ہندوستان

ملک کے مختلف حصوں سے کسانوں کا رام لیلا میدان پہنچنے کا سلسلہ جاری

نئی دہلی:قرض سے آزادی اور اپنی پیداوار کی مناسب قیمت دینے کے مطالبے کے ساتھ آل انڈیا کسان سنگھرش تعاون کمیٹی کے اعلان پر بڑی تعداد میں کسانوں نے جمعرات کو دہلی کی سڑکوں پر مارچ کیا۔دو روزہ’کسان مکتی مارچ‘ کی قیادت سوراج انڈیا کے صدر یوگیندر یادو اور جے کسان آندولن کے لیڈر اویک ساہا کررہے تھے۔اس سے قبل مسٹر یوگیندر یادو نے ٹوئٹ کیا کہ ’’خواتین کسانوں نے برج واسن سے نکلتے وقت ہمیں مبارک باد دی کیونکہ وہ کسان مکتی مارچ میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں۔اگر آپ کسان نہیں ہیں تو بھی ہم سےجڑیں۔ ہمیں کھلانے کے لئے جو مشکل جدوجہد کرتے ہیں ان سے جڑیں۔ جے کسان‘‘برج واسن سے کسانوں کامارچ شروع ہوا جو رام لیلا میدان میں جاکر ختم ہوا۔ ملک کے مختلف حصوں سے دارالحکومت دہلی پہنچنے والے کسانوں نے مارچ میں حصہ لیا۔ اس مارچ میں مغربی بنگال، اڈیشہ، بہار، اترپردیش، کرناٹک، ہریانہ، پنجاب اور راجستھان کے کسانوں نے حصہ لیا۔منتظمین کے مطابق ملک کے مختلف حصوں سے کسانوں کا رام لیلا میدان پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ ریلی جمعہ کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرے گی۔قرض معافی جیسے کئی مطالبات کو لے کر ہزاروں کی تعداد میں کسان دہلی پہنچ گئے ہیں، دہلی کے رام لیلا میدان میں کسانوں کا جمع ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں سے کسان مظاہروں میں شامل ہونے کے لئے دہلی پہنچ رہے ہیں، اپنے دو روزہ مظاہروں کے دوران کسان پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے بے حال اور مودی حکومت سے پریشان کسان 29 نومبر کو دہلی میں جمع ہوئے ہیں۔ یہ کسان مودی حکومت کے خلاف دو دنوں تک دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور قرض معافی و فصل کی بہتر ایم ایس پی دینے کا مطالبہ کریں گے۔ دہلی پولس نے کسانوں کے اس دو روزہ احتجاجی مارچ کو دیکھتے ہوئے ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنتر منتر پر ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا جمع ہونا ممنوع ہے۔ ایسی حالت میں اگر کسانوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو انھیں رام لیلا میدان میں دھرنا و مظاہرہ کرنا ہوگا۔29 اور 30 نومبر کو ہونے والے اس احتجاجی مظاہرہ میں چونکہ کثیر تعداد میں کسان شریک ہو رہے ہیں اس لیے دھیرے دھیرے سبھی کسان رام لیلا میدان کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں۔ ’اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش سمیتی‘ کے بینر تلے یہ سبھی کسان جمع ہوئے ہیں اور مکمل قرض معافی، فصلوں کی لاگت کا ڈیڑھ گنا معاوضہ اور ایم ایس سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو پوری طرح سے نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close