ہندوستان

مودی کی حکومت میں ملک کی معیشت چوپٹ ہوگئی: آنند شرما

نئی دہلی:آنند شرما نے اتوار کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار سال میں معیشت میں کافی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ کسی بھی معیشت کے لئے جو معیار ہوتا ہے، اس میں کمی آئی ہے۔ ملک میں پرائیویٹ اور سرکاری شعبے میں سرمایہ کاری مسلسل کم ہوئی ہے۔ لوگوں کی بچت کی شرح میں تقریباً چھ فیصد کمی آئی ہے۔ نئی صنعتیں نہیں لگائے جانے سے صنعتی ترقی کی شرح صفر کے نیچے ہے اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی پسند اتحاد حکومت ملک کی معیشت کو جس مقام پر چھوڑی تھی وہ اس سے کافی نیچے آ گئی ہے۔ عالمی اقتصادی بحران کے وقت میں بھی منموہن سنگھ حکومت معیشت کو ہموار طریقے سے رفتار دینے میں کامیاب رہی تھی۔آنند شرما نے کہا کہ سابقہ حکومت کے دس سال کی مدت میں اوسط قومی شرح ترقی (جی ڈی پی) 7.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ ملک کی جی ڈی پی میں ایک دہائی میں چار گنا اضافہ ایک تاریخی حصولیابی تھی لیکن موجودہ حکومت میں جی ڈی پی 7.1 یا 7.2 ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس حکومت کے دوران بینک کمزور ہوئے ہیں اور ان کی غیر منفعتی پراپرٹی (این پی اے) 11 کروڑ لاکھ سے اوپر ہو گئی ہے۔ ملک میں مسلسل روزگار کے مواقع گھٹ رہے ہیں۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ ملک کا مالی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی برآمدات کی شرح میں بھی مسلسل گروٹ آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی صرف بڑبولے پن میں یقین رکھتے ہیں، انہیں حقیقت سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم ملک کو مسلسل گمراہ کر رہے ہیں۔ ایک طرف معیشت کی حالت خستہ ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف وزیر اعظم اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی ملک کی معیشت کو دنیا کی سب سے تیز معیشت بتا کر لوگوں میں الجھن پیدا کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم مسلسل جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔سابق وزیر تجارت و صنعت شرما نے کہا کہ وزیر اعظم کے نوٹ بندی کے فیصلے سے نہ صرف فیکٹری بند ہوئی بلکہ کروڑوں لوگوں کی نوکری چلی گئی۔ نوٹ بندی کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کئے گئے اور اس کے فوائد گنائے گئے۔
، لیکن سب ناکام ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی مصنوعات و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کو جس طرح پیچیدہ بنا کرلاگو کیا گیا ہے اس سے ملک کے لوگوں کی پریشانیاں بڑھی ہیں۔انہوں نے مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ لوگوں کو بینکوں میں پیسہ رکھنے پر اعتماد نہیں ہے۔ لوگوں کو اب ایسا لگنے لگا کہ بینکوں میں ان کا پیسہ محفوظ نہیں ہے۔مودی نے 2014 میں کہا تھا کہ ان کے وزیر اعظم بننے پر ایک ڈالر 40 روپے کے برابر ہو جائے گا لیکن صورتحال اس کے برعکس ہوگئی ہے، اور حالت بدتر ہو تی چلی جارہی ہے اور ایک ڈالر 70 روپے کا ہو گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مودی حکومت کی ناکامی کا ہی کھلا ثبوت ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close