مضامین

ملک کی ترقی و خوشحالی کا راز، مضبوط و مستحکم جمہوری نظام میں ہی پوشیدہ ہے

گزشتہ دنوں جموں کشمیر کے سیاسی گلیاروں میں جو ہائی وولٹیج ڈرامہ دیکھنے کو ملا اس کی مثال ملک میں شاید ہی پہلے کبھی دیکھنے کو ملی ہو .جس طرح سے اپنی پارٹی کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مخلوط حکومت بنانے کی حکمت عملی طے ہوئی اور جس طرح سے ریاست میں ایک گھنٹے کے بیچ میں ہی اسمبلی کو یکدم تحلیل کرنے کا فیصلہ لیا گیا وہ یقیناً سبھی کو حیران کرنے والے حالات تھے. اس سے پہلے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت بیچ ہوئے طلاق کے چلتے پانچ ماہ قبل اس حساس ریاست میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔ لیکن اسمبلی کو شاید اس وجہ سے تحلیل نہیں کیا گیا تھا کہ شاید کوئی جوڑ توڑ کر حکومت بنانے کے نیا دعویٰ پیش کیا جا سکے ۔ لیکن ایسی کچھ قواعد چل ہی رہیں تھیں کہ اسی بیچ گزشتہ دنوں پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے اپنی مخلوط حکومت بنانے کا واضح اشارہ دیا کیونکہ ریاست اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں ابھی دو سال کی مدت باقی تھی ایسے میں مرکزی حکومت کی یقیناً یہی خواہش ہوگی کہ جو بھی حکومت بنے وہ اس کی پارٹی کی حمایت سے ہی بنے. ادھر مرکزی حکومت سے وابستہ لوگوں کی ذہنیت و منصوبوں کے بارے میں جب پی ڈی پی. نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو احساس ہوا تو اس نے بھی جلد از جلد اپنی حکمت عملی طے کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کی قیادت میں حکومت بنانے کا راہ عمل تیار کیا. اس سے پہلے کہ رسمی اطلاع دینے کے لیے سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اپنی زیر قیادت والی حکومت بنانے کا خط جموں میں (جموں کشمیر کی سردیوں کی دارالحکومت) مقیم گورنر ہاؤس پہنچا تی ادھر بر سراقتدار ایوانوں میں بھی سیاسی سرگرمیاں اچانک تیز ہو گئیں۔
اسی اثنا میں ایک گھنٹے کے بیچ ہی جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کو یکدم تحلیل کرنے کا حکم صادر کر دیا اور سرکار بنانے کھچڑی پکا رہی پارٹیوں کی حالت گویا گورنر یہ کر دی کہ
دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے
ہم حکومت بناتے بناتے یوں ہی رہ گئے

ریاست کے گورنر نے جس طرح سے اسمبلی کو تحلیل کرنے میں جلدبازی دکھائی یقیناً اس فیصلے کے بارے میں سوال اٹھنے لازمی تھے. لیکن ان کے حوالے سے جو بیان میڈیا میں آیا ہے کہ جو انھیں مناسب لگا انھوں نے وہی فیصلہ لیا ہے انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اثنا میں ممبران کی خرید و فروخت ہو سکتی تھی ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف پارٹیوں کا حکومت بنانے کے لیے اکٹھا ہونا محض حصول اقتدار کے لیے تھا جبکہ انھوں نے آگے چل کر یہ بھی کہا کہ اگر کسی کو فیصلہ پر اعتراض ہے تو وہ اس کے لیے کورٹ کے دروازے کھلے ہیں جبکہ اس اس ضمن میں نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے اور دیگر سیاسی ماہرین اور میڈیا کے مطابق گورنر کے جلد بازی میں اٹھائے اس اقدام کو جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف قرار دیا ہے. آج
میڈیا اور سیاسی گلیاروں میں یہ سوال بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ آخر اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ اتنی جلدی میں کیوں کیا گیا، اور سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کا تب فیصلہ کیوں نہ کیا گیا جب حزب مخالف کی مختلف کانگریس، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس چار پانچ مہینے قبل سے اس کی مانگ کر رہی تھیں ۔ بقول غالب یہی کہا جا رہا ہے کہ.
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

یہاں قابل ذکر ہے کہ گزشتہ اسمبلی الیکشن جموں و کشمیر میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی اور ریاست میں ایک طرح سے ہنگ اسمبلی وجود میں آئی تھی. لیکن ان الیکشن میں پی. ڈی پی. سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی تھی. جبکہ جموں کے علاقے میں بی. جے. پی پہلی کو بھاری اکثریت ملی تھی. اس کے بعد حکومت بنانے کی قواعد ایک لمبے عرصے تک چلتی رہی بلاآخر جن پارٹیوں نے الیکشن کے دوران ایک دوسرے کے خلاف خوب بڑھ چڑھ کر بولا تھا جن کے چناو ی منشور میں بے حد تضاد تھے یعنی پی ڈ ی پی اور بی جے پی نے اپنے تمام طرح کے تضادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی. کیونکہ حکومت میں شامل مذکورہ دونوں پارٹیوں کے منصوبے اور مفادات جدا جدا تھے اس لیے یہ الائنس اپنی معیاد پوری کیے بغیر آخر کار بی جے پی کے اپنی حمایت واپس لیتے ہی ٹوٹ گیا اور ریاست میں ایک بار پھر گورنر راج کا نفاذ ہوا.

یہاں قابل ذکر ہے کہ 2014 کے انتخابات کے بعد پہلی بار بی جے پی کو وادی میں اپنے پیر جمانے کا موقع ملنے جا رہا تھا یعنی مخلوط حکومت گرنے کے بعد جس طرح سے کئی ارکان نے خود کو پی ڈی پی سے دور کر لیا اور سجاد لون کی حمایت میں سامنے آتے ہوئے محسوس ہونے لگے اور قانونی مسائل و پیچیدگیوں کے باوجود رفتہ رفتہ حکومت بنانے کی کوششوں کی طرف گامزن ہو نے لگے. اس سے تمام حزب اختلاف کی پارٹیوں میں ایک تذبذب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی تھی.
اس کے علاوہ بی جے پی نے مقامی بلدیاتی انتخابات میں بھی، جن میں ویسے تو عوامی شمولیت نہ ہونے کے برابر تھی، اپنی طاقت دکھائی اور اپنی مرضی کے میئر کو منتخب کرانے میں کامیاب رہی۔ لیکن اس دوران نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی دونوں نے بی جے پی پر پیسے اور طاقت کے استعمال کرنے جیسے مختلف قسم کے الزامات لگائے تھے.
تقریباً پانچ مہینے سے ریاست کی تمام بڑی جماعتیں اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کر تی آ رہی تھیں جبکہ اس کے بر عکس بی جے پی پرزور مخالفت کر رہی تھی ۔
شاید اس کی وجہ یہی رہی ہوگی کہ بی جے پی اپنی پسند سے وزیر اعلی بنا سکے اور جس سے کہ وہ 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں پارٹی کو فائدہ و مدد مل سکے.
لیکن کہا جاتا ہے کہ ادب کی طرح سیاست میں بھی ہمیشہ دو اور دو چار نہیں ہوا کرتے. کیونکہ سیاست بھی کرکٹ کی طرح سنبھاوناؤں کا کھیل ہے یعنی کوئی دو مخالف پارٹیاں اقتدار کے لیے کب ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا. یا یوں کہہ لیں کہ جب بھی کبھی سیاسی جماعتیں اپنے وجود پر خطرے کے بادل منڈلاتے محسوس کرتی ہیں. تو سب مخالف پارٹیاں اپنے وجود کی حفاظت کے لیے اکثر اپنے پرانے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک منچ پر آنے سے بھی قطعی گریز نہیں کرتیں. کچھ ایسا ہی ریاست جموں و کشمیر میں بھی رونما ہوا. یعنی بی جے پی کے ارادوں کو ناکام کرنے کے لیے پی ڈی پی اور این سی اور کانگریس تمام حزب مخالف نے اتحاد کا اعلان کر دیا اور حکومت بنانے کا دعوی پیش کرنے کو تھیں . لیکن عین ایک گھنٹے کے بیچ بیچ جموں و کشمیر کے سیاسی حالات میں گورنر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے فرمان نے مانوں سبھی حزب مخالف کے سپنوں کو چکنا چور کردیا. یعنی اس پہلے مذکورہ پارٹیاں اپنی حکومت بناتیں، گورنر نے اسمبلی کو تحلیل کرتے ہوئے سبھی کے ارادوں پر ایک ہی جھٹکے میں پانی پھیر دیا. بے شک اسمبلی تحلیل ہونے سے حزب مخالف کی مذکورہ پارٹیاں حکومت نہیں بنا پائیں. لیکن ریاست میں سبھی بڑی پارٹیاں اس بات کو لیکر اب خوش ہیں کہ وہ اپنی پارٹیوں کے قلعے کو مذید مضبوط اور مستحکم کرنے میں کامیاب رہیں گی اور اس دوران وہ اپنی پارٹی کے اندر اٹھنے والی والے باغی سروں کو بھی سبق سکھانے میں کامیاب رہیں گی.
ادھر بی جے پی شاید اس بات کو لیکر خوش ہو رہی ہوگی کہ اگر وہ اپنی کھچڑی پکانے میں کامیاب نہیں ہوئی تو اسمبلی تحلیل ہونے کے فیصلے کے چلتے کسی اور کی بھی دال گلنے نہ پائی.
اسمبلی تحلیل ہو نے سے بے شک مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اندر ہونے والے بکھراؤ سے بھلے ہی بچ گئ ہوں مگر اس سے یقیناً جمہوری نظام کے وقار و روح پر جو کاری ضرب لگی ہے اس سے قطعاً انکار نہیں کیا جاسکتا. سیاسی ماہرین کی مانیں تو مذکورہ اسمبلی تحلیل کے فیصلے سے جمہوری نظام کی روح پر گہرے زخم آئے ہیں.
ویسے ہمارے ملک میں ماضی میں بھی جمہوریت کو مجروح کرنے والے فیصلے آتے رہے ہیں. جس کے چلتے اکثر پارٹیوں کو کئی دفعہ عدالت اعظمی کا رخ کرنا پڑا ہے ابھی کرناٹک کے گورنر کی طرف سے جو وہاں کے اسمبلی انتخابات کے بعد متنازعہ فیصلہ لیا گیا تھا جس کے چلتے وہاں کی سیاسی جماعتوں کو سپریم کورٹ کا رخ کرنا پڑا تھا تو عدالت اعظمی نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا تھا.
لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل فیصلہ لینے والی اتھارٹی کو کم از کم ماہرین قوانین سے ایک مرتبہ مشورہ ضرور لینا چاہیے. تاکہ کسی فریق کو عدالت کا دروازہ کھٹکانے کی نوبت ہی نہ آئے. یعنی جہاں تک ہو سکے ایسے فیصلے لینے سے احتیاط برتنا چاہیے جن کو دیکھ کر عوام و سیاسی جماعتوں میں جمہوری نظام کو کمزور کرنے کا اندیشہ گزرے. یعنی ہر طرح کے فیصلے لینے سے پہلے ہمیں ہر ہر زاویہ سے سوچنا چاہیے کہ ہمارے فیصلہ سے کہیں جمہوری نظام کی اقدار کہیں پامال نہ ہو پائیں. ہاں ہمیں کوئی فیصلہ لیتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے کسی اقدام سے سیاسی جماعتوں اور عوام میں کوئی غیر یقینی والی صورتحال پیدا نہ ہو.
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم مذکورہ باتوں پر عمل کریں گے تو یقیناً یہ باتیں ہمارے ملک کے لیے بہتر و مثبت نتائج لائیں گی. ہمیں اپنے ملک کی جمہوری اقدار کی پاسبانی و حفاظت کرنا چاہیے کیونکہ اگر کسی ملک کا جمہوری نظام مضبوط و مستحکم ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ ملک بھی مستحکم ہے اور اگر ملک مستحکم ہے تو سمجھ لیں وہاں رہنے والے عوام بھی محفوظ ہیں یعنی کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا راز اس دیش کے مستحکم جمہوری نظام میں ہی پوشیدہ ہے.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close