ممبئیہندوستان

منگل سے بینکوں کی ملک گیر ہڑتال

ممبئی: ملک کے سرکاری اور کوآپریٹیو بینکوں کے ساتھ ساتھ انڈسٹریل بینکوں کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ آل انڈیا بینک امپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی اے) اور بینک امپلائز فیڈریشن آف انڈیا ( بی ای ایف آئی) کی جانب سے مجوزہ ہڑتال میں ملک کے لاکھوں بینک ملازم بھی شامل ہو رہے ہیں۔ دسمبر میں ہوئی ہڑتال میں 3.2 لاکھ بینک ملازمین نے حصہ لیا تھا، جس سے بینکاری نظام ٹھپ ہو گیا تھا۔ منگل، 8 جنوری سے ہونے والی دو روزہ ہڑتال میں بھی ملک بھر کے تمام اہلکار کام بند کر اپنے مطالبات کو منوانے کی کوشش کریں گے۔
بینک آف بڑودہ، الہ آباد بینک، آئی ڈی بی آئی بینک، کرور ویشیہ بینک سمیت تمام بینکوں نے مارکیٹ ریگولیٹری کو مطلع کیا ہے کہ 8 جنوری، 2019 اور 9 جنوری، 2019 کو اے آئی بی ای اے اور اے آٗی ای بی او اے کی جانب سے اپنے مختلف مطالبات کو لے کر ہڑتال کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔ دو دنوں تک بینک کا کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اے آئی بیای اے اوربی ای ایف آئی نے حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ 26 دسمبر کو بھی دینا بینک اور وجیا بینک کا بینک آف بڑودہ میں ضم کئے جانے کی مخالفت میں ملک بھر کے سرکاری بینکوں کے دس لاکھ سے زیادہ حکام اور ملازمین نے ہڑتال کی تھی۔ بینک کے حکام اور ملازمین نے بڑے بقایہ داروں کے نام کا انکشاف کرنے اور این پی اے کی وصولی فوری کرانے، نوٹ بندی کے بعد کئے گئے اضافی کاموں کے بدلے ان کی تنخواہ بڑھانے کی بھی مانگ کی ہے۔
بینک یونینوں نے تنخواہ معاہدہ لاگو کرنے سمیت 11 نکاتی مطالبات کو بھی پورا کرنے کی مانگ کو لے کر مرکزی وزیر خزانہ کو میمو سونپا تھا۔ یونین نے وزیر خزانہ پر بینکوں سے کئے گئے تنخواہ معاہدے کو لے کر وعدہ خلافی کا بھی الزام لگایا ہے۔آی بی اے کے ساتھ نومبر 2017 میں کئے گئے معاہدے کو لاگو کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ بتا دیں کہ دسمبر میں ملک بھر کے 3.2 لاکھ سے زیادہ بینک حکام اور ملازمین نے ہڑتال کی حمایت دیتے ہوئے کام بند کر دیا تھا، جس سے ملک کے بینکاری سروس بہت متاثر ہوئی۔آئندہ 8-9 جنوری کو ملک گیر ہڑتال میں بھی بینکاری خدمات کے ٹھپ ہونے کا امکان ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close