اسلامیات

موتی سمجھ کر شان کریمی نے چن لیے

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے

قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
اے لوگوجوایمان لائے ہو!اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ۔ تمہارا رب قریب ہے کہ تم سے تمہاری برائیاں دورکردے اورتمہیں داخل کردے ان باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں،اس دن اللہ تعالیٰ نبی کواوراُن لوگوں کوجواُس کے ساتھ ایمان لائے ہیں،رُسوانہ کرے گا،اُن کانوراُن کے آگے اوراُن کی دائیں جانب دوڑرہا ہو گا،وہ کہیں گے: ’’اے ہمارے رب!ہمارانور مکمل کردے اور ہمیں بخش دے،بلاشبہ تو ہر چیزپرپوری قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘(سورہ۔تحریم۔آیت۔8)
اصل میں توبۃً نصوحاً کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ نصح کے معنی عربی زبان میں خلوص اور خیر خواہی کے ہیں۔ خالص شہد کو عسل ناصح کہتے ہیں جس کو موم اور دوسری آلائشوں سے پاک کر دیا گیا ہو۔ پھٹے ہوئے کپڑے کو سی دینے اور ادھڑے ہوئے کپڑے کی مرمت کر دینے کے لیے نصاحۃ الثوب کا لفاظ استعمال کیا جاتا ہے۔ پس توجہ کو نصوح کہنے کا مطلب لغت کے اعتبار سے یا تو یہ ہو گا کہ آدمی ایسی خالص توجہ کرے جس میں ریاء اور نفاق کا شائبہ تک نہ ہو۔ یا یہ کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہی کرے اور گناہ سے توبہ کر کے اپنے آپ کو بد انجامی سے بچا لے۔ یا یہ کہ گناہ سے اس کے دین میں جو شگاف پڑ گیا ہے، توبہ کے ذریعہ سے اس کی اصلاح کر دے۔ یا یہ کہ توبہ کر کے وہ اپنی زندگی کو اتنا سوار لے کہ دوسروں کے لیے وہ نصیحت کا موجب ہو اور اسکی مثال کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسی کی طرح اپنی اصلاح کرلیں۔
جب انسان کے اندر شہوت کا غلبہ ہو تا ہے،شیطان جو ہمارا ازلی دشمن ہے وہ برائیوں کو خوشنما دکھاتا ہے،پھر ہمارا نفس جو دنیاوی لذتوں میں گم ہو کر،ہم اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتے ہیں اور حرام کردہ امور میں ملوث ہو جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالی کی ذات رحمت ہے کہ اپنے گنہگار بندوں کے سا تھ بھی انتہائی نرمی والا معاملہ کرتی ہے؛ اللہ تعالی کی رحمت ہر شئے سے وسیع ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ظلم و زیادتی کرنے کے بعد توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے،
پھر جو شخص ایسا ظلم کرنے کے بعد توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے وہ یقیناً بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (المائدہ: 39)
مخدوم شرف الدین بہاری رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں،پیدائش سے موت تک جو انسان گناہ کرتا ہے وہ انسان نہیں وہ شیطان ہے،پیدائش سے موت تک کوئی آدمی نیک کام کرتا ہے وہ بھی انسان نہیں ،وہ فرشتہ ہے۔انسان تو وہ ہے کہ جانے انجانے میں اگر اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اللہ فوراََسے معافی مانگے،یہ آدم ؑ اور آدمؑ کے بیٹوں کی خاصیت ہے۔
اللہ تعالی معاف کرنے والا اور نہایت کرم کرنے والا ہے اسی لیے تو اپنے تمام بندوں کو سچی توبہ کرنے کا حکم بھی دیتا ہے تا کہ رحمت الہی حاصل ہو۔
اے ایمان والو! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو یقینی بات ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔( التحریم: 8)
توبہ کا دروازہ تمام بندوں کیلیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (بیشک اللہ عزوجل اپنے ہاتھ رات کے وقت پھیلاتا ہے تا کہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے اور دن میں اللہ تعالی اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے، یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا،جب تک سورج مغرب کی سمت سے طلوع نہ ہو جائے) مسلم: (2759)سچی توبہ محض زبانی جمع خرچ کا نام نہیں ہے، بلکہ سچی توبہ کی قبولیت کے لیے شرط یہ ہے کہ انسان گناہ سے فوری طور پر باز آ جائے اور اپنے کئے پر ندامت کا اظہار کرے اور توبہ کردہ گناہ دوبارہ نہ کرنے کا پورا عزم کرے، ہاں اگر کسی کے حقوق سلب کئے ہیں تو مستحقین کو ان کے حقوق لوٹا دے، توبہ کیلیے یہ بھی شرط ہے کہ موت نظر آنے سے پہلے انسان توبہ کرے۔فرعون کی طرح نہ کرے۔
حضرت ابو لبابہ بن عبدا لمنذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے غزوئہ بنو قریظہ کے موقع پر ایک خطا سرزد ہو گئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر نادم ہوئے کہ خود کو ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور کہا: جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہیں فرمائے گا تب تک نہ میں کچھ کھا?ں گا نہ پیوں گا،نہ کوئی چیز چکھوں گا، یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے۔ حضور پرنورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو جب ان کے بارے میں پتا چلا تو ارشاد فرمایا:اگر یہ میرے پاس آ جاتا تو میں اس کے لئے مغفرت طلب کرتا لیکن اب اس نے خود کو باندھ لیا ہے تو جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہ فرمائے گا، میں نہیں کھولوں گا۔ سات دن تک حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہ کوئی چیز کھائی، نہ پی، نہ چکھی، حتیٰ کہ ان پرغشی طاری ہو گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جب انہیں توبہ کی قبولیت کے بارے میں بتایا گیا تو فرمایا: خدا کی قسم! میں اس وقت تک خود کو نہیں کھولوں گا جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لا کر اپنے دست اقدس سے مجھے نہیں کھولتے۔ چنانچہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور اپنے پیارے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بندشوں سے آزاد فرمادیا۔ (دلائل النبوہ للبیہقی، باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الاحزاب ومخرجہ الی بنی قریظ۔۔۔ الخ،4/31-41، خازن، الانفال، تحت الاٰیت: 72،2/091)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک کوئی چیز دو قطروں سے زیادہ محبوب نہیں، ایک آنسو کا قطرہ جو اللہ کے خوف سے نکلا ہو اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستہ میں گراہوا۔ (مشکوٰۃص:333)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ گنہگاروں کا رونا، آہ کرنا، گڑگڑانا مجھے تسبیح پڑھنے والوں کی سبحان اللہ کی آوازوں سے زیادہ محبوب ہے۔(او کما قال ﷺ)
مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:
قطرئہ اشکِ ندامت در سجود
ہمسری خون شہادت می نمود
(ندامت کے آنسوؤں کے وہ قطرے جو سجدہ میں گنہگاروں کی آنکھوں سے گرتے ہیں، اتنے قیمتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو شہیدوں کے خون کے برابر وزن کرتی ہے) اس سے شہدا ٗوںکے مقام اور مرتبہ میں کمی واقع نہیں ہوتی۔شہدا ئے اسلام اللہ کے یہاں بڑے مقام کے حامل ہیں۔
حضرت مالک دینارؒ فرماتے ہیں کہ جب میں نے ایک دن حضرت حسن بصریؒ سے یہ پوچھا کہ لوگوں کی تباہی کس چیز پوشیدہ ہے؟تو آپ نے فرمایا کہ مردہ دلی میں ہے۔میں نے پوچھا۔’’مردہ دلی کا کیا مطلب ہے؟‘‘حضرت نے فرمایا۔’’دنیا کی جانب راغب ہو جانا مردہ دلی ہے۔‘‘
حضرت جنید بغدادی ؒکے پاس ایک حسین عورت آئی اور پوچھا میرا شوہر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔حضرت جنید بغدادی ؒکے پاس ایک عورت آئی، اور پوچھا کے حضرت آپ سے ایک فتویٰ چاہئے کہ اگر کسی مرد کی ایک بیوی ہو تو کیا اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح جائز ہے؟
حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا بیٹی اسلام نے مرد کو چار نکاح کی اجازت دی ہے بشرطیکہ چاروں کی بیچ انصاف کر سکے -اس پر اس عورت نے غرور سے کہا کہ حضرت اگر شریعت میں میرا حسن دکھانا جائز ہوتا تو میں آپ کو اپنا حسن دکھاتی اور آپ مجھے دیکھ کر کہتے کہ جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہو اسے دوسری عورت کی کیا ضرورت؟
اس پر حضرت نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے – وہ عورت چلی گئی جب حضرت ہوش میں آئے تو مریدین نے وجد کی وجہ پوچھی۔حضرت نے فرمایا کہ جب عورت مجھے یہ آخری الفاظ کہ رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ الفاظ القا کیے کہ: اے جنید! اگر شریعت میں میرا حسن دیکھنا جائز ہوتا تو میں ساری دنیا کو اپنا جلوہ کرواتا تو لوگ بے اختیار کہہ اٹھتے کہ جس کا اتنا خوبصورت اللہ ہو اسے کسی اور کی کیا ضرورت ہے؟
ایک مرتبہ حضرت حبیب عجمیؒ کسی کونے میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کہ جس کاقلب تجھ سے مسرور نہ ہو،اس کو ئی مسّرت حاصل نہیں ہوئی اور جس کو تجھ سے انس نہ ہو، اس کو کسی سے انس نہ ہو۔‘‘لوگوں نے پوچھا۔’’جب آپ گوشہ نشین ہو کر دنیا کی تمام باتوں سے الگ ہو چکے ہیں تو یہ بتائیے کہ رضا کس شے میں ہے؟‘‘
آپ نے فرمایا،’’رضا تو صرف اسی قلب کو ہے جس میں کوئی کدورت نہ ہو‘‘۔
ایک شخص ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ سے بحث کررہا تھاکہ برکت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔
ابراہیم بن ادہم نے کہا کہ تم نے کتے اور بکریاں دیکھیں ہیں وہ شخص بولا ہاں۔ابراہیم بن ادہم بولے سب سے زیادہ بچے کون جنتاہے کتے یابکری وہ بولا کہ کتے۔ابراہیم بن ادہم بولے تم کو بکریاں زیادہ نظر آتیں ہیں یاکتے وہ بولا بکریاں۔ابراہیم بن ادہم بولے جبکہ بکریاں ذبح ہوتیں مگر پھر بھی کم نہیں ہوتیں توکیا برکت نہیں ہے اسی کانام برکت ہے۔پھر وہ شخص بولا کہ ایسا کیوں ہے کہ بکریوں میں برکت ہے اور کتے میں نہیں۔ابراہیم بن ادہم بولے کہ بکریاں رات ہوتے ہی فورا سوجاتیں ہیں اور فجر سے پہلے اٹھ جاتیں ہیں اور یہ نزول رحمت کا وقت ہوتا ہے لہذا ان میں برکت حاصل ہوتی ہے۔اور کتے رات بھر بھونکتے ہیں اور فجر کے قریب سوجاتے ہیں لہذا رحمت وبرکت سے محروم ہوتے ہیں۔پس غوروفکر کامقام ہے آج ہمارابھی یہی حال ہے ہم اپنی راتوں کو فضولیات میں گزارتے ہیں اور وقت نزول رحمت ہم سوجاتے ہیں اسی وجہ سے آج نہ ہی ہمارے مال میں اور نہ ہی ہماری اولاد میں اورنہ ہی کسی چیز میں برکت حاصل ہوتی ہے۔
تم فرماؤ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی۔ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے، (سورہ۔الزمرآیت۔53)
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لئے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ کی باتیں اور آپ کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہوچکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہوگا؟ اس پر آیت۔۔ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا(سورہ۔فرقان۔آیت۔68)اور یہ آیت نازل ہوئی۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ نے فرمایا کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں۔حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (اللہ پاک ایسے ایسے دشمنوں کو بھی معاف کرنے کیلئے آمادہ ہیں)تو پھر اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اللہ کی رحمت ومغفرت سے مایوس ہو تو گویا اس نے اللہ کی کتاب قرآن مجید کا انکار کیا۔
دراصل یہ آیت ان لوگوں کے لیے پیغام امید لے کر آئی تھی جو جاہلیت میں قتل، زنا، چوری، ڈاکے اور ایسے ہی سخت گناہوں میں غرق رہ چکے تھے، اور اس بات سے مایوس تھے کہ یہ قصور کبھی معاف ہو سکیں گے۔ ان سے فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، جو کچھ بھی تم کر چکے ہو اس کے بعد اب اگر اپنے رب کی اطاعت کی طرف پلٹ آؤ تو سب کچھ معاف ہو جائے گا۔ اس آیت کی تاویل ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ابن زید نے بیان کی ہے (ابن جریر، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی)۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 466 تا 468)
حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ توبہ کرنے والے جب اپنی قبروں سے نکلیں گے تو ان کے سامنے کستوری کی خوشبو پھوٹے گی،یہ جنت کے دسترخوان پر آکر اس سے تناول کریں گے،عرش کے سایہ میں رہیں گے،جب کہ بہت سے لوگ حساب و کتا ب کی سختی میں ہوں گے۔صحیح مسلم سیدنا عمران ابن حصین ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔اسے زنا کا حمل تھا۔وہ عرض کرنے لگی یارسول اللہ ﷺ میں وہ کام (یعنی زنا )کر بیٹھی ہوں۔رسول اللہ ﷺ نیاس کے ولی کو بلا کر ارشاد فرمایا: اس کے ساتھ اچھا سلوک کرواور جب وضع حمل ہو جائے تو اسے میرے پاس لے آنا،پھر ایسا ہی ہوا(یعنی وضع حمل کے بعد ولی خدمت اقدس ﷺ میں لے کرحاضر ہوئے)تب رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے اس کے کپڑوں ساتھ باندھا جائے،تا کہ ستر نہ کھلے،پھر اسے رجم کیا گیا ۔بعدازاںرحمت العالمین ﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔سیدنا عمر ابن خطاب ؓ عرض گزار ہوئے۔یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی حالانکہ اس نے زنا کاارتکاب کیا تھا،اس پر نبی برحق ﷺ نے ارشاد فرمایایقیناََ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی توبہ اہل مدینہ کے ستّر (70)افراد پر تقسیم کی جائے توتو انہیں بھی کافی ہو جائے گی۔یعنی ان کی مغفرت ہو جائے ۔اور ائے عمر ؓ تو نے اس سے افضل کوئی توبہ دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر قربان کردی۔(او کما قال ﷺ)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے (جبکہ وہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے) اُس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنی خوشی تم میں سے کسی مسافر کو اپنے اُس (سواری کے) اونٹ کے مل جانے سے ہوتی ہے جس پر وہ چٹیل بیابان میں سفر کررہا ہو۔(اور اونٹ گم ہو کر مل جائے،اس کے گم ہونے سے مسافر پریشان ہو پھر اسے مل جائے)مفہوم حدیث(اوکما قال صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔مسلم، کتاب التوبۃ، باب فی الحض علی التوبۃ والفرح)
اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سے باز رہنے کا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے۔اس نے اپنی ذات پاک پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔
””اور جب آپ کے پاس وہ آئیں جوہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ کہہ دیں تم پرسلام ہو، تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت لازم کر رکھی ہے،یقیناوہ جو تم میں سے نادانی میں کوئی بُرائی کر بیٹھے،پھراس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کرلی تویقیناوہ بے حدبخشنے والا،نہایت رحم والا ہے۔(سورہ۔الانعام۔آیت۔54)
جو لوگ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ان میں بکثرت لوگ ایسے بھی تھے جن سے زمانہ جاہلیت میں بڑے بڑے گناہ ہو چکے تھے۔ اب اسلام قبول کرنے کے بعد اگرچہ ان کی زندگیاں بالکل بدل گئی تھیں، لیکن مخالفین اسلام ان کو سابق زندگی کے عیوب اور افعال کے طعنے دیتے تھے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کو تسلی دو۔ انہیں بتائوکہ جو شخص توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے اس کے پچھلے قصوروں پر گرفت کرنے کا طریقہ اللہ کے ہاں نہیں ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ندامت ہی توبہ ہے۔(مسند احمد بن حنبل، المسند، 1:376۔رقم:3568)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر میرے پاس مال بھی تھا۔ چنانچہ میں نے (دل میں) کہا: اگر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت لینا چاہوں تو آج لے سکتا ہوں۔ چنانچہ میں اپنا آدھا مال (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا باقی چھوڑا ہے؟‘‘ میں نے کہا: اسی قدر (چھوڑ آیا ہوں) اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا کل مال (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا ’’تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا باقی چھوڑا ہے؟‘‘ کہا: میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے۔ تب مجھے کہنا پڑا، میں کسی شے میں کبھی بھی ان سے نہیں بڑھ سکتا۔(ترمذي، الجامع الصحیح، 6: 614ابواب المناقب، رقم: 3675۔ ابو داؤد، 2: 129، السنن کتاب الزکٰوۃ، رقم: 1678۔دارمي، السنن، 1: 480، رقم: 1660۔حاکم، المستدرک، 1: 574، رقم: 1510. بزار، المسند، 1: 394، رقم: 270۔ عبد بن حميد نے ’المسند (ص: 33، رقم: 14)‘ ميںسعد بن اسلم سے روا یت لی ہے۔ ابن ابي عاصم، السنہ، 2: 579، رقم: 1240۔ مقدسي، الاحادیث المختار، 1: 173، 174، رقم: 80، 81۔ ابو نعیم نے ’حلیۃ الاولیاء (1: 32)‘ میں زید بن ارقم سے اسے روایت کیا ہے۔ ابن الجوزی نے ’صفۃ الصفوہ (1: 241)‘ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت نقل کی ہے۔ محب طبری نے بھی ’الریاض النضرہ (1: 355)‘ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت نقل کی ہے۔بیہقی، السنن الکبریٰ، 4: 180، رقم: 7563)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close