تعلیم

مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن کے انتخابات

ڈاکٹر ریحان ملک، صدر، محمد مصطفی علی سروری، نائب صدر اور بونتو کوٹیا، سکریٹری منتخب

حیدرآباد:ملک کی سنٹرل یونیورسٹیز کو اس وقت سنگین مسائل کا سامنا ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں کے بجٹ میں کٹوتی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر بی ایل ریڈی نے کیا جو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی ٹیچرس اسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ وہ کل مولانا آزاد نیشنل ارو یونیورسٹی کی دسویں منتخبہ اساتذہ کی انجمن کی حلف برداری کی تقریب میں بحیثیت مہمانِ خصوصی مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے طلبہ ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان لوگوں سے زائد فیس کا مطالبہ کرنا ان کو ترک تعلیم پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ اس پس منظر میں اساتذہ کی تنظیموں کو یونیورسٹی انتظامیہ اور یو جی سی کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر جی یل ریڈی نے واضح کردیا کہ ٹیچرس یونین کا اہم مقصد مسائل کی یکسوئی کے لیے راستہ تلاش کرنا ہے نہ کہ انتظامیہ کے ساتھ تصادم کی راہ اپنانا ہے۔ انھوں نے یونیورسٹی اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی یونیورسٹیوں کے ایکٹ اور دیگر قوانین سے کما حقہ واقفیت حاصل کریں اور پھر اُسکے دائرے کار میں رہتے ہوئے ہر ممکنہ نمائندگی کریں۔ قبل ازیں دسویں مانوٹا کے انتخابات کے لیے تشکیل کردہ الیکشن کمیشن کے نگران اعلیٰ ڈاکٹر ایچ علیم باشاہ نے نو منتخبہ مانو ٹیچرس اسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے نظامت فاصلاتی تعلیم کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ملک ریحان احمد، محمد مصطفےٰ علی سروری ، اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ترسیل عامہ وصحافت کو نائب صدر، ڈاکٹر بونتو کوٹیا، اسسٹنٹ پروفیسر کمپیوٹر سائنس کو جنرل سکریٹری، ڈاکٹر ناگیشور راو¿، اسسٹنٹ پروفیسر، البیرونی مرکز کو جوائنٹ سکریٹری آرگنائزنگ اور کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ کے ہی احمد طلحہ صدیقی کو بطور خازن مانوٹا کا حلف دلوایا اور اُن سب کو کمیشن کی جانب سے صداقت نامہ انتخاب حوالے کیا۔ سبکدوش صدر مانوٹا ڈاکٹر جنید ذاکر نے تقریب حلف برداری میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے انہیں چار مرتبہ صدارت کی ذمہ داری سونپی جس کو انھوں نے پوری دیانتداری سے نبھانے کی کوشش کی۔ دسویں مانوٹا کے نو منتخبہ صدر ڈاکٹر ملک ریحان احمد نے عہدہ صدارت کا حلف لینے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ اردو یونیورسٹی کی اساتذہ برادری کے تمام تر مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کریں گے۔ ڈاکٹر ریحان ملک نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیچرس یونین کے پلیٹ فارم کا تعمیری انداز میں بھرپور استعمال کریں اور اتحاد و اتفاق سے آگے کی سمت بڑھنے کے لیے توانائی فراہم کریں۔ قبل ازین نو منتخبہ مانوٹا کی تقریب حلف برداری کے آغاز میں اسسٹنٹ پروفیسر امان عبید نے قرآت کلام پاک پیش کی۔ رکن مانوٹا الیکشن کمیشن ڈاکٹر مقبول احمد نے خیر مقدمی کلمات کہے اور تقریب میں نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ ڈاکٹر ایچ علیم باشاہ، چیئرپرسن الیکشن کمیٹی نے کمیشن کی جانب سے رپورٹ پیش کی اور رکن الیکشن کمیٹی ستیش، اسسٹنٹ پروفیسر پالی ٹکنک نے شکریہ کے فرائض انجام دئیے۔ دسویں مانوٹا کی اس تقریب حلف برادری میں اساتدہ برادری کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close