اتر پردیشہندوستان

ملک کی تاریخ کا ریکارڈ توڑ مجمع بریلی پہنچا: صاحبزادہ عسجد میاں نے نماز جنازہ پڑھائی

بریلی: وارث علوم اعلی حضرت قاضی القضاة فی الہند حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری کے وصال پر پورا عالم اسلام سوگوار ہے۔ آج صبح نماز جنازہ اسلامیہ انٹرکالج گراونڈ پر ادا کی گئی۔ اس موقع پر کئی کلو میٹر تک لوگ صف لگائے ہوئے تھے۔ سروں کا سمندر امڈ پڑا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 80 لاکھ کے لگ بھگ افراد شریک نماز جنازہ ہوئے۔جن میں سادات، علما و مشائخ کرام ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔ نماز جنازہ صاحبزادہ علامہ عسجد رضا خان قادری نے پڑھائی۔
ہزاروں بسیں اور دیگر سواریوں کے علاوہ فلائٹ و ٹرین سے ملک و بیرون ملکوں سے وفود و قافلے بریلی شریف پہنچے۔ جب کہ بریلی شہر سے کئی کلو میٹر پہلے ہی سواریوں کو پارک کروایا گیا۔ حضور تاج الشریعہ کی رحلت پر پورا شہر مکمل بند تھا۔ اور تدفین مزار اعلی حضرت سے قریب عمل میں آئی۔ بیرونی زائرین کی آمد کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہے گا۔
اطلاعات کے مطابق علمائے عالم اسلام نے تعزیتی پیغامات صاحبزادہ علامہ عسجد رضا خان قادری کے نام روانہ کئے ہیں۔ حضور محدث کبیر، شیخ الاسلام علامہ سید مدنی میاں کچھوچھوی، مفتی محمد مجیب اشرف، حضرت سید امین میاں برکاتی، سید نجیب میاں برکاتی نے بھی تعزیت کی اور ہزاروں علمائے ہند نے بھی۔ شیخ سید خالد الگیلانی دربار غوث الاعظم بغداد شریف نے تعزیتی پیغام دیا۔ پاکستان سے علامہ خادم حسین رضوی، مفتی سید مظفر شاہ قادری، ڈاکٹر مفتی اشرف آصف جلالی، پیر مولانا محمد اجمل قادری، صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری، پیرزادہ علامہ محمد رضا ثاقب مصطفائی، الحاج محمد اویس رضا قادری، پیر نورالعارفین، مولانا الیاس قادری، صاحبزادہ محمد ریحان امجد نعمانی نے تعزیت کی۔ بنگلہ دیش سے مفتی سید ارشاد بخاری، سری لنکا سے حافظ احسان اقبال کے علاوہ مصر، شام، یمن، لبنان، بیروت، ترکی، یوکرین، ملیشیا، چیچنیا، روس، موریطانیہ و عرب مملکتوں کے اکابرین نے اظہار رنج فرمایا ہے۔ اس ضمن میں مفتی عاشق حسین کشمیری و ڈاکٹر انوار احمد بغدادی نے ایسے پیغامات کا تذکرہ فرمایا۔ ورلڈ اسلامک مشن کے تعزیتی اجلاس انگلینڈ، امریکہ، بلجئیم، ناروے، ہالینڈ، افریقہ، ماریشس اور کینیڈا میں منعقد ہوئے ہیں جس کی اطلاع علامہ قمرالزماں اعظمی نے دی۔ مفتی فیضان المصطفی اعظمی نے بھی اماکن مغرب سے علما کے تعزیتی پیغامات کا ذکر کیا۔ جب کہ ملک و بیرون ملک کے مختلف اخبارات، میڈیا ذرائع نے نمایاں خبروں کی اشاعت کی۔ ملک کی نمایاں خانقاہوں میں مارہرہ شریف، کچھوچھہ شریف، بلگرام شریف، مسولی شریف، اجمیر شریف، خانقاہ سلطانیہ چشتیہ دیوی شریف، خانقاہ نقشبندیہ بالاپور سمیت دیگر خانقاہوں کے سجادگان و سادات کرام نے بھی اظہار تاسف کرتے ہوئے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی رحلت کو قوم کا عظیم نقصان قرار دیا۔ اس ضمن میں نوری مشن مالیگاؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم حضور تاج الشریعہ کی علمی و تحقیقی خدمات کو شائع کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ملک کے اکثر مدارس، مساجد اور اداروں میں وصال کی اطلاع کے بعد سے اب تک قرآن خوانی، ایصال ثواب اور تعزیتی نشستوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ نمایاں مدارس میں تعطیل دیدی گئی۔
حضور تاج الشریعہ کی منفرد ذات ہے کہ عرب و عجم میں اس قدر مقبولیت حاصل ہے کہ اس کی مثال اس صدی میں نہیں ملتی۔ بلاشبہ آپ کی ذات عہد ساز بھی ہے اور شخصیت ساز بھی۔ زائرین کی نم تھیں اور مزار حضور تاج الشریعہ پر اس قدر اژدہام ہے کہ پورا علاقہ منجمد دکھائی دیتا ہے۔ایسی رپورٹ بریلی شریف سے غلام مصطفی رضوی، نوری مشن نے ارسال کی۔
***

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close