سیاستہندوستان

مودی حکومت نے سیاسی فائدے کیلئے کیاسرجیکل اسٹرائیک: راہل

چتوڑ گڑھ؍ادے پور: کانگریس کے صدر راہل گاندھی راجستھان اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ریاست کے دورے پر ہیں۔ راہل گاندھی نے چتوڑ گڑھ کے علاوہ ادے پور میں بھی جلسہ عام سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے آیوشمان یوجنا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں اسپتال ہی نہیں ہیں پھر عوام کا علاج کیسے ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ صحت کے شعبہ میں معیاری اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنا ضروری ہوگا۔انہوں نے ہفتہ کے روز چتوڑگڑھ، ادے پور وہ دیگر مقامات پر انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ راہل نے مرکز کی مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے سیاسی فوائد کے لئے سرجیکل اسٹرائیک کیا۔ اس میٹنگ میں اٹھنے والے زیادہ تر سوال مودی حکومت کی اسکیموں سے متعلق تھے۔ ان سوالات پر راہل گاندھی کے جواب بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے ارد گرد ہی گھومتے رہے۔ ایک دو سوال راجستھان کے مسئلے سے جڑے ہوئے سامنے بھی آئے تو راہل نے انہیں راجستھان کے رہنما سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور ریاستی سچن پائلٹ کو ان جواب دینے کے لئے کہا۔ ڈائیلاگ پروگرام کی خاصیت یہ رہی کہ راہل گاندھی کسی بھی وعدے یا اعلان سے بچتے رہے اور ہر مسئلے پر صرف اپنانظریہ واضح کیا۔
چتوڑ گرھ میں اپنے خطاب کے دوان راہل گاندھی نے کہا، ’’صنعت کاروں کا قرض معاف کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی سے جب میں نے کسانوں کا قرض معاف کرنے کے بارے میں سوال پوچھا تو وہ مجھے گھور کر دیکھنے لگے۔‘‘انہوں نے کہا کہ مودی سے کسانوں کے بارے میں میرا سوال پوچھنا کیا جائز نہیں تھا! انہوں نے کہا کہ 15 صنعت کاروں کا معاف کیا گیا ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپے کا قرض منریگا پر خرچ ہونے والی رقم سے دس گنا زیادہ ہے۔ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے بعد ہماری حکومت بننے پر کسانوں کا قرض معاف کیا جائے گا اور غریب لوگوں کا علاج مفت کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ عوام کی صحت اور تعلیم کے لئے جتنا بجٹ مختص ہونا چاہئے بی جے پی حکومت نے نہیں کیا۔ انہوں نے راجستھان میں گزشتہ گہلوت حکومت میں مفت دوائیاں دینے کی اسکیم نافذ کرنے کی تعریف کی۔راہل گاندھی نے کہاکہ گزشتہ تین چار برسوں میں مودی حکومت نے ملک کے پندرہ بیس صنعت کاروں کا ساڑھے تین لاکھ کروڑ کا قرض معاف کیا ہے جبکہ ملک کا کسان قرض معافی کے لئے تحریک چلا رہا ہے۔ کسان خودکشی کررہے ہیں لیکن حکومت سن نہیں رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے ریلائنس کمپنی کے مالک انل امباری کی کمپنی کو 45ہزار کروڑ کا فائدہ پہنچایا، نیرو مودی 35ہزار کروڑ، وجے مالیا دس ہزار کروڑ روپے لیکر ملک سے فرار ہوگئے۔
نوٹوں کی منسوخی کو ملک کا سب سے بڑا گھپلہ قرار دیتے ہوئے گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا اور جلد بازی میں نوٹوں کی منسوخی کو نافذ کردیا جس سے کسانوں، چھوٹے کاروباریوں اور مزدوروں کو سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ انہوں نے کہاکہ گبر سنگھ ٹیکس (جی ایس ٹی) سے چھوٹے اور درمیانہ کاروباریوں کی ڈیڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ا س سے بڑی کمپنیوں اور صنعت کاروں کے لئے اندر گھسنے کا راستہ کھل گیا اور پوری معیشت پر حاوی ہوگئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close