بین الاقوامیہندوستان

مودی نے کی ٹرمپ، آبے، پوٹن، جن پنگ سے سہ فریقی مذاکرات

بیونس آئرس: ارجنٹائنا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں جی -20 اجلاس سے الگ ہندوستان نے جاپان اور امریکہ اور چین اور روس کے ساتھ دو الگ الگ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی اور عالمی اقتصادی ترقی میں آئے تعطل کو دور کرنے کے بارے میں ان ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ غور و خوض کیا ۔گذشتہ 12 سال میں پہلی بار روس ،ہندوستان، چین (آرآئی سي) کی سہ فریقی سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی، روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور چین کے صدر شی جن پنگ ملے اور عالمی معیشت میں استحکام لانے اور دنیا میں امن اور خوشحالی قائم کرنے کے بارے میں بات چیت کی۔ اس سے پہلے تينوں ممالک کے درمیان 2006 میں میٹنگ ہوئی تھی۔سکریٹری خارجہ وجئے گوکھلے نے تینوں رہنماؤں کے اجلاس کے بعد اس کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے بتایا’’تینوں رہنماؤں کے درمیان بہت مثبت اور گرم جوشی کے ساتھ میٹنگ ہوئی. تینوں رہنمانے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی امن اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے مختلف شعبوں میں تعاون کرنا ان کے لئے اہم ہے۔ اس دوران تینوں رہنماؤں کی طرف سے ظاہر کئے گئے احساسات و خیالات بہت یکساں تھے‘‘۔انہوں نے کہا، "تینوں لیڈروں نے عالمی سطح پر اقتصادی شعبے میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ساتھ مل کر علاقائی بحران کے تدارک کے لئے امن اور استحکام کو بڑھانے کا کام کر سکتے ہیں‘‘۔
سکریٹری خارجہ نے کہا کہ تینوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ آفات کے وقت میں ساتھ مل کر کام کریں گے اور کسی ملک کی روح کے خلاف کام نہیں کریں گے، لیکن یہ اس بات پر منحصر ہونا چاہئے کہ تینوں ملک دنیا کی بھلائی کے لئے اپنا رول کس طرح اداکر سکتے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ تینوں لیڈروں نے یہ محسوس کیا کہ میٹنگ سود مند ہے اور بین الاقوامی کانفرنسوں سے الگ اس طرح کے اجلاس ہوتے رہنے چاہئے۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا مقصد پائیدار ترقی ہے۔ انہوں نے کہا’’ایسے بین الاقوامی ماحول میں اچھی بات یہ ہے کہ دنیا کی ایک تہائی آبادی والے ممالک -ہندوستان، روس اور چین کو ایک ساتھ آنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کثیر جہتی اداروں کو مضبوط کرنے اور بین الاقوامی سیاست کے اصولوں کے احترام کو یقینی بنائیں۔ یہ اجلاس 12 سال بعد ہو رہا ہے، تو میں روسی رہنما مسٹر پوٹن کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، جنہوں نے اس سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے کی پہل کی ہے‘‘۔
مسٹر مودی نے کہا، "تینوں ممالک کو چار اہم نکات پر توجہ دینی چاہئے. پہلے علاقائی اور عالمی استحکام، اقتصادی ہم آہنگی، باہمی فائدے کے لئے اپنے تجربات کا اشتراک کرنا اور نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے تیار رہنا‘‘۔
اس سے پہلے مسٹر مودی نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے کے ساتھ بھی میٹنگ کی اور عالمی اور کثیر جہتی ایشوز کے ساتھ ساتھ ہند بحرالکاہل کے علاقے میں امن، جہاز رانی کی آزادی اور حکمرانی کی بنیاد پر نظام قائم کئے جانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ تینوں رہنماؤں نے مانا کہ یکساں اقتصادی ترقی کے لئے ہند بحرالکاہل کے علاقے میں اس نظام کو قائم کرنا ضروری ہے۔مسٹر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان یکساں اقدار کے لئے مسلسل کام کرتا رہے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close