اتر پردیش

ملی کونسل کے اجلاس میں دستور ہند کے تحفظ کا عہد

سہارنپور: ملک کی موجو دہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس جامعہ رحمت گھگرولی سہارنپور میں بڑی شاندار روایت کے ساتھ عمل میں آیا آجکے اس پروگرام کا آغاز جامعہ ہذا کے طالب علم محمد جاوید گھگرولی کی تلاوت کلام اللہ اور دوسرے متعلم محمد معصوم کی نعت النبی سے ہوا،اسکے بعد ملی کونسل کے جھنڈے کی پرچم کشائی ہوئی ،اسکے بعد جامعہ ہذا کے طالب علم محمد عتیق نے اپنی سریلی آواز میں ترانۂ ملی کونسل پیش کیا ،جسکا اجراء بھی آج کے اس تا ریخی پروگرام میں بزرگوں کے ہاتھوں عمل میں آیا، اس اجلاس کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر مولانا محمد عبداللہ مغیثی نے کی جبکہ اس کی مکمل کارروائی ضلع صدر سہارنپور آل انڈیا ملی کونسل مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے کی اور خطبہ افتتاحیہ حاجی فضل الرحمن علیگ صدر مجلس استقبالیہ نے پیش کیا اجلاس مختلف ایجنڈوں پر مشتمل تھا، جس میں بطور خاص ملک کی مجموعی صورتحال پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا تجزیہ، 2018 کے ممکنہ اسمبلی انتخابات نیز 2019 میں ہونے والے انتخابات کے مد نظر مختلف پہلوئوں پر غور و فکر کیا گیا اور لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں اس موقع پر ملک کے اندر سیکولرزم اور دستور و آئین کے تحفظ کی ہر قیمت پر بقاء کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ اور فی الفوریہ طے کیا گیا کہ ہم ملک کے مختلف حصوں خاص طور پر اترپردیش میں خوف و ہراس اور ناامیدی کے ازالہ کے لئے مثبت اقدامات کئے جائیں۔
واضح رہے کہ مختلف جہتوں سے مختلف ایجنڈوں پر پیش کردہ تجاویز کی روشنی میں آل انڈیا ملی کونسل جلد ہی ملک کے مختلف شہروں کے تنظیمی دوروں پر بھی غور کر رہی ہے۔
طلاق ثلاثہ ،اور بابری مسجد جیسے حساس موضوعات بھی زیر بحث رہے ملک کی مختلف ریاستوں سے تشریف لائے اراکین عاملہ نے اپنی اپنی قیمتی آرا پیش کی اور تمام ایجنڈوں پر بڑی سنجیدگی سے غور و خوض کیا اور کچھ تجاویز بھی پیش کی گئیں جن کو آئندہ بحث کے لئے ایجنڈے میں شامل کیا گیا ،میٹنگ میں اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں مایوس اور گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ ہمت اور حوصلوں سے کام لینا چاہئے اور یہ کہ جماعت اور تنظیم کیلئے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے ،لہذا ملی کونسل سے زیادہ سے زیاد ہ نوجوانوں کو جوڑا جائے اجلاس میںنوجوان اور متحرک و فعال عالم دین اور اجلاس کے کنوینر مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی کو مبارکباد پیش کی کہ انہوں نے ملی کونسل کی مرکز عاملہ کا اجلاس سہارنپور میں منعقد کرکے نوجوانوں کے لئے مثال قائم کی ہے پروگرام میں تجویز تعزیت بھی پیش کی گئی جسمیں گزشتہ سال سے اب تک ملک و بیرون ملک کے اکابر علماء پروفیسر، ادیب،شاعر اور دگر ملی تنظیموں سے وابستہ حضرات جو کہ ہمارے درمیان سے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے اناّ للہ و انّا الیہ راجعون جن کیلئے ایصال ثواب اور مغفرت کی دعاء کی گئی اور ساتھ ہی ملی کونسل کے قائد محترم ڈاکٹر منظور عالم کی جلد صحت یابی کیلئے دعاء کی گئی ،اراکین عاملہ میں ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی ،یوسف ہاتم مچھالا ، مولانا سید مصطفی رفاعی معاون جنرل سیکریٹری ،مولانا یٰسین علی عثمانی نائب صدر ، مولانا عبد العلیم قاسمی نائب صدر،ڈاکٹر سید فاروق ،مفتی رضوان ،جے عنایت ا للہ رحیم الدین انصاری،ڈاکٹر اصغر چلبل ،منیر احمد خاں، پیر جی حسین احمد ، سلیمان خان ، مولانا گلزار قاسمی،حافظ سید اطہر کے علاوہ بیشتر اراکین کی شرکت رہی ،انکے علاوہ مقامی خطاب کرنے والوں میں صابر علی خان ،جاں نثار ایڈوکیٹ ،رائو محبوب ڈاکٹر شاہد زبیری ،حاجی تو صیف ،شرکاء میں شاہ عتیق احمد مولانا ریاض الحسن ندوی ڈاکٹر قمر الزماں، مولانا عبدالخالق مغیثی،قاری جنید حیدر ر ئوف ،رائو لئیق ، سید حسان ،عبدالرحمن شالو، مولانا نواب ،قاری ذیشان قادری ،مولانا عارف ،مولانا واصف رشیدی مفتی عمران ،مفتی دلشاد ،اشرف ریاض ،مولانا شمشیر ،قاری اعظم ،صوفی ساجد ،عبد الرحمن عزیز ،عبد الستار،مظاہر رانا ،مدـثر افتخار ،پروفیسر جلال عمر حاجی عمران قریشی کے علاوہ بڑی تعداد میں عمائدین و معززین حضرات شریک رہے ۔
( خاص خبر احمد رضا)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close