پی آئی کا مقصد یہ ہے نہیں ہے کہ وہ صرف چند رکن اسمبلی یا رکن پارلیمان کی نشست حاصل کرکے معصوم اور مظلوم عوام کے ووٹوں کا سو دا کرکے انہیں دھوکا دیا جائے بلکہ ایس ڈی پی آئی کا مقصد ہے کہ اس ملک میں مظلوم و محروم طبقات کو سیاسی نمائندگی اور حقوق حاصل ہوسکے ا ور ملک کو فسطائی طاقتوں سے آزاد کرکے ایک فلاحی ریاست میں تبدیل کیا جاسکے۔آریہ سماج کے سوامی اگنی ویش نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس کانفرنس میں ہم عہد کریں گے کے ہم کسی بھی قیمت پر ملک کے جمہوری اقدار اور سیکولرازم کا تحفظ کریں گے اور گولوارکر اور ساورکار کے نظریات والے ہندوستان کو ہم کھبی قائم ہونے نہیں دیں گے۔کانفرنس میں ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید، ا یس ڈی پی آئی ریاستی صدر محمد مبارک، جنرل سکریٹری اے ایس عمر فاروق، تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے صدر تروناکرسر،وی سی کے صدر تروماولاون،پاپولرفرنٹ ریاستی صدر محمد اسماعیل سمیت کئی لیڈران نے خطاب کیا۔کانفرنس میں Trichy Declerationکے نام سے 21قرارد اد منظور کئے گئے جن کو ریاستی خازن ابو طاہر نے پڑھ کر سنا یا۔1)۔متناسب نمائندگی کاانتخابی نظام لایا جائے،2)۔ انتخابات میں ووٹنگ میشن کی جگہ بیلٹ پیپر کا نظام لایا جائے،3)۔تمل ناڈو میں اقلیتی فلاح و بہبود کیلئے علیحدہ وزرات قائم کیا جائے،4)۔مرکز ی بی جے پی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے تمام سیکولر پارٹیوں کو متحد ہونا چاہئے۔ 5)۔ عمر قید کی سزا پارہے سات تملینس سمیت مسلمانوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے،6)۔زراعت کوبہتر بنانے کیلئے حکومت اقدامات کرے،7)۔تمل ناڈو کو نقصان پہنچے والے تمام منصوبوں کو منسوخ کیا جائے۔8)۔UAPAقانون کو منسوخ کیا جائے،9)۔تمل ناڈو میں فوری طور پر شراب پر مکمل پابندی عائد کی جائے ،10)۔تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کو حاصل ریزرویشن میں اضافہ کیا جائے،11)۔تعلیم اور تجارت کیلئے غیر سودی قرضہ فراہم کیا جائے،13)۔جمہوری طریقے سے لڑنے والے دانشوران اور ترقی پسند جہد کاروں پر مظالم بند کیا جائے،14)۔سماجی انصاف مخالف NEETامتحانات کو منسوخ کیا جائے،15)۔40لاکھ آسامی شہریوں کی شہریت چھیننے والی NRCفہرست کو منسوخ کیا جائے،16)۔اقلیتی مسلمانوں اور عیسائیوں کی مذہبی مقامات کی تعمیر کرنے کے قوانین کو آسان کیا جائے،17)۔وقف جائیدادوں کو مقبوضہ جات سے آزاد کیا جائے،18)۔خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم کو روک کر خواتین کو مناسب تحفظ فراہم کیا جائے،19)۔بیرون ملک میں کام کرنے والے تمل ناڈو کے باشندوں کو علیحدہ وزارت قائم کیا جائے،20)۔اردو سمیت اقلیتی زبانوں کا تحفظ کیا جائے،21)۔آئین مخالف طلاق ثلاثہ قانون کوواپس لیا جائے۔ کانفرنس کے اختتام میں ریاستی سکریٹری امیر حمزہ نے تمام شرکا ء کا شکریہ ادا کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close