اسلامیات

ملک کے محافظ ہیں مدارس اسلامیہ

حافظ محمد سیف الاسلام مدنی!
ہندوستان کی جنگ آزادی سے مدارس اسلامیہ کی تاریخ اور کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔مدارس اسلامیہ سے پیدا ہونے والے جانبازوں نے ملک ہندوستان کی آزادی کے لئے اپنے جان ومال کو قربان کیا۔آزاد ہندوستان کی مکمل تاریخ ہی علماء کرام اور مدارس اسلامیہ کے بغیر ادھوری ہے۔آزادی کے بعد ہندوستان کی بنیاد سیکولرزم کے نام پر رکھی گئی۔ہندو، مسلم، سکھ،عیسائی ایکتا کو قائم رکھنے کے لیے اس ملک کو امن کا گہوارہ قرار دیا گیا تھا۔ہر مزہب کے ماننے والوں کو اپنے مزہب کے سلسلے میں کلی اختیار دیے گئے تھے لیکن اب اس ملک میں سیکولرزم اور امن کی شاخ خشک ہوتی جارہی ہے اور گندی ذہنیت رکھنے والے اسلام کے باغی مدارس اسلامیہ کی پاکیزہ جگہ پر بری نگاہ ڈال رہے ہیں اور مدارس اسلامیہ کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دیا جارہا ہے۔لوگوں تک یہ پیغام پہنچنا بہت ضروری ہے کہ ہندوستان کے محافظ مدارس اسلامیہ ہی ہیں۔یہاں پیار و محبت کا سبق پڑھا یا جاتا ہے۔یہاں الفت و بھائی چارگی کی تعلیم دی جاتی ہے اور جب بھی اس دیس پر کوئی آنچ آتی ہے تو سب سے پہلے بوسیدہ درودیوار کے سائے میں قرآن و حدیث کی تعلیم دینے والے ہی اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔جو مدارس کو برا کہتے ہیں ان کو چاہئے کہ یہاں آکر یہاں کی حقانیت اور امن پسندی کی حقیقت کو پہچانیں۔
میں حکومت ہند سے درخواست کرتا ہوں کہ شاسن یا پر شاسن کے جو لوگ بھی ملک کے سیکولرزم اور امن کی بنیاد کو برباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کرکے سزا دلوائیں تا کہ ہندوستان کے مستقبل میں سیکولرزم کی پابندی کرنے والوں کو ان حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close