بز م اطفال

’’ممی، ڈیڈی‘‘ ہمارے ساتھ کھیلیں، موبائل فون چھوڑیں

ناز بنتِ قدیر
بلاشبہ ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کے باعث انسانی زندگی میں بے شمار آسانیاں آئی ہیں۔ جیسے جیسے بدلتے دور کے ساتھ جدت آ رہی ہے، ویسے ویسے انسان سہل پسند ہو رہا ہے، اس کے رویے بدل رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب رشتوں ناتوں کو اہمیت دی جاتی تھی۔ ایک دوسرے سے ملنے کے لیے کسی تہوار یا دعوت کے منتظر نہیں ہوتے تھے۔ لیکن آج کے ترقی یافتہ دور میں ایک ہی گھر میں رہنے والے بھی ایک دوسرے سے ایسے دور ہوتے جا رہے ہیں کہ ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے بھی ایک دوسرے سے غافل ہوتے ہیں۔ کھانے کی میز پر بھی اجنبی اجنبی سے لگتے ہیں۔ وجہ ’’موبائل فون‘‘ ہے۔ والدین کی بچوں پر توجہ نہ دینے کی وجہ بھی یہ ہی یعنی ’’موبائل فون‘‘ ہے۔ انہیں دنیا جہان کی خبر تو رہتی ہے لیکن اپنے ہی بچوں کی خبر نہیں ہوتی۔ 2015ء میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، موبائل فون پر زیادہ وقت صرف کرنے والے والدین اپنے بچوں سے دور ہوگئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر والدین اور بچوں کے درمیان دوریاں ہوجائیں تو نہ صرف ان کا رشتہ کمزور ہوتا ہے، بلکہ بچوں کی نشو ونماء بھی متاثر ہوتی ہے، پھر بچے ضدی ہو جاتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو اُن کا جی چاہتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ، جب والدین ہی ہر وقت موبائل فون استعمال کر رہے ہوں تو بچوں سے کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اس کا استعمال ترک کر دیں گے۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ اکثر والدین ان بچوں کے ہاتھوں میں بھی موبائل فون پکڑا دیتے ہیں جنہوں نے ابھی ٹھیک سے چلنا بھی نہیں سکھا، صرف اس لیے کہ بچے انہیں تنگ نہ کریں۔ لیکن والدین آج کے بچوں کو بچہ نہ سمجھیں، وقت کی تیز ہواؤں کی زد میں وہ بھی آسکتے ہیں۔ وہ بچپن میں ہی بہت کچھ جان گئے ہیں۔ اُن کی نگاہیں بہت تیز ہوگئی ہیں۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے کہ والدین ہم پر کم اور موبائل پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اس کی ایک ہلکی سی جھلک جرمنی کے بچوں کے احتجاج میں نظر آئی، جو انہوں نے اپنے والدین کے خلاف کیا تھا۔ پھر اس احتجاج میں پوری دنیا کے بچوں کی آوازیں شامل ہوگئیں۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ، گزشتہ دنوں جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں بچوں نے والدین کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی، جو اپنے بچوں کو نظر انداز کرکے اپنا زیادہ تر وقت موبائل فون پر گزارتے ہیں۔ ان بچوں کا والدین سے مطالبہ تھا کہ، ’’ہمارے ساتھ کھیلیں، اپنے فون سے نہیں‘‘۔ ریلی کی نمائندگی سات سالہ ایمل نے کی، جس میں شہر کے 150 بچوں نے شرکت کی۔ ریلی سے ایمل نے لاؤڈ اسپیکر پر بچوں سے خطاب میں کہا کہ ’’ہم امید کرتے ہیں کہ اب ممی پاپا اپنا موبائل فون کم استعمال کریں گے اور ہمارے ساتھ وقت گزاریں گے ہماری خواہش ہے کہ والدین موبائل فون سے دور ہوجائیں‘‘۔ یہ ریلی دنیا بھر میں ٹی وی چینلز پر دکھائی گئی۔ اخبارات میں نمایاں شائع ہوئی، بعدازاں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایڈولیسینٹ ڈیولپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر رون ڈہل نے ایک بیان میں کہا کہ، یہ بچے والدین اور دوستوں کے سوشل میڈیا کے استعمال سے پریشان ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کو اہمیت و توجہ نہیں دی جارہی۔ تحقیق کے مطابق جن بچوں کو والدین کی جانب سے توجہ نہیں ملتی وہ اپنے آپ کو تنہا اور غیر اہم محسوس کرتے ہیں، نتیجتاً ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔
والدین جو اپنی اولاد اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے موبائل فون کو ایک جانب رکھ کر زیادہ سے زیادہ وقت اپنے بچوں کےساتھ گزاریں، ان سے باتیں کریں، ان کی ضروریات جاننے اور انہیں پورا کرنے کی کوشش کریں، تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ وہ والدین کی اولین ترجیح ہیں۔ خوشگوار بچپن انسان میں مثبت رویہ اور سکون پیدا کرتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close