شعر وشاعری

"موت کی ریل”

گرہن خوشیوں پہ بن آئی موت کی ریل
قدرت کے قہر کو برپا آئی موت کی ریل
دہنِ راون پہ امڑے ایک جَن سیلاب پر
تانڈو وحشت کا مچا آئی موت کی ریل
غریب گھر کے واحد، چراغوں کو بجھا
اندھیرے غم کے پھیلا آئی موت کی ریل
کر رہے تھے جو کل جلتے راون کا نظارہ
یمدوت انکے لیے بن آئی موت کی ریل
دیکھی نہ ایسی تھی، کبھی پہلے ہی سنی
دسہرہ کے دن جو نظر آئی موت کی ریل
شہر میں ہر طرف گہرے ماتم کو پھیلا
دیش میں سوگ پھیلا آئی موت کی ریل
چند سیاست کے بھو کے رہنماؤں کو
سینکنے روٹیاں دے آئی موت کی ریل
فتح کے جشن کے پل ‘عباس’ ماتم میں بدل
خوشی کو غم میں بدل آئی موت کی ریل

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Close