مضامین

ملک کی موجودہ صورتحال اور دعوتِ دین اُمتِ مسلمہ کے لیے لمحہء فکر

محمد طیب الدین

ہمارا ملک ہندوستان جو ہمہ جہتی تہذیب اور بے شمار خوبیوں اور اکائیوں کا مجموعہ ہے۔ یہاں دیڑھ ہزار سے زائد زبانیں بولی جای ہیں چار سو ساٹھ سے زیادہ مذاہب اور ادیان پائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیمو کریسی Democracyملک ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ آبادی یہاں پائی جاتی ہے۔ اِن سب خوبیوں کے ساتھ یہاں سب سے پہلے 1890؁ء میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے اسکی وجہ انگریزوں کی پالیسی ’’ لڑائو اور حکومت کرو ‘‘ بھی تھی اور یہاں ذات پات کے جھگڑوں نے بھی فرقہ پرستی کو ہوا دیا ہے۔ 2002سے 2013تیک عالمی سطح پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور دہشت گردی کا الزام لگایا گیا۔ ہزاروں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا گیا لیکن سپریم کورٹ کے معاملہ کی تحقیق کے بعد یہ بتایا گیا کہ مسلمان دہشت گردی میں ملوث نہیںاور ہیمنت کرکرے نے بھی نشاندہی کی تھی کہ اصل دہشت گرد خاکی چڈی والے ہیں۔ 2014؁ء کے بعد سے انگرادی فسادات شروع ہوئے کسی ایک مسلمان کو نشانہ بنایا گیا اسے نہایت بے رحمی سے مارا پیٹا گیا اور میڈیا کے ذریعہ خوب تشہیر کی گئی تاکہ سارے مسلمان خوفزدہ ہوجائیں۔ اور اب مسلمانوں کو یکساں سیول کوڈ کے نام پر ، طلاقِ ثلاثہ کے مسائل کو چھیڑ کر خود مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی مذموم کوشش جاری ہے۔
اس وقت موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کے لیے جو خطرات درپیش ہیں ان میں مذہبی آزادی کا خطرہ، دوسرا مسلمانوں کی شہریت کا خطرہ ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ نظامِ عفت و عصمت اور خاندانی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش جاری ہے دعوتی نقطہء نظر سے یہ بہت بڑا چیلنج ہے اسکو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے لیے تعلیمی اور معاشی مسائل بھی بہت پریشان کن ہیں۔ قرآن کریم کے گہرے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر مصیبت پریشانی اور مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوکر اسکے دین کی دعوت کرنا ہی ہر مسئلہ کا حل ہے اگر سارے مسلمان بلاتفریق مسلک اور فرقہ خصوصاً علماء و دانشور حضرات اسلام کی خالص دعوت کو اپنے قول و فعل اور حُسنِ اخلاق سے پیش کریں اور اسکو ثانوی نہیں اولین ترجیح First of Allدیں اور اسلام کے تعلق سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اسلام کا نظامِ مساوات و اخلاق عام کریں۔ یہاں اَمن پسند لوگ زیادہ ہیں اور اسلام اَمن کی دعوت دیتا ہے۔ مہنگائی کے مسائل، بیروزگاری کے مسائل ، بھوک مری کا مسئلہ، بدامنی کے مسائل، میڈیا کے مسائل، تحفظ دستور ہند کا مسئلہ سب حل ہوسکتے ہیں۔ اُمتِ مسلمہ خصوصاً علماء کو داعی بننا ہے اور حالات کا گہرارئی سے جائزہ لینا ہے۔ اتحاد و اتفاق کو فروغ دیتے ہوئے دعوت دین کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ الحمدللہ ہمارا ملک ہندوستا ن میں اب بھی دعوت کے امکانات، سہولیات اور وسائل موجود ہیں بس جذبہء صادق اور عمل پیہم یقین محکم کی ضرورت ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close